گنگا سے بالو چوری کے الزام میں دو افراد گرفتار
گائے کی اسمگلنگ سے لے کر ریت کی غیر قانونی تجارت تک، ہر طرح کے غیر قانونی کاروبار کو بند کرنے کے لیے وزیرِ اعلیٰ شوبھندو ادھیکاری نے ’زیرو ٹالرنس‘ پالیسی کا اعلان کیا ہے۔ اس کے باوجود اترپاڑہ علاقے میں دن دہاڑے گنگا سے ریت چوری کیے جانے کا معاملہ سامنے آیا ہے۔ اس کے بعد پولیس نے دو افراد کو گرفتار کر لیا۔ پولیس نے اترپاڑہ کے شیو مندر کے قریب واقع ایک گھاٹ سے دونوں کو گرفتار کیا۔ گرفتار افراد کے قبضے سے ایک کشتی اور 4,000 مکعب فٹ سفید ریت ضبط کی گئی۔ تفتیش کاروں کا دعویٰ ہے کہ آنے والے دنوں میں اس معاملے میں مزید کارروائیاں کی جائیں گی۔
الزام ہے کہ نگرانی سے بچ کر گنگا میں بھاٹا کے وقت ریت نکالی جا رہی تھی۔ حالانکہ انتظامیہ پہلے ہی گنگا سے غیر قانونی طور پر ریت نکالنے پر پابندی عائد کر چکی تھی۔ اس کے باوجود ریت نکالے جانے کا الزام ہے۔ پولیس ذرائع کے مطابق، گنگا کے کنارے کشتی لگا کر ریت نکالی جاتی تھی۔ بعد میں چھوٹی گاڑیوں کے ذریعے اسے اسمگل کیا جاتا تھا۔
چندن نگر پولیس کمشنریٹ میں بھی اس سے پہلے ریت کی چوری کے حوالے سے شکایات درج کرائی گئی تھیں۔ کچھ دنوں تک یہ کام بند رہا، لیکن الزام ہے کہ دوبارہ گنگا سے ریت نکالنے کا سلسلہ شروع ہو گیا تھا۔ اس سلسلے میں شکایت ملتے ہی پولیس انتظامیہ حرکت میں آگئی اور چھاپہ مار کر دو افراد کو گرفتار کر لیا۔ گرفتار افراد کے نام کندن سہانی اور لکشمن سہانی ہیں۔ ان پر گنگا سے سفید ریت چوری کرنے کا الزام ہے۔گرفتار افراد کا دعویٰ ہے کہ اترپاڑہ کے رہنے والے ارجن چودھری نے انہیں یہ کام سونپا تھا۔ ان کا یہ بھی کہنا ہے کہ ریت نکالنے کی اجازت اور اس سے متعلق سرکاری دستاویزات ارجن کے پاس موجود ہیں۔
دوسری جانب اترپاڑہ کے رکن اسمبلی دیپانجن چکرورتی نے کہا، ”مجھے ریت کی چوری کے بارے میں معلوم نہیں تھا۔ تاہم، ہم نے زیرو ٹالرنس کی پالیسی اپنائی ہے۔ آئندہ پانچ برسوں میں اس طرح کے کام نہیں ہونے دیں گے۔ اس واقعے کے بارے میں پولیس کے اعلیٰ افسران سے بات کروں گا۔“رکن اسمبلی نے مزید بتایا کہ پولیس اس بات کی بھی جانچ کر رہی ہے کہ کن لوگوں کی سرپرستی میں غیر قانونی طور پر ریت چوری کا کاروبار چل رہا ہے۔گنگا سے بالو چوری کے الزام میں دو افراد گرفتار
گائے کی اسمگلنگ سے لے کر ریت کی غیر قانونی تجارت تک، ہر طرح کے غیر قانونی کاروبار کو بند کرنے کے لیے وزیرِ اعلیٰ شوبھندو ادھیکاری نے ’زیرو ٹالرنس‘ پالیسی کا اعلان کیا ہے۔ اس کے باوجود اترپاڑہ علاقے میں دن دہاڑے گنگا سے ریت چوری کیے جانے کا معاملہ سامنے آیا ہے۔ اس کے بعد پولیس نے دو افراد کو گرفتار کر لیا۔ پولیس نے اترپاڑہ کے شیو مندر کے قریب واقع ایک گھاٹ سے دونوں کو گرفتار کیا۔ گرفتار افراد کے قبضے سے ایک کشتی اور 4,000 مکعب فٹ سفید ریت ضبط کی گئی۔ تفتیش کاروں کا دعویٰ ہے کہ آنے والے دنوں میں اس معاملے میں مزید کارروائیاں کی جائیں گی۔
الزام ہے کہ نگرانی سے بچ کر گنگا میں بھاٹا کے وقت ریت نکالی جا رہی تھی۔ حالانکہ انتظامیہ پہلے ہی گنگا سے غیر قانونی طور پر ریت نکالنے پر پابندی عائد کر چکی تھی۔ اس کے باوجود ریت نکالے جانے کا الزام ہے۔ پولیس ذرائع کے مطابق، گنگا کے کنارے کشتی لگا کر ریت نکالی جاتی تھی۔ بعد میں چھوٹی گاڑیوں کے ذریعے اسے اسمگل کیا جاتا تھا۔
چندن نگر پولیس کمشنریٹ میں بھی اس سے پہلے ریت کی چوری کے حوالے سے شکایات درج کرائی گئی تھیں۔ کچھ دنوں تک یہ کام بند رہا، لیکن الزام ہے کہ دوبارہ گنگا سے ریت نکالنے کا سلسلہ شروع ہو گیا تھا۔ اس سلسلے میں شکایت ملتے ہی پولیس انتظامیہ حرکت میں آگئی اور چھاپہ مار کر دو افراد کو گرفتار کر لیا۔ گرفتار افراد کے نام کندن سہانی اور لکشمن سہانی ہیں۔ ان پر گنگا سے سفید ریت چوری کرنے کا الزام ہے۔گرفتار افراد کا دعویٰ ہے کہ اترپاڑہ کے رہنے والے ارجن چودھری نے انہیں یہ کام سونپا تھا۔ ان کا یہ بھی کہنا ہے کہ ریت نکالنے کی اجازت اور اس سے متعلق سرکاری دستاویزات ارجن کے پاس موجود ہیں۔
دوسری جانب اترپاڑہ کے رکن اسمبلی دیپانجن چکرورتی نے کہا، ”مجھے ریت کی چوری کے بارے میں معلوم نہیں تھا۔ تاہم، ہم نے زیرو ٹالرنس کی پالیسی اپنائی ہے۔ آئندہ پانچ برسوں میں اس طرح کے کام نہیں ہونے دیں گے۔ اس واقعے کے بارے میں پولیس کے اعلیٰ افسران سے بات کروں گا۔“رکن اسمبلی نے مزید بتایا کہ پولیس اس بات کی بھی جانچ کر رہی ہے کہ کن لوگوں کی سرپرستی میں غیر قانونی طور پر ریت چوری کا کاروبار چل رہا ہے۔
گنگا سے بالو چوری کے الزام میں دو افراد گرفتار...
Source: Admin
Comment
Your View
We'd love to hear your perspective on this article. Join the conversation and share your thoughts below!
Post your comment
0 CommentsNo comments