International

آبنائے ہرمز میں 10 آئل ٹینکروں کو نقصان پہنچا: پاسدارانِ انقلاب

آبنائے ہرمز میں 10 آئل ٹینکروں کو نقصان پہنچا: پاسدارانِ انقلاب

ایرانی پاسدارانِ انقلاب نے منگل کی شام اعلان کیا کہ دس سے زائد تیل بردار جہازوں نے وارننگ پر عمل نہیں کیا، جس کے بعد وہ مختلف نوعیت کے گولوں کی زد میں آ کر متاثر ہوئے اور ان میں آگ بھڑک اٹھی۔ ایرانی پاسدارانِ انقلاب کی بحریہ کے سیاسی معاون محمد اکبر زادہ نے کہا ہے کہ ایران کی جانب سے آبنائے ہرمز میں ''آمد و رفت پر پابندی'' کے اعلان کے بعد اس گزرگاہ سے تیل بردار، تجارتی اور ماہی گیری کے جہازوں کا گزرنا ممکن نہیں رہا۔ انہوں نے وضاحت کی کہ پاسدارانِ انقلاب کی بحریہ کی جانب سے عالمی نیویگیشن نیٹ ورک پر ایک پیغام نشر کیا گیا، جس میں بتایا گیا کہ آبنائے ہرمز ابتدا سے انتہا تک جنگی حالات کی زد میں ہے اور کسی بھی جہاز کو آوارہ میزائلوں یا ڈرونز سے نقصان پہنچنے کا خدشہ موجود ہے، لہٰذا اس حدود میں جہازوں کو گزرنے سے گریز کرنا چاہیے۔ انہوں نے مزید کہا کہ پاسدارانِ انقلاب کی بحریہ کی جانب سے آبنائے ہرمز کو غیر محفوظ قرار دینے سے متعلق بار بار انتباہ کے باوجود 10 تیل بردار جہاز نشانہ بنے اور متاثر ہوئے۔ ان کا کہنا تھا کہ ایران نے ہمیشہ کشیدگی کم کرنے کی پالیسی اپنائی اور خلیج، خطے اور دنیا میں امن و استحکام کے قیام کی کوشش کی، تاہم ان کے بقول اس جنگ کے آغاز کے ساتھ ہی امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور اسرائیلی وزیر اعظم بنیامین نیتن یاہو کے اقدامات نے خطے میں عدم استحکام اور عالمی معیشت میں بے یقینی کو جنم دیا۔ یہ بیان اس وقت سامنے آیا جب منگل کو ٹرمپ نے اعلان کیا کہ انہوں نے امریکی بین الاقوامی ترقیاتی مالیاتی کارپوریشن کو خلیج سے گزرنے والی بحری تجارت کے لیے سیاسی خطرات کے خلاف انشورنس خدمات اور مالی ضمانتیں فراہم کرنے کی ہدایت جاری کی ہے۔ انہوں نے یہ بھی اشارہ دیا کہ ضرورت پڑنے پر امریکی بحریہ آبنائے ہرمز سے گزرنے والے آئل ٹینکروں کو حفاظتی حصار فراہم کر سکتی ہے۔ ٹرمپ نے سوشل میڈیا پر ایک پوسٹ میں کہا:جو بھی ہو، امریکہ دنیا تک توانائی کی آزادانہ ترسیل کو یقینی بنائے گااور عندیہ دیا کہ بعد میں مزید اقدامات بھی کیے جا سکتے ہیں۔

Source: social media

Post
Send
Kolkata Sports Entertainment

Please vote this article

0 Responses
Best Rating Best
Good Rating Good
Okay Rating Okay
Bad Rating Bad

Related Articles

Post your comment

0 Comments

No comments