آبنائے ہرمز دنیا میں توانائی کے شعبے کے لیے اہم ترین بحری راستوں میں سے ایک ہے۔ اس بحری راستے سے روزانہ تقریباً 2 کروڑ بیرل تیل گزرتا ہے جو عالمی کھپت کا تقریباً 20 فیصد بنتا ہے۔ اس کے علاوہ خاص طور پر قطر سے بڑی مقدار میں مائع قدرتی گیس (ایل این جی) بھی اس آبنائے کے ذریعے ہی ایشیائی منڈیوں کو بھیجی جاتی ہے۔ اس گزرگاہ میں کسی بھی قسم کی رکاوٹ براہِ راست تیل کی قیمتوں اور عالمی سپلائی کے استحکام کو متاثر کرتی ہے۔ عرب نیوز میں شائع ہونے والی ایک رپورٹ کے مطابق گزشتہ برس2025 کے دوران ایران اور اسرائیل کے درمیان بڑھتی ہوئی فوجی کشیدگی کے باعث آبنائے ہرمز میں بحری نقل و حرکت کی سکیورٹی کے حوالے سے خدشات بڑھ گئے۔ اس کے بعد جوابی حملے اور دھمکیاں سامنے آئیں جن کا ہدف توانائی کے بنیادی ڈھانچے اور بحری راستے تھے۔ جب یہ کشیدگی خلیج کے پورے خطے میں پھیلنے لگی تو تجارتی جہازوں اور تیل بردار ٹینکروں کے لیے خطرات میں نمایاں اضافہ ہوا۔ اس کے نتیجے میں شپنگ اور انشورنس کمپنیوں نے زیادہ احتیاط برتنا شروع کر دی یا بعض جہازوں کو دوسرے راستوں پر منتقل کر دیا۔ ان پیش رفتوں نے عالمی منڈیوں کو تشویش میں مبتلا کر دیا کیونکہ یہ آبنائے صرف ایک عام بحری راستہ نہیں بلکہ عالمی توانائی کا ایک اہم مقام ہے۔ اس پر عراق، کویت، متحدہ عرب امارات اور سعودی عرب جیسے خلیجی ممالک کی تیل برآمدات کا بڑا انحصار ہے۔ الاقتصادیہ کے فنانشل اینالسس یونٹ کے مطابق اگر اس آبنائے کے ذریعے تیل کی آمد و رفت مکمل طور پر رُک جائے تو بھی دنیا کی توانائی کی کھپت فوراً بند نہیں ہو گی کیونکہ بڑے ممالک ہنگامی حالات کے لیے تجارتی اور سٹریٹجک تیل کے ذخائر رکھتے ہیں۔ انٹرنیشنل انرجی ایجنسی کے مطابق او ای سی ڈی کے 38 ممالک کے پاس اکتوبر کے آخر تک قریباً 2.83 ارب بیرل تیل کے ذخائر موجود تھے۔ اوپیک کی ایک رپورٹ کے مطابق ان ممالک کی موجودہ کھپت کے حساب سے یہ ذخائر قریباً 61.8 دن تک کی ضروریات پوری کر سکتے ہیں۔ چند ممالک میں یہ ذخائر زیادہ ہیں۔ مثال کے طور پر امریکہ کے پاس دنیا میں سب سے بڑے تجارتی اور سٹریٹجک تیل کے ذخائر میں سے ایک موجود ہیں، جن کا اندازہ قریباً 1.68 ارب بیرل لگایا جاتا ہے۔ ان ذخائر پر اگر مکمل طور پر انحصار کیا جائے تو صرف خام تیل کے ذخائر قریباً 50 سے 53 دن تک چل سکتے ہیں، تاہم حقیقی سپلائی کا انحصار اس بات پر ہے کہ زیادہ سے زیادہ کتنی مقدار نکالی جا سکتی ہے۔ چین کے پاس تیل کے ایک اعشاریہ 2 ارب بیرل سے زیادہ کے ذخائر ہیں جو قریباً تین ماہ تک کافی ہو سکتے ہیں، جبکہ جاپان کے پاس اتنا ذخیرہ موجود ہے جو اس کی200 دن سے زیادہ کی ضرورت پورا کر سکتا ہے۔ ان بڑے ذخائر کے باوجود یہ طویل عرصے تک اس تیل کی مکمل جگہ نہیں لے سکتے جو روزانہ آبنائے ہرمز سے گزرتا ہے، کیونکہ اس راستے سے روزانہ قریباً 2 کروڑ بیرل تیل اور پیٹرولیم مصنوعات منتقل ہوتی ہیں۔ اگر یہ سپلائی مکمل طور پر رُک جائے تو ابتدا میں عالمی ذخائر استعمال کر کے اس کمی کا ایک بڑا حصہ پورا کیا جا سکتا ہے۔ تاہم یہ اقدام غالباً صرف چند ماہ تک ہی ریلیف فراہم کرے گا، جس کے بعد منڈیوں کو سپلائی کے دباؤ اور قیمتوں میں شدید اضافے کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔ وہ عوامل جو بحران کو کم کر سکتے ہیں کچھ عوامل ایسے ہیں جو آبنائے میں کسی بھی رکاوٹ کے اثرات کو کم کر سکتے ہیں۔ سب سے پہلے متبادل پائپ لائنیں ہیں جو آبنائے کو بائی پاس کرتی ہیں، جیسے سعودی عرب کی وہ پائپ لائن جو مشرقی علاقے سے تیل کو بحیرۂ احمر تک پہنچاتی ہے۔ بعض ممالک کے پاس اضافی پیداواری صلاحیت بھی موجود ہے جو کسی حد تک کمی کو پورا کر سکتی ہے۔ علاوہ ازیں صنعتی ممالک انٹرنیشنل انرجی ایجنسی کے ذریعے سٹریٹجک ذخائر سے تیل نکالنے کے لیے مشترکہ حکمتِ عملی بھی اپنا سکتے ہیں جیسا کہ ماضی میں اس نوعیت کے بحرانوں کے دوران کیا جا چکا ہے۔
Source: social media
آج شب چاند عین خانہ کعبہ کے اوپر ہوگا
امریکی صدر ٹرمپ کا چینی صدر کو طنز بھرا پیغام
غزہ امن معاہدے پر امریکا، قطر، ترکیہ اور مصر نے دستخط کر دیے
افغانستان میں زلزلے سے سینکڑوں افراد کی ہلاکت کا خدشہ ہے: طالبان حکومت
افغانستان میں زلزلے سے 800 سے زیادہ افراد ہلاک، ہزاروں زخمی
نیپال میں پولیس کی فائرنگ سے 20 مظاہرین ہلاک، 350 زخمی، وزیر داخلہ مستعفی
افغانستان میں زلزلے سے 800 سے زیادہ افراد ہلاک، ہزاروں زخمی
نیپال میں پولیس کی فائرنگ سے 20 مظاہرین ہلاک، 350 زخمی، وزیر داخلہ مستعفی
سلامتی کونسل میں صدر ٹرمپ کے غزہ منصوبے کی حمایت میں قرارداد منظور
گوگل کا اسرائیلی پروپیگنڈا کو فروغ دینے کیلیے کروڑوں ڈالر کا معاہدہ