ایران پر امریکی اور اسرائیلی جنگ کے مسلط کیے جانے کے بعد آبنائے ہرمز میں کشیدگی اور خوف کی فضا میں غیر معمولی اضافہ ہو گیا ہے۔ کئی جہازوں کو نشانہ بنایا جا چکا ہے۔ جس کے نتیجے میں آبنائے ہرمز سے تیل کی نقل و حمل مشکل ہو چکی ہے۔ تیل بردار ٹینکرز کی آمد و رفت سے متعلق ادارے کا کہنا ہے کہ پچھلے چار دنوں کے دوران آئل ٹینکرز کی تعداد میں 90 فیصد کمی ہوگئی ہے۔ اس ادارے نے یہ بات سوشل میڈیا پلیٹ فارم 'ایکس' پر کہی ہے۔ ایرانی فوجی حکام کا دعویٰ ہے کہ انہوں نے تیل برداری کے لیے اس اہم راستے کو جنگ کی وجہ سے اپنے دشمن ملکوں کے جہازوں کو نشانہ بنانا شروع کیا ہے۔ خیال رہے دنیا بھر کے لیے تیل کی ترسیل کا 20 فیصد حصہ اسی آبنائے ہرمز سے جاتا ہے۔ تاہم اب بین الاقوامی انٹیلی جنس ذرائع کے مطابق تیل کی نقل و حمل میں کافی کمی آگئی ہے۔ مختلف ممالک نے تیل کی نقل و حمل میں مشکلات اور خطرات کے پیش نظر تیل کی پیداوار میں بھی کمی کا اعلان کرنا شروع کر دیا ہے۔ اس میں عراق سب سے نمایاں ہے۔ تیل کی نقل و حمل سے متعلق ماہر میٹ رائٹ کے مطابق آبنائے ہرمز کی صورتحال دگرگوں ہے۔ خیال رہے نیچرل گیس کی بھی ترسیل کے لیے آبنائے ہرمز ایک اہم اور بڑا راستہ ہے۔ جہاں سے یورپ و مشرق وسطیٰ کے درمیان نقل و حمل ممکن ہوتی ہے۔ تاہم قطر نے حالیہ ایرانی میزائل حملوں کے بعد گیس کی پیداوار کو روک دیا ہے۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا تھا ان کے ملک کی بحریہ آئل ٹینکرز کو تحفظ دینے کے لیے تیار ہے۔ تاہم بڑی تجارتی کمپنیوں نے اعلان کیا ہے کہ وہ اپنی کشتیوں کو آبنائے ہرمز کی طرف روانہ نہیں کریں گے۔
Source: social media
آج شب چاند عین خانہ کعبہ کے اوپر ہوگا
امریکی صدر ٹرمپ کا چینی صدر کو طنز بھرا پیغام
غزہ امن معاہدے پر امریکا، قطر، ترکیہ اور مصر نے دستخط کر دیے
افغانستان میں زلزلے سے سینکڑوں افراد کی ہلاکت کا خدشہ ہے: طالبان حکومت
افغانستان میں زلزلے سے 800 سے زیادہ افراد ہلاک، ہزاروں زخمی
نیپال میں پولیس کی فائرنگ سے 20 مظاہرین ہلاک، 350 زخمی، وزیر داخلہ مستعفی
افغانستان میں زلزلے سے 800 سے زیادہ افراد ہلاک، ہزاروں زخمی
نیپال میں پولیس کی فائرنگ سے 20 مظاہرین ہلاک، 350 زخمی، وزیر داخلہ مستعفی
سلامتی کونسل میں صدر ٹرمپ کے غزہ منصوبے کی حمایت میں قرارداد منظور
گوگل کا اسرائیلی پروپیگنڈا کو فروغ دینے کیلیے کروڑوں ڈالر کا معاہدہ