International

عراقی کردستان سے جنگجو داخل ہوئے تو ایران کرد علاقے کو نشانہ بنائے گا: ڈیفنس کونسل

عراقی کردستان سے جنگجو داخل ہوئے تو ایران کرد علاقے کو نشانہ بنائے گا: ڈیفنس کونسل

اگر جنگجوؤں کو ایران میں داخل کرنے کی کوشش کی گئی تو ایران عراقی کردستان کے علاقے کو نشانہ بنائے گا۔ ایران کی طرف سے یہ انتباہ جمعہ کے روز کیا گیا ہے۔ دھمکی میں کہا گیا ہے کہ اب تک صرف امریکی فوجی اڈوں، اسرائیل اور علاقے میں علیحدگی پسند گروپوں کو ٹارگیٹ کیا گیا ہے۔ یہ بات ایران کی ڈیفنس کونسل کی طرف سے جاری کیے گئے ایک بیان میں کہی گئی ہے۔ جسے سرکاری خبر رساں ادارے 'مہر نیوز ایجنسی' نے رپورٹ کیا ہے۔ ڈیفنس کونسل کے اس بیان میں خبردار کیا گیا ہے کہ اگر ایران کے خلاف سازشی منصوبے جاری رکھے گئے اور جنگجوؤں کو ایران میں داخل کرنے کی کوشش کی گئی تو عراق میں کردستان ریجن کے تمام اہداف نشانے پر ہوں گے۔ جمعرات کے روز صدر ٹرمپ نے کہا تھا کہ وہ ایرانی کردوں کی طرف سے ایران پر ہونے والے ایسے کسی بھی حملوں کی حمایت کریں گے جو امریکی و اسرائیلی جنگ کی حمایت میں ہوگا۔ صدر ٹرمپ نے 'روئٹرز' کو انٹرویو دیتے ہوئے ایک سوال کے جواب میں کہا میرے خیال میں کردوں کا ایران پر حملہ بہت زبردست رہے گا۔ ان سے پوچھا گیا تھا کیا وہ کردوں کو ایران پر حملوں کے لیے اپنی پیشکش کریں گے اور انہیں کور بھی دیں گے۔ اس پر انہوں نے جواب دیا میں آپ کو بتا نہیں سکتا لیکن کردوں کا مقصد کامیابی ہوگا۔ اگر وہ ایسا کرنے والے ہیں تو یہ بہت اچھا ہے۔ یہ بھی معلوم ہوا ہے کہ ایران سے تعلق رکھنے والے کرد جنگجووں نے امریکہ سے حال ہی میں مشورہ کیا تھا کہ انہیں ایران کے مغربی علاقوں میں اب حملہ کرنا چاہیے یا ابھی نہیں۔ اس بات کی تین مختلف ذرائع نے تصدیق کی ہے۔ ایرانی کردوں کے اتحاد پر مبنی گروپوں نے عراق اور ایرانی سرحدوں کے نزدیک نیم خودمختار علاقے قائم کر رکھے ہیں، اسے کردستان کا علاقہ قرار دیا جاتا ہے۔ انہیں ایسے حملے کرنے کے لیے تربیت بھی دی جاتی ہے۔ ہفتہ کے روز سے امریکہ و اسرائیل ایران پر حملے کر رہے ہیں۔ جبکہ ایران کے بارے میں کہا جا رہا ہے کہ وہ کردوں کے گروپوں کو نشانہ بنا رہا ہے۔ ایران کے خیال میں وہ امریکہ اور اسرائیل کے مفادات کے لیے کام کرتے ہیں۔

Source: social media

Post
Send
Kolkata Sports Entertainment

Please vote this article

0 Responses
Best Rating Best
Good Rating Good
Okay Rating Okay
Bad Rating Bad

Related Articles

Post your comment

0 Comments

No comments