عراقی حکومت نے صدام حسین کے ساتھی میجر جنرل سعدون صبری جمیل القیسی کو پھانسی دے دی۔ بغداد سے عرب میڈیا کے مطابق میجر جنرل سعدون القیسی انسانیت سوز جرائم میں ملوث پائے گئے۔ عراق کی نیشنل سیکیورٹی سروس کے مطابق جنرل القیسی نے 1980 میں ممتاز عالم محمد باقر الصدر اور ان کی بہن بنت الہٰدی کو پھانسی دی تھی۔ نیشنل سیکیورٹی سروس کے مطابق جنرل القیسی عراق کے مذہبی الحکیم خاندان کے متعدد ارکان سمیت دعوت اسلامی کے درجنوں رہنماؤں اور کارکنوں کے قتل میں ملوث تھے۔ میجر جنرل سعدون القیسی کو منصفانہ عدالتی کارروائی کے بعد پیر کو پھانسی دی گئی۔ وہ 2003 میں صدام حسین حکومت کےخاتمے کے بعد شام فرار ہوگئے تھے جس کے بیس برس بعد وہ فروری 2023 میں عراق کے شہر اربیل چلے گئے۔ جہاں چند ماہ بعد انھیں گرفتار کرلیا گیا۔ القیسی صدام دور میں اعلیٰ عہدوں پر فائز رہے، جن میں ریاستی سلامتی کے ڈائریکٹر اور ساحلی شہر بصرہ اور نجف میں ڈائریکٹر آف سیکیورٹی کا عہدہ بھی سنبھالا تھا۔
Source: social media
آج شب چاند عین خانہ کعبہ کے اوپر ہوگا
امریکی صدر ٹرمپ کا چینی صدر کو طنز بھرا پیغام
غزہ امن معاہدے پر امریکا، قطر، ترکیہ اور مصر نے دستخط کر دیے
افغانستان میں زلزلے سے سینکڑوں افراد کی ہلاکت کا خدشہ ہے: طالبان حکومت
افغانستان میں زلزلے سے 800 سے زیادہ افراد ہلاک، ہزاروں زخمی
نیپال میں پولیس کی فائرنگ سے 20 مظاہرین ہلاک، 350 زخمی، وزیر داخلہ مستعفی
افغانستان میں زلزلے سے 800 سے زیادہ افراد ہلاک، ہزاروں زخمی
نیپال میں پولیس کی فائرنگ سے 20 مظاہرین ہلاک، 350 زخمی، وزیر داخلہ مستعفی
سلامتی کونسل میں صدر ٹرمپ کے غزہ منصوبے کی حمایت میں قرارداد منظور
گوگل کا اسرائیلی پروپیگنڈا کو فروغ دینے کیلیے کروڑوں ڈالر کا معاہدہ