ایران کے قریب سمجھی جانے والی شیعہ جماعتوں پر مشتمل اور عراقی پارلیمنٹ کے سب سے بڑے بلاک "کوآرڈینیشن فریم ورک" نے نوری المالکی کو وزیراعظم کے عہدے کے لیے نامزد کرنے کا اعلان کردیا۔ اتحاد نے ایک بیان میں کہا کہ گہری اور طویل مشاورت کے بعد کوآرڈینیشن فریم ورک نے اکثریت کے ساتھ جناب نوری المالکی کو سب سے بڑے پارلیمانی بلاک کے امیدوار کے طور پر وزیراعظم کے عہدے کے لیے نامزد کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ اس کی بنیاد ان کا سیاسی و انتظامی تجربہ اور ریاست کو چلانے میں ان کا کردار ہے۔ نوری المالکی اس سے قبل 2006 سے 2014 کے درمیان دو مدتوں کے لیے حکومت کے سربراہ رہ چکے ہیں، جس دوران عراق کی جدید تاریخ کے اہم واقعات پیش آئے۔ اسی دوران امریکی افواج کا انخلاء، فرقہ وارانہ خانہ جنگی اور ملک کے شمالی و مغربی حصوں کے وسیع علاقوں پر داعش کا قبضہ ہوا تھا۔
Source: social media
آج شب چاند عین خانہ کعبہ کے اوپر ہوگا
امریکی صدر ٹرمپ کا چینی صدر کو طنز بھرا پیغام
غزہ امن معاہدے پر امریکا، قطر، ترکیہ اور مصر نے دستخط کر دیے
افغانستان میں زلزلے سے سینکڑوں افراد کی ہلاکت کا خدشہ ہے: طالبان حکومت
افغانستان میں زلزلے سے 800 سے زیادہ افراد ہلاک، ہزاروں زخمی
نیپال میں پولیس کی فائرنگ سے 20 مظاہرین ہلاک، 350 زخمی، وزیر داخلہ مستعفی
افغانستان میں زلزلے سے 800 سے زیادہ افراد ہلاک، ہزاروں زخمی
نیپال میں پولیس کی فائرنگ سے 20 مظاہرین ہلاک، 350 زخمی، وزیر داخلہ مستعفی
سلامتی کونسل میں صدر ٹرمپ کے غزہ منصوبے کی حمایت میں قرارداد منظور
گوگل کا اسرائیلی پروپیگنڈا کو فروغ دینے کیلیے کروڑوں ڈالر کا معاہدہ