مجمع تشخیص مصلحت نظام کے ترجمان محسن دہنوی نے آیت اللہ علی رضا اعرافی کو عبوری قیادت کونسل میں مجلس خبرگان رهبری کے فقہی عہدے کے رکن کے طور پر منتخب کرنے کا اعلان کیا ہے۔ علی خامنہ ای کے قتل کے بعد صدر، عدلیہ کے سربراہ اور گارڈین کونسل کے ایک فقیہ کو ممبر کے طور پر ایک عارضی لیڈرشپ کونسل تشکیل دی جائے گی۔ ایرانی آئین کے آرٹیکل 111 کے مطابق رہبرِ اعلیٰ کی موت، استعفے یا برطرفی کی صورت میں ملک کے صدر، عدلیہ کے سربراہ اور نگہبان شوریٰ کے ایک رکن رہبرِ اعلیٰ کی ذمہ داریاں اٹھاتے ہیں۔ آئین کے اس آرٹیکل کے مطابق اگر ان تین افراد میں سے کوئی ان ذمہ داریوں سے معذوری کا اظہار کرے تو پھر ان کی جگہ ’مجمع تشخیص مصلحت نظام‘ (فقہا کی اکثریت) ان کی جگہ نیا رکن مقرر کرے گی۔ اس کے بعد مرحلہ رہبرِ اعلیٰ کی تقرری کا آتا ہے۔ اس عہدے کے لیے کسی شخصیت کا انتخاب مجلس خبرگان رهبری کرتی ہے۔ یہ 88 فقہا کی ایک اسمبلی ہے، جس کے اراکین کا انتخاب ہر آٹھ برس کے بعد ہوتا ہے۔ تاہم اس انتخاب سے قبل جانچ پڑتال کا کام نگہبان شوریٰ سرانجام دیتی ہے، جس میں سنہ 2024 میں خامنہ ای کے وفادار تمام نشستیں حاصل کرنے میں کامیاب ہوئے تھے۔ مجلس خبرگان رهبری کو ’جتنی جلدی ممکن ہو سکے‘ رہبرِ اعلیٰ کا انتخاب کرنا ہوتا ہے لیکن اس کے لیے معیاد کا تعین نہیں کیا گیا ہے۔ اگر مجلس خبرگان رهبری دو تہائی اکثریت سے کسی کو رہبرِ اعلیٰ منتخب نہیں کرتی تو پھر تکنیکی طور پر عبوری کونسل ہی رہبرِ اعلیٰ کی ذمہ داریاں اُٹھاتی ہے۔
Source: scoial media
آج شب چاند عین خانہ کعبہ کے اوپر ہوگا
امریکی صدر ٹرمپ کا چینی صدر کو طنز بھرا پیغام
غزہ امن معاہدے پر امریکا، قطر، ترکیہ اور مصر نے دستخط کر دیے
افغانستان میں زلزلے سے سینکڑوں افراد کی ہلاکت کا خدشہ ہے: طالبان حکومت
افغانستان میں زلزلے سے 800 سے زیادہ افراد ہلاک، ہزاروں زخمی
نیپال میں پولیس کی فائرنگ سے 20 مظاہرین ہلاک، 350 زخمی، وزیر داخلہ مستعفی
افغانستان میں زلزلے سے 800 سے زیادہ افراد ہلاک، ہزاروں زخمی
نیپال میں پولیس کی فائرنگ سے 20 مظاہرین ہلاک، 350 زخمی، وزیر داخلہ مستعفی
سلامتی کونسل میں صدر ٹرمپ کے غزہ منصوبے کی حمایت میں قرارداد منظور
گوگل کا اسرائیلی پروپیگنڈا کو فروغ دینے کیلیے کروڑوں ڈالر کا معاہدہ