سعودی عرب کے وزیر خارجہ شہزادہ فیصل بن فرحان نے کہا ہے کہ یمن سے متحدہ عرب امارات (یو اے ای) کا انخلاء سعودی عرب کے ساتھ مضبوط تعلقات کے لیے ایک ’بنیادی پتھر‘ ہے جو علاقائی استحکام میں مددگار ثابت ہو گا۔ شہزادہ فیصل بن فرحان نے پیر کو پولینڈ کے دورے کے موقعے پر پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ یمن کے معاملے پر دونوں ممالک کے درمیان ’نقطہ نظر کا فرق‘ رہا ہے لیکن انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ ان کے تعلقات ’انتہائی اہم‘ ہیں۔ شہزادہ فیصل نے مزید کہا کہ ’یہ علاقائی استحکام کا ایک اہم عنصر ہے اور اسی لیے مملکت ہمیشہ جی سی سی کے اندر ایک اہم شراکت دار کے طور پر متحدہ عرب امارات کے ساتھ مضبوط اور مثبت تعلقات رکھنے کی خواہشمند رہتی ہے۔‘ ان کا کہنا تھا کہ ’ظاہر ہے جب بات یمن کی آتی ہے تو وہاں نقطۂ نظر کا فرق موجود ہے۔ متحدہ عرب امارات نے اب یمن چھوڑنے کا فیصلہ کیا ہے اور میرا خیال ہے کہ اگر واقعی ایسا ہی ہے اور متحدہ عرب امارات نے یمن کے معاملے کو مکمل طور پر چھوڑ دیا ہے، تو سعودی عرب اس کی ذمہ داری سنبھالے گا۔‘ ’میرا خیال ہے کہ یہ اس بات کو یقینی بنانے کے لیے ایک بنیادی پتھر ثابت ہو گا کہ متحدہ عرب امارات کے ساتھ تعلقات مضبوط رہیں اور نہ صرف دونوں ممالک بلکہ پورے خطے کے مفادات کے لیے کام کرتے رہیں۔‘
Source: social media
آج شب چاند عین خانہ کعبہ کے اوپر ہوگا
امریکی صدر ٹرمپ کا چینی صدر کو طنز بھرا پیغام
غزہ امن معاہدے پر امریکا، قطر، ترکیہ اور مصر نے دستخط کر دیے
افغانستان میں زلزلے سے سینکڑوں افراد کی ہلاکت کا خدشہ ہے: طالبان حکومت
افغانستان میں زلزلے سے 800 سے زیادہ افراد ہلاک، ہزاروں زخمی
نیپال میں پولیس کی فائرنگ سے 20 مظاہرین ہلاک، 350 زخمی، وزیر داخلہ مستعفی
افغانستان میں زلزلے سے 800 سے زیادہ افراد ہلاک، ہزاروں زخمی
نیپال میں پولیس کی فائرنگ سے 20 مظاہرین ہلاک، 350 زخمی، وزیر داخلہ مستعفی
سلامتی کونسل میں صدر ٹرمپ کے غزہ منصوبے کی حمایت میں قرارداد منظور
گوگل کا اسرائیلی پروپیگنڈا کو فروغ دینے کیلیے کروڑوں ڈالر کا معاہدہ