مختلف حیثیت سے بسوںمیں کام کرنے والے خواتین کو اعزاز سے نوازا جائے گا
بس کا اسٹیئرنگ سنبھالنے سے لے کر کنڈکٹر کی حیثیت سے مسافروں کے ٹکٹ کاٹنے کی ذمہ داری نبھانے تک، کولکاتا کے پبلک ٹرانسپورٹ نظام میں خواتین کی موجودگی مسلسل بڑھ رہی ہے۔ ان میں کوئی ڈرائیور ہے، کوئی کنڈکٹر، کوئی بس کی مالکن ہے تو کوئی دن بھر بس کے روٹ کی ذمہ داری سنبھالتی ہے۔ ان خواتین کے کردار کو اجاگر کرتے ہوئے اب ’بس یاترا 4.0‘ کا انعقاد ہونے جا رہا ہے۔ 2 اکتوبر کو کولکاتا بس-او-پیڈیا فاو¿نڈیشن کی جانب سے منعقد ہونے والی اس خصوصی بس یاترا میں شہر کی بس سروس کے پس پردہ کام کرنے والی خواتین کو اعزاز سے نوازا جائے گا۔
’بس یاترا‘ کا آغاز 2023 میں ہوا تھا۔ بنگال کی بس سروس کی طویل تاریخ، روایت اور موجودہ دور میں اس کی اہمیت کو اجاگر کرنا اس اقدام کا بنیادی مقصد ہے۔ اس بار اسی پروگرام میں ان خواتین کو خصوصی اہمیت دی جا رہی ہے جو ڈرائیور، کنڈکٹر، بس مالکن، ٹرانسپورٹ کارکن اور افسر کی حیثیت سے روزانہ بس سروس کو رواں رکھنے کے لیے کام کر رہی ہیں۔
تنظیم کی جانب سے بتایا گیا ہے کہ اس بار پروگرام کی خاص کشش روٹ نمبر 57 کی کونا-ایسپلینیڈ بس ہوگی۔ اس بس کی مالکن محترمہ ڈولی رانا ہیں۔ وہ صرف بس کی مالکن ہی نہیں بلکہ خود اسی بس میں کنڈکٹر کی ذمہ داری بھی انجام دیتی ہیں۔ ان کی کہانی کے ذریعے بس سروس میں خواتین کی شرکت کی تصویر پیش کی جائے گی۔
ڈائمنڈ ہاربر-کولکاتا، نِمتا-ہاوڑہ منی بس اور 34C نواپارا-ایسپلینیڈ جیسے روٹس پر بھی براہِ راست خواتین ڈرائیور نظر آتی ہیں۔ وہ بھی اس تقریب میں شریک ہوں گی اور انہیں اعزاز سے نوازا جائے گا۔ ان کے ساتھ ساتھ شہر کے مختلف روٹس پر خواتین کنڈکٹروں کا کردار بھی بتدریج اہم ہوتا جا رہا ہے۔ اس تقریب میں ویسٹ بنگال ٹرانسپورٹ کارپوریشن کی خواتین کنڈکٹروں کو بھی اعزاز دیا جائے گا۔
اس بار کی بس یاترا میں چار طرح کی بسیں شامل ہوں گی۔ ان میں ڈبلیو بی ٹی سی کی اے سی سی این جی بس شامل ہوگی۔ پہلی مرتبہ منی بس بھی اس پروگرام میں حصہ لے گی۔ روٹ نمبر 29 کی ٹِکیاآپارہ-سالٹ لیک منی بس پہلی بار ’بس یاترا‘ میں شرکت کر رہی ہے۔روٹ نمبر 57 کی کونا-ایسپلینیڈ بس بھی شامل ہوگی، جس میں بس مالکن اور کنڈکٹر ڈولی رانا کی کہانی کو نمایاں کیا جائے گا۔ روٹ نمبر 52 کی رام راجتلا-ایسپلینیڈ بس بھی دوبارہ بس یاترا میں حصہ لے رہی ہے۔ 2023 میں اس روٹ کی 100 سالہ تکمیل کا جشن منایا گیا تھا۔2 اکتوبر کو دوپہر 1 بج کر 30 منٹ پر ہاوڑہ میدان سے بس یاترا کا آغاز ہوگا۔ دوپہر کے وقت بسیں رابندر سدن پہنچیں گی۔ اس کے بعد سہ پہر 3 بج کر 40 منٹ کے بعد واپسی کا سفر شروع ہوگا۔
مختلف حیثیت سے بسوںمیں کام کرنے والے خواتین کو اعزاز سے نوازا جائے گا...
Source: Admin
Comment
Your View
We'd love to hear your perspective on this article. Join the conversation and share your thoughts below!
Post your comment
0 CommentsNo comments