شدت پسند ’قافلہ‘ سے تعلق کے شبہ میں ریاست میں 3 گرفتار
شدت پسند تنظیم ’امام محمود کی قافلہ‘ سے تعلق رکھنے کے شبہ میں تین ریاستوں میں قومی تحقیقاتی ایجنسی (این آئی اے) کی تلاشی مہم کے دوران مغربی بنگال سے تین افراد کو گرفتار کیا گیا ہے۔
منگل کی صبح سویرے سے این آئی اے کے افسران نے آسام میں درج ایک مقدمے کی تحقیقات کے سلسلے میں تلاشی شروع کی۔ جنوبی دیناج پور کے بنشی ہاری میں بھی افسران مجیب الرحمن نامی ایک نوجوان کے گھر پہنچے۔ تقریباً 30 سالہ اس نوجوان کا کوئی سراغ نہیں ملا۔ گھر کی تلاشی لے کر افسران نے کچھ دستاویزات ضبط کی ہیں۔ اہل خانہ نے بتایا کہ مجیب سائنس سے گریجویٹ ہے۔ فی الحال وہ سرکاری ملازمت کے امتحان کی تیاری کر رہا تھا اور آن لائن کوچنگ لیتا تھا۔
پولیس ذرائع کے مطابق گزشتہ دسمبر میں آسام پولیس کی اسپیشل ٹاسک فورس نے آسام کے بارپیٹا، چیرانگ اور تریپورہ سے القاعدہ کے نظریے پر چلنے والی بنگلہ دیش کی ممنوعہ شدت پسند تنظیم ’امام محمود کی قافلہ‘ کے 11 سرگرم ارکان کو گرفتار کیا تھا۔ ان سے پوچھ گچھ کے دوران مجیب کا نام بھی سامنے آیا تھا۔ اس وقت آسام پولیس کی فراہم کردہ معلومات کی بنیاد پر ہری رام پور تھانے کی پولیس مجیب کو تلاش کرنے پہنچی تو وہ فرار ہوگیا تھا۔ رواں سال 2 جنوری سے مجیب دوبارہ فرار ہے۔
دوسری جانب صبح سویرے ہی تحقیقاتی افسران نے مشرقی بردوان ضلع کے منگل کوٹ کے پالیش گرام کی ایک مسجد پر چھاپہ مارا۔ شیمولیا-2 گرام پنچایت کے تحت آنے والے اس گاو¿ں کی مسجد کے امام پیار محمد شیخ کو افسران نے گرفتار کر لیا ہے۔ ان سے پوچھ گچھ کی جا رہی ہے۔
شدت پسند ’قافلہ‘ سے تعلق کے شبہ میں ریاست میں 3 گرفتار...
Source: Admin
Comment
Your View
We'd love to hear your perspective on this article. Join the conversation and share your thoughts below!
Post your comment
0 CommentsNo comments