طلبہ کے ہاتھوں میں موبائل فون کے خلاف شوبھندو، ٹیب دینے پر غور
طلبہ کی سہولت کے لیے سابق وزیر اعلیٰ ممتا بنرجی نے 2022 میں ’ترونیر سپنو‘ منصوبہ شروع کیا تھا۔ اس منصوبے کے تحت گیارہویں جماعت کے طلبہ کو موبائل فون خریدنے کے لیے 10 ہزار روپے دیے جاتے تھے۔ تاہم وزیر اعلیٰ شوبھندو ادھیکاری کو طلبہ کے ہاتھوں میں موبائل فون دینے پر سخت اعتراض ہے۔ منگل کو ہاوڑہ کے ایک اسکول میں منعقدہ پروگرام میں شرکت کے دوران انہوں نے اشاروں میں بتایا کہ اب طلبہ کو تعلیمی ٹیب دینے پر غور کیا جا رہا ہے۔ اس سے انٹرنیٹ کی دنیا کی جانب طلبہ میں حد سے زیادہ دلچسپی پیدا ہونے کا امکان بھی نہیں رہے گا۔ وزیر اعلیٰ کے اس فیصلے کا اساتذہ سے لے کر والدین تک نے خیرمقدم کیا ہے۔
وقت کے ساتھ ٹیکنالوجی پر انحصار بڑھ رہا ہے۔ کورونا کے دور میں موبائل فون براہِ راست تعلیم کا حصہ بن گیا تھا۔ لاک ڈاو¿ن کے باعث بہت سے اسکولوں نے آن لائن کلاسز شروع کی تھیں۔ طلبہ کو مدنظر رکھتے ہوئے سابق وزیر اعلیٰ نے 2022 میں گیارہویں جماعت کے طلبہ کے لیے ’ترونیر سپنو‘ منصوبہ شروع کیا تھا۔ منگل کو ہاوڑہ کے ایک اسکول میں منعقدہ پروگرام میں وزیر اعلیٰ شوبھندو ادھیکاری نے واضح کیا کہ انہیں طلبہ کا دن بھر موبائل فون میں ڈوبا رہنا بالکل پسند نہیں ہے۔ انہوں نے اشارہ دیا کہ طلبہ کو تعلیمی ٹیب دینے پر غور کیا جا رہا ہے۔
یہ ٹیب جدید تعلیم میں استعمال کے لیے تیار کیا جاتا ہے۔ اس کا ڈسپلے نسبتاً بڑا ہوتا ہے، کیونکہ بڑی اسکرین پر پڑھنے میں آسانی ہوتی ہے۔ اس ٹیب میں خصوصی حفاظتی اور کنٹرول کے نظام موجود ہوتے ہیں۔ اس کے نتیجے میں پلے اسٹور سے اپنی مرضی سے گیمنگ یا سوشل میڈیا ایپس ڈاو¿ن لوڈ نہیں کی جا سکتیں۔ یہ ٹیب صرف تعلیمی ایپس، ای-بکس اور مخصوص تعلیمی مواد کے استعمال کے لیے تیار اور لاک کیے جاتے ہیں۔ بعض صورتوں میں ان ایپس کا کنٹرول والدین کے ہاتھ میں بھی ہوتا ہے۔
طلبہ کے ہاتھوں میں موبائل فون کے خلاف شوبھندو، ٹیب دینے پر غور...
Source: Admin
Comment
Your View
We'd love to hear your perspective on this article. Join the conversation and share your thoughts below!
Post your comment
0 CommentsNo comments