امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی انتظامیہ نے درجنوں والدین اور شریکِ حیات کو حراست میں لیا ہے جو امریکی فوجی اہلکاروں کے قریبی رشتہ دار ہیں، کیونکہ حکومت فوجی خاندانوں کے لیے امیگریشن تحفظ کو ختم کرتے ہوئے بڑے پیمانے پر ملک بدری کے ایجنڈے کو آگے بڑھا رہی ہے۔
امریکی نیوز ایجنسی ایسوسی ایٹڈ پریس کی تحقیقاتی رپورٹ کے مطابق ٹرمپ کے دوسرے دورِ صدارت کے آغاز سے اب تک 50 سے زائد والدین اور شریکِ حیات کو حراست میں لیا گیا ہے، جن میں سے کم از کم چھ افراد کو ملک بدر کیا گیا اور ایک نے خود ملک چھوڑ دیا۔ کم از کم آٹھ قریبی رشتہ دار اب بھی وفاقی امیگریشن حراست میں ہیں۔ حکومت ان کیسز کا ریکارڈ نہیں رکھتی۔
فوجی اہلکاروں کے والدین اور شریکِ حیات کو دہائیوں سے ملک بدری سے بچایا جاتا رہا ہے، لیکن اب انہیں مہینوں تک حراست میں رکھا جا رہا ہے۔ ماہرین خبردار کرتے ہیں کہ یہ پالیسی نہ صرف خاندانوں کے لیے نقصان دہ ہے بلکہ فوجی اہلکاروں کی کارکردگی پر بھی براہِ راست اثر ڈال سکتی ہے، خاص طور پر ایسے وقت میں جب امریکہ ایران کے ساتھ جنگی تناؤ میں ہے۔
ایک مثال آرمی سارجنٹ ہیدار لیونیل تورسیوس خواریز کی ہے، جن کی بیوی کو ٹیکساس کے فورٹ بلس کے قریب ایک وال مارٹ کے باہر ان کی چھ سالہ بیٹی کے سامنے حراست میں لیا گیا۔ خواریز نے کہا کہ ’میں اپنی فوجی سروس پر کیسے توجہ دوں جب مجھے اپنی بیوی کی فکر ہے؟‘
ایئر فورس ٹیکنیکل سارجنٹ وینڈی گبیو کے والد، لوئس البرٹو رامیرز زوالا، کو امیگریشن حکام نے اس وقت گرفتار کیا جب وہ اپنی قانونی حیثیت کے لیے درخواست دے رہے تھے۔ گبیو نے بتایا کہ وہ کئی دن تک بے خوابی کا شکار رہیں اور مسلسل یو ایس سی آئی ایس کا صفحہ ریفریش کرتی رہیں تاکہ اپنے والد کی صورتحال جان سکیں۔ دو ہفتے بعد انہیں پتہ چلا کہ ان کے والد کو میکسیکو ملک بدر کر دیا گیا ہے۔
رامیرز زوالا نے اپنی زندگی کا زیادہ تر حصہ امریکہ میں گزارا تھا، لیکن ان کی ملک بدری نے پورے خاندان کو ہلا کر رکھ دیا۔ گبیو کی والدہ، جو قانونی مستقل رہائشی ہیں، اپنے شوہر کے ساتھ رہنے کے لیے میکسیکو واپس جانے پر غور کر رہی ہیں۔ اس کا مطلب یہ ہوگا کہ اگر گبیو اور ان کے شوہر دونوں تعینات ہوئے تو ان کے بچوں کی دیکھ بھال کرنے والا کوئی نہیں ہوگا۔
آرمی سٹاف سارجنٹ الیکسس جارامیلو کی برازیلی بیوی، مائسا لوپس ایلیزر، کو اس وقت حراست میں لیا گیا جب وہ یو ایس سی آئی ایس کے دفتر میں ایک معمول کی ملاقات کے لیے گئی تھیں۔ ایلیزر 2019 میں سیاحتی ویزے پر امریکہ آئی تھیں اور اپنی حیثیت تبدیل کرنے کی کوشش کر رہی تھیں۔ گرفتاری کے بعد جارامیلو کو اپنے پانچ سالہ بیٹے کی دیکھ بھال تنہا کرنی پڑی، جس نے ان کی فوجی ذمہ داریوں کو متاثر کیا۔
Source: Admin
10 months ago
آج شب چاند عین خانہ کعبہ کے اوپر ہوگا
11 months ago
امریکی صدر ٹرمپ کا چینی صدر کو طنز بھرا پیغام
4 months ago
اسرائیلی وزیر اعظم نیتن یاہو نے ویڈیو جاری کر کے اپنی موت کی افواہوں کی تردید کر دی
4 months ago
برطانیہ نے قطر، قبرص میں ٹائفون، ایف 35 طیارے تعینات کردیے
4 months ago
آبنائے ہرمز کھلوانے کے لیے ٹرمپ کی اپیل پر دنیا خاموش
4 months ago
ایرانی بحریہ ختم ہو چکی تو ٹرمپ خلیج فارس میں امریکی بحریہ بھیج دیں، ترجمان پاسداران
10 months ago
آج شب چاند عین خانہ کعبہ کے اوپر ہوگا
11 months ago
امریکی صدر ٹرمپ کا چینی صدر کو طنز بھرا پیغام
4 months ago
اسرائیلی وزیر اعظم نیتن یاہو نے ویڈیو جاری کر کے اپنی موت کی افواہوں کی تردید کر دی
4 months ago
برطانیہ نے قطر، قبرص میں ٹائفون، ایف 35 طیارے تعینات کردیے
4 months ago
آبنائے ہرمز کھلوانے کے لیے ٹرمپ کی اپیل پر دنیا خاموش
4 months ago
ایرانی بحریہ ختم ہو چکی تو ٹرمپ خلیج فارس میں امریکی بحریہ بھیج دیں، ترجمان پاسداران
4 months ago
امریکی حملے کے بعد ایران کے جزیرے خارگ سے بدستور ٹینکرز پر تیل لوڈ کیا جا رہا ہے، رپورٹ
4 months ago
واضح ہوگیا امریکا حملوں کیلئے ہمارے پڑوسیوں کی سرزمین استعمال کر رہا ہے، عباس عراقچی
4 months ago
روضہ رسولﷺپر رش کی صورت حال ’’ الیکٹرانک ‘‘ طریقے سے دیکھنے کی سہولت شروع
4 months ago
سوئٹزرلینڈ کا ایران جنگ کے تناظر میں امریکی فوجی پروازوں پر پابندی کا اعلان، بلوم برگ
Comment
Your View
We'd love to hear your perspective on this article. Join the conversation and share your thoughts below!
Post your comment
0 CommentsNo comments