امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو نے مقبوضہ مغربی کنارے میں جاری کشیدگی کی مذمت کی ہے جبکہ ساتھ ہی اس بات کی بھی تصدیق کی ہے کہ واشنگٹن برطانوی قیادت میں ان مغربی ممالک میں شامل نہیں ہوگا جنہوں نے اسرائیلی بستیوں پر پابندیاں عائد کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔
روبیو نے لاطینی امریکہ کے دورے پر روانہ ہونے سے قبل نامہ نگاروں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ فطری طور پر ہم وہ کچھ نہیں کریں گے جو برطانیہ نے کیا ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ لیکن ہم استحکام کے حصول میں ہرممکن مدد کریں گے اور ہم اس وقت ایسا کچھ نہیں دیکھنا چاہتے جو استحکام کو متزلزل کرے یا مغربی کنارے میں کشیدگی میں اضافے کا سبب بنے ایسے وقت میں جب خطرہ بہت سے واقعات کا مشاہدہ کر رہا ہے۔
برطانیہ ،کینیڈا اور فرانس سمیت بارہ ممالک نے مقبوضہ علاقوں میں فلسطینی دیہات پر اسرائیلی آبادکاروں کے حملوں میں اضافے کے بعد مغربی کنارے میں اسرائیلی بستیوں کے ساتھ تجارت پر پابندیاں عائد کرنے کے اپنے عزم کا اعلان کیا ہے۔فلسطینیوں کی طرف سے خیرمقدم کیا گیا اور صیہونی ریاست کی طرف سے غصے کا ردعمل سامنے آیا۔
گذشتہ ہفتوں کے دوران مغربی کنارے میں تشدد کے واقعات میں اضافے نے جو کہ سنہ 1967ء سے مقبوضہ فلسطینی علاقوں میں بستیوں کے دائرہ کار کو وسیع کرنے کے مقصد سے بنائی گئی ایک وسیع حکمت عملی کا حصہ ہے، اسرائیل اور متعدد ممالک خصوصاً یورپی ممالک کے درمیان کشیدگی کی سطح کو بڑھانے میں اہم کردار ادا کیا ہے۔
امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو نے مقبوضہ مغربی کنارے میں جاری کشیدگی کی مذمت کی ہے جبکہ ساتھ ہی اس بات کی بھی تصدیق کی ہے کہ واشنگٹن برطانوی قیادت میں ان مغربی ممالک میں شامل نہیں ہ...
Source: Admin
Comment
Your View
We'd love to hear your perspective on this article. Join the conversation and share your thoughts below!
Post your comment
0 CommentsNo comments