Meta Pixel
Logo

Akhbar-e-Mashriq

PUBLISHED FROM Kolkata Delhi Ranchi Lucknow Bhopal Srinagar Siliguri Asansol
Akhbar-e-Mashriq Akhbar-e-Mashriq
ALERTS

International

’دنیا کی سب سے بڑی تنظیمِ نو‘، انڈونیشیا کا 750 سے زیادہ سرکاری ادارے بند کرنے کا اعلان

’دنیا کی سب سے بڑی تنظیمِ نو‘، انڈونیشیا کا 750 سے زیادہ سرکاری ادارے بند کرنے کا اعلان

انڈونیشیا کے صدر پرابوو سوبیانتو نے جمعے کے روز عندیہ دیا ہے کہ وہ ایسے ’غیر پیداواری‘ سرکاری اداروں کے بورڈز کی تحقیقات کے لیے ایک خصوصی عدالت قائم کرنے پر غور کر رہے ہیں، جو مبینہ طور پر فرضی منافع ظاہر کرتے رہے ہیں۔ انہوں نے اعلان کیا کہ سال کے اختتام تک 750 سے زائد سرکاری ملکیتی ادارے بند کر دیے جائیں گے۔
خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق جنوب مشرقی ایشیا کی سب سے بڑی معیشت انڈونیشیا کئی برسوں سے سرکاری اور نجی دونوں شعبوں میں بدعنوانی کا سامنا کر رہی ہے۔
حکومت انسدادِ بدعنوانی کے قوانین کو سخت بنانے، خصوصی تحقیقاتی کمیشن قائم کرنے اور متعدد بااثر شخصیات کو گرفتار کرنے کے باوجود اس مسئلے پر قابو پانے میں کامیاب نہیں ہو سکی۔
پارلیمان سے اپنے خطاب میں صدر پرابوو سوبیانتو نے کہا کہ ’غیر پیداواری سرکاری اداروں کی تعداد بہت زیادہ ہے۔ یہ مسلسل خسارے کی رپورٹ دیتے ہیں، لیکن ساتھ ہی منافع کا دعویٰ بھی کرتے ہیں، جبکہ یہ منافع صرف فرضی نوعیت کا ہوتا ہے۔‘
صدر نے بتایا کہ ’گزشتہ سال ریاستی اثاثوں کے انتظام کے لیے قائم کیے گئے خودمختار ویلتھ فنڈ دانانتارا کے ذریعے جب سرکاری اداروں کا جائزہ لیا گیا تو معلوم ہوا کہ ملک میں 1074 سرکاری ملکیتی ادارے موجود ہیں۔‘
انہوں نے قانون سازوں سے اپنے خطاب میں کہا کہ ’میں سمجھتا تھا کہ شاید 300 یا 400 سرکاری ادارے ہوں گے، مگر حقیقت میں ان کی تعداد 1,074 نکلی۔ ان میں سے بعض ادارے اپنی مرضی سے کام کرتے ہیں اور نہ قوم اور نہ ہی ریاست کے لیے جوابدہی کا احساس رکھتے ہیں۔‘
صدر کے مطابق اب تک 290 ادارے بند کیے جا چکے ہیں، جبکہ 31 دسمبر تک ان کی مجموعی تعداد کم کر کے 300 سے زیادہ نہیں رہنے دی جائے گی۔
انہوں نے مزید کہا کہ ’ہم 750 سے زائد ادارے بند کریں گے اور صرف وہی ادارے برقرار رکھیں گے جو پیداواری ہوں اور عوام کے لیے حقیقی اضافی قدر پیدا کریں۔ یہ ممکنہ طور پر دنیا کی سب سے بڑی کارپوریٹ تنظیمِ نو ہوگی۔‘
پرابوو سوبیانتو کے مطابق اس مہم کے نتیجے میں اب تک 50 کھرب روپیہ (تقریباً 2.8 ارب ڈالر) کے انتظامی اخراجات کی بچت ہو چکی ہے، جن میں ڈائریکٹرز اور کمشنرز کی تنخواہیں، عمارتوں اور گاڑیوں کے کرایے اور سرکاری سفری اخراجات شامل ہیں۔‘
انہوں نے کہا کہ ’سال 2026 کے لیے حکومت کا ہدف 70 کھرب روپیہ سے زیادہ کی بچت کرنا ہے۔‘
صدر کا کہنا تھا کہ ’سرکاری اداروں کے انتظام میں بہتری کی بدولت ان کا مجموعی منافع 2024 کے مقابلے میں 75 فیصد سے زیادہ بڑھ کر گزشتہ سال 326 کھرب روپیہ ہو گیا۔‘

Source: Admin

Post
Send
Kolkata Sports Entertainment

Please vote this article

0 Responses
Best Rating Best
Good Rating Good
Okay Rating Okay
Bad Rating Bad

Popular in International

Related Articles

Discussion

Comment
Your View

We'd love to hear your perspective on this article. Join the conversation and share your thoughts below!

Post your comment

0 Comments

No comments

Trending Videos
Instagram
X (Twitter)
LinkedIn