ای وی ایم کی تعداد کم ہے، بلدیاتی انتخابات کیسے ہوں گے؟ پرانی مفادِ عامہ کی درخواستوں کے باعث کمیشن مشکل میں
درگا پوجا ختم ہوتے ہی کولکاتا اور ہاوڑہ میں بلدیاتی انتخابات ہونے کا امکان ہے۔ ان انتخابات کو لے کر تیاری بھی شروع ہو چکی ہے۔ تاہم تیاری کے مرحلے میں انتخابی کمیشن کو ای وی ایم کے معاملے میں دشواری کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔ اس کی وجہ بائیں بازو اور بی جے پی کی جانب سے ماضی میں دائر کی گئی مفادِ عامہ کی درخواستیں ہیں۔ ان مقدمات کی وجہ سے کئی ای وی ایم محفوظ رکھی گئی ہیں، جس کے نتیجے میں کمیشن کو ای وی ایم کی کمی کا سامنا ہے۔ مسئلے کے حل کے لیے کمیشن نے کولکاتا ہائی کورٹ سے رجوع کیا ہے۔ عدالت نے اس معاملے میں ماضی میں درخواستیں دائر کرنے والے فریقین کی رائے جاننے کی ہدایت دی ہے۔
انتخابی کمیشن نے بلدیاتی انتخابات کی تیاریاں شروع کر دی ہیں۔ امکان ہے کہ سال کے آخر تک کولکاتا میونسپل کارپوریشن کے انتخابات کرائے جا سکتے ہیں۔ اسی کے ساتھ ہاوڑہ میں بھی انتخابات کرانے کی بات ہے۔ اس کے بعد مرحلہ وار ریاست کی دیگر میونسپلٹیوں میں بھی انتخابات ہونے کا امکان ہے۔ لیکن تیاری کے دوران کمیشن کو معلوم ہوا کہ اس کے پاس انتخابات کرانے کے لیے کافی تعداد میں ای وی ایم موجود نہیں ہیں۔ذرائع کے مطابق عدالت کی ہدایت پر متعدد ای وی ایم ضلع مجسٹریٹوں کے پاس محفوظ رکھی گئی ہیں۔ عدالت کی منظوری کے بغیر ان ای وی ایم کو انتخابات میں استعمال کرنا ممکن نہیں ہے۔
منگل کو ہائی کورٹ کے چیف جسٹس رویندر وی گھوگے کی سربراہی والی ڈویڑن بنچ میں اس معاملے کی سماعت ہوئی۔ واضح رہے کہ ماضی میں ریاست میں میونسپل یا پنچایتی انتخابات کے دوران بے ضابطگیوں کے الزامات عائد کرتے ہوئے کئی مفادِ عامہ کی درخواستیں دائر کی گئی تھیں۔ ان میں سے متعدد مقدمات کا ابھی تک فیصلہ نہیں ہوا ہے۔ بنیادی طور پر بائیں بازو اور بی جے پی کی جانب سے یہ درخواستیں دائر کی گئی تھیں۔
ای وی ایم کی تعداد کم ہے، بلدیاتی انتخابات کیسے ہوں گے؟ پرانی مفادِ عامہ کی درخواستوں کے باعث کمیشن مشکل میں...
Source: Admin
Comment
Your View
We'd love to hear your perspective on this article. Join the conversation and share your thoughts below!
Post your comment
0 CommentsNo comments