پارٹی میں خوبصورت اور تعلیم یافتہ خواتین کو لانا ہوگا“! بی جے پی لیڈر کے فرمان پر ہنگامہ، کٹویا میں بی جے پی کی خواتین کارکنوں کا احتجاج
”پارٹی میں خوبصورت اور تعلیم یافتہ خواتین کو شامل کرنا ہوگا، ورنہ پرانی خواتین کارکنوں کو نکال دیا جائے گا“— مشرقی بردوان کے کٹویا کے بی جے پی شہری صدر سمن دیوناتھ کے اس بیان کو لے کر تنازع کھڑا ہوگیا ہے۔ پارٹی کی پرانی خواتین کارکنوں نے کھلے عام لیڈر کے خلاف ناراضی ظاہر کی۔ ساتھ ہی بی جے پی کے شہری صدر کے استعفیٰ کا مطالبہ بھی اٹھایا گیا۔
اتوار کی رات کٹویا شہر میں بی جے پی کے پارٹی دفتر کے سامنے ہنگامہ شروع ہوگیا۔ لیڈر سمن دفتر کے دروازے کے سامنے کھڑے تھے، جبکہ ان کے سامنے خواتین اور مرد کارکنوں کا ایک گروپ احتجاج کر رہا تھا۔ ان کا الزام تھا کہ لیڈر پارٹی کی پرانی خواتین رہنماو¿ں اور کارکنوں کے بجائے ”خوبصورت اور تعلیم یافتہ“ خواتین کو پارٹی میں شامل کرنے میں دلچسپی ظاہر کر رہے ہیں۔ صرف دلچسپی ظاہر کرنے تک ہی بات محدود نہیں رہی، بلکہ انہوں نے یہ بھی کہا کہ اگر خوبصورت اور تعلیم یافتہ خواتین کو پارٹی میں شامل نہ کیا گیا تو پرانی خواتین کارکنوں کو ہٹا دیا جائے گا۔
احتجاج کرنے والی خواتین کارکنوں کا الزام ہے کہ طویل عرصے سے پارٹی کے پروگراموں میں انہیں مناسب اہمیت نہیں دی جا رہی ہے۔ انہیں مناسب عزت بھی نہیں دی جاتی۔ اس کے بعد لیڈر کا اس طرح کا تبصرہ ان کے لیے توہین آمیز ہے۔
بی جے پی لیڈر کے خلاف احتجاج رات تقریباً 8 بجے شروع ہوا اور دیر رات تک وقفے وقفے سے مظاہرہ جاری رہا۔ اس دوران سمن پارٹی دفتر کے اندر ہی موجود رہے۔
دوسری جانب سمن کے خلاف الزامات کی فہرست بھی بڑھتی گئی۔ ان پر کٹ منی لینے اور سرِعام خواتین کے خلاف نازیبا تبصرے کرنے کے الزامات لگائے گئے۔ دراصل، چند روز قبل ہی کٹویا کے بی ایل آر او دفتر کے ایک ملازم سے پانچ لاکھ روپے مانگنے کا الزام سمن سمیت بی جے پی کے پانچ رہنماو¿ں کے خلاف عائد کیا گیا تھا۔ اس تنازع کی شدت کم بھی نہیں ہوئی تھی کہ ایک اور الزام سامنے آگیا۔
سمن کا دعویٰ ہے کہ تمام الزامات جھوٹے اور من گھڑت ہیں۔ ان کا کہنا تھا، ”اگر کوئی شکایت ہے تو پارٹی کی کور کمیٹی اور اعلیٰ قیادت کو اطلاع دی جائے۔“ انہوں نے مزید کہا، ”مجھے بدنام کرکے کچھ لوگوں نے تشہیر حاصل کرنے کی کوشش کی ہے۔ لیکن اس طرح مجھے نہ تو ڈرایا جا سکتا ہے اور نہ ہی دھمکایا جا سکتا ہے۔“
لیڈر کے خلاف الزامات اور ان کے خلاف ہونے والے احتجاج پر مقامی بی جے پی قیادت نے کوئی ردعمل دینے سے گریز کیا۔
پارٹی میں خوبصورت اور تعلیم یافتہ خواتین کو لانا ہوگا“! بی جے پی لیڈر کے فرمان پر ہنگامہ، کٹویا میں بی جے پی کی خواتین کارکنوں کا احتجاج...
Source: Admin
Comment
Your View
We'd love to hear your perspective on this article. Join the conversation and share your thoughts below!
Post your comment
0 CommentsNo comments