واپس آنے پر کارکنوں کو کیا ملے گا؟“ ممتا کی پیشکش پر مدن مترا کا سوال
اب بھی پرانے ساتھیوں اور کارکنوں کو واپس لانے کی امید ممتا آل انڈیا ترنمول کانگریس کی رہنما ممتا بنرجی نے نہیں چھوڑی ہے۔ اسی لیے چند روز قبل آڈیو پیغام کے ذریعے انہوں نے کارکنوں کو پارٹی میں واپس آنے کے لیے 15 دن کی مہلت دی تھی۔ اب اسی معاملے پر کمارہٹی کے رکن اسمبلی مدن مترا نے بھی اپنی رائے ظاہر کی ہے۔ انہوں نے پارٹی کی رہنما سے کھل کر سوال کیا، ”واپس آنے پر کارکنوں کو کیا ملے گا؟“
اقتدار کی تبدیلی کے چند ہی ماہ میں ممتا بنرجی کی بنائی ہوئی ترنمول کانگریس بکھر گئی ہے۔ اس وقت پارٹی کا ’جورا پھول‘ انتخابی نشان بھی ممتا بنرجی کے پاس نہیں ہے۔ دوسری جانب ’دیدی‘ کے کمزور ہونے کا اندازہ ہوتے ہی اسمبلی انتخابات کے نتائج کے اعلان کے بعد ان کے قریبی ساتھیوں نے ایک ایک کرکے ممتا کا ساتھ چھوڑ دیا۔ اس فہرست میں مدن مترا، اروپ بسواس اور فرہاد حکیم جیسے طویل عرصے سے ساتھ رہنے والے رہنما بھی شامل ہیں۔
تاہم ممتا بنرجی اب بھی واپسی کی امید دیکھ رہی ہیں، جس کا اظہار وہ خود بارہا کر چکی ہیں۔ چند روز قبل انہوں نے رہنماو¿ں اور کارکنوں کو پارٹی میں واپس آنے کا پیغام بھی دیا تھا۔ گزشتہ اتوار کو اسلام پور کی عوامی ریلی میں ٹیلی فونک خطاب کرتے ہوئے ممتا نے کہا، ”جو لوگ واپس آنا چاہتے ہیں، 15 دن کے اندر واپس آ جائیں۔“
انتخابات میں ممتا کی شکست کے فوراً بعد جس طرح پارٹی منتشر ہوگئی، اسے بنگال کی سیاست کا ایک نمایاں واقعہ قرار دیا جا رہا ہے۔ کمزور پارٹی کے باوجود ممتا بنرجی کے حوصلے اور عزم کا بھی اظہار ہوتا رہا۔ انہیں بارہا یہ کہتے ہوئے سنا گیا، ”جو لوگ چلے گئے، چلے گئے۔ میری پارٹی کی اصل طاقت کارکن اور حامی ہیں۔ انہی کو ساتھ لے کر پارٹی آگے بڑھے گی۔“
فطری طور پر کارکنوں کو واپس لانے کی اس اپیل پر مختلف حلقوں میں سوالات اٹھ رہے ہیں۔ اس سلسلے میں پارٹی چھوڑ چکے مدن مترا نے کہا، ”ضرورت پڑی تو سیاست چھوڑ دوں گا، لیکن اب دوبارہ کالی گھاٹ کے شاہی محل میں جانے کے لیے تیار نہیں ہوں۔ میں واپس آنے کے ارادے سے نہیں آیا ہوں۔ اس کے علاوہ، واپس جانے پر کارکنوں کو کیا ملے گا؟“مدن مترا کا واضح کہنا ہے کہ چاہے 15 ماہ کی مہلت ہی کیوں نہ دی جائے، وہ ذاتی طور پر واپس جانے کے لیے تیار نہیں ہیں۔
واپس آنے پر کارکنوں کو کیا ملے گا؟“ ممتا کی پیشکش پر مدن مترا کا سوال...
Source: Admin
Comment
Your View
We'd love to hear your perspective on this article. Join the conversation and share your thoughts below!
Post your comment
0 CommentsNo comments