ریلوے اسٹیشن پر مالدہ ضلع پریشد کے تین ارکان حراست میں! بورڈ کی تشکیل سے پہلے کشیدگی، بیربھوم میں بمباری
مالدہ ضلع پریشد پر کس کا قبضہ رہے گا؟ منگل کو ہونے والی ووٹنگ سے اس کا فیصلہ ہوگا۔ تاہم اس سے پہلے پیر کی دیر رات پولیس نے مالدہ اسٹیشن سے ضلع پریشد کے کانگریس اور ترنمول کانگریس کے تین ارکان کو حراست میں لے لیا۔ اس واقعے کے بعد علاقے میں کشیدگی پھیل گئی۔ کانگریس کا الزام ہے کہ اکثریت نہ ہونے کی وجہ سے بی جے پی پولیس کے ذریعے اس کے ارکان کو جھوٹے مقدمات میں گرفتار کرکے رکھنا چاہتی ہے۔
ریاست میں اقتدار کی تبدیلی کے بعد ترنمول کانگریس کے ضلع پریشد کی سبھا دھپتی لیپیکا برمن گھوش اور نائب سبھا دھپتی ابو طیب رفیق الحسین کے خلاف پارٹی کے ہی ایک گروپ نے عدم اعتماد کی تحریک پیش کی تھی۔ گزشتہ 16 اگست کو خصوصی اجلاس طلب کرکے سبھا دھپتی اور نائب سبھا دھپتی کو عہدوں سے ہٹا دیا گیا تھا۔ اس کے بعد سے ضلع پریشد میں دونوں عہدے خالی ہیں۔
معاملہ کلکتہ ہائی کورٹ تک پہنچا۔ عدالت نے ڈویڑنل کمشنر کو ان عہدوں کے لیے جلد انتخاب کرانے کی ہدایت دی۔ اس کے بعد منگل کو انتخاب کرانے کا فیصلہ کیا گیا۔ لیکن اس سے پہلے ضلع پریشد کے تین ارکان کو ریلوے اسٹیشن سے حراست میں لیے جانے کے الزام نے سیاسی حلقوں میں ہلچل پیدا کردی ہے۔
عدم اعتماد کی تحریک پیش کیے جانے کے بعد ترنمول کانگریس کے کچھ ارکان جھارکھنڈ چلے گئے تھے اور تقریباً ایک ماہ وہیں رہے۔ منگل کے انتخاب کے لیے وہ ٹرین سے مالدہ واپس آ رہے تھے۔ ان کے ساتھ مالدہ جنوبی کے کانگریس رکن پارلیمنٹ عیسیٰ خان چودھری بھی موجود تھے۔الزام ہے کہ مالدہ ٹاو¿ن اسٹیشن پہنچتے ہی ضلع پریشد کے تین ارکان کو پولیس نے حراست میں لے لیا۔
حراست میں لیے گئے ضلع پریشد رکن فضل الحق نے کہا، ”ہمیں کس الزام میں پکڑا گیا ہے، یہ نہیں بتایا جا رہا۔ کہا جا رہا ہے کہ تفتیش کے مفاد میں ہمیں تھانے لے جایا جا رہا ہے۔“
ان کا دعویٰ ہے، ”ہمارے پاس اکثریت ہے، بی جے پی کے پاس اکثریت نہیں ہے۔ اسی وجہ سے ہمارے ارکان کو پولیس کے ذریعے حراست میں لیا جا رہا ہے۔“عیسیٰ خان چودھری اور کانگریس رہنما موسم بنیزیر نور نے بھی یہی الزام عائد کیا۔ عیسیٰ کا دعویٰ ہے کہ عدالت نے پولیس کو ہدایت دی تھی کہ تمام ارکان آزادانہ اور منصفانہ طریقے سے ووٹ ڈال سکیں، لیکن پولیس بغیر کوئی وجہ بتائے ارکان کو حراست میں لے رہی ہے۔
ریلوے اسٹیشن پر مالدہ ضلع پریشد کے تین ارکان حراست میں! بورڈ کی تشکیل سے پہلے کشیدگی، بیربھوم میں بمباری...
Source: Admin
Comment
Your View
We'd love to hear your perspective on this article. Join the conversation and share your thoughts below!
Post your comment
0 CommentsNo comments