وسرجن میں کون شامل ہوگا اس کا فیصلہ پوجا کمیٹی کرتی ہے: پولس کمشنر
وزیراعلیٰ شوبھندو ادھیکاری نے کہا تھا کہ درگا مورتی کو وسرجن کے وقت صرف سناتنی عقیدے کے لوگ ہی چھو سکیں گے۔ جمعہ کو اس بارے میں سوال کیے جانے پر کولکاتا کے پولیس کمشنر (سی پی) اجے نندا نے بتایا کہ وسرجن میں کون شامل ہوگا، اس کا فیصلہ پوجا کمیٹی کرتی ہے۔ اس معاملے میں پولیس کا کوئی کردار نہیں ہے۔ تاہم، سی پی نے بتایا کہ وزیراعلیٰ کی ہدایت کے بعد پوجا کمیٹیوں سے کہا گیا ہے کہ وہ اس معاملے میں ضابطوں کی پابندی کریں۔
بدھ کو کولکاتا کے بابو گھاٹ پر وسرجن کی تیاریوں کا جائزہ لینے کے دوران شوبھندو نے کہا تھا، ”سناتن دھرم پر یقین رکھنے والوں کے علاوہ کوئی بھی مورتی کو ہاتھ نہیں لگائے گا۔ میں نے سی پی (کولکاتا کے پولیس کمشنر اجے نندا) سے کہا ہے کہ یہاں آنے والوں کے نام درج کیے جائیں۔ ان کی شناخت بھی یقینی بنائی جائے۔“
پولیس اس شناخت کے عمل کو کس طرح انجام دے رہی ہے، اس بارے میں سی پی سے سوال کیا گیا۔ لال بازار میں پریس کانفرنس کے دوران انہوں نے کہا، ”اس معاملے میں پولیس کا کوئی کردار نہیں ہے۔ پولیس امن و امان کی نگرانی کرتی ہے۔ وسرجن میں کون شامل ہوگا، اس کا فیصلہ پوجا کمیٹی خود کرتی ہے۔“
یہ کیسے طے کیا جائے گا کہ کون سناتنی ہے اور کون نہیں؟ اس سوال کے جواب میں کولکاتا کے پولیس کمشنر نے کہا، ”یہ تو میں نہیں بتا سکتا۔ ہم نے یہ معاملہ پوجا کمیٹیوں کے سامنے رکھا ہے۔ ان سے کہا ہے کہ ضابطوں کے مطابق پوجا کریں۔ اسی طرح پوجا ہو بھی رہی ہے۔ میری معلومات کے مطابق سناتن طریقے کے علاوہ کسی دوسرے طریقے سے پوجا نہیں ہوتی۔“
وزیراعلیٰ کی ہدایت کو لے کر سیاسی حلقوں میں تنازع کھڑا ہوگیا ہے۔ اپوزیشن جماعتوں نے اس پر سخت تنقید کی ہے۔ سی پی ایم رہنما بکاش رنجن بھٹاچاریہ نے کہا، ”موجودہ وزیراعلیٰ آئین مخالف اور ملک مخالف کام کر رہے ہیں۔ وہ یہ دونوں کام ہندو بنیاد پرستوں کے حق میں کر رہے ہیں۔ وہ ہندو بنیاد پرستی کو قائم کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ کیا ان کے پاس ایسی فہرست ہے جس سے معلوم ہو کہ کون سناتنی ہے اور کون نہیں؟ کیا وہ بتا سکتے ہیں کہ سناتنی کیسے بنا جاتا ہے؟ ان کے پاس ان سوالات کا ایک بھی جواب نہیں ہے۔
تاہم، وزیراعلیٰ کا دعویٰ تھا کہ ان کی ہدایت کے پیچھے کوئی فرقہ وارانہ سوچ نہیں ہے۔ ان کے مطابق، یہ مذہبی رسومات اور پاکیزگی برقرار رکھنے کا معاملہ ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ درگا پوجا ایک تہوار ضرور ہے، لیکن اس کی مذہبی روایت سب سے اہم ہے۔ انہوں نے کہا تھا، ”پاکیزگی برقرار رکھنے کے لیے ضروری ہے کہ جو روایات، ورثہ، مذہبی صحیفے اور اصول ہزاروں برس سے چلے آ رہے ہیں، ان کی پابندی کی جائے۔“
تاہم، سیاسی رہنما شوبھندو کے اس دعوے کو تسلیم کرنے کے لیے تیار نہیں ہیں۔ کالی گھاٹ سے وابستہ ترنمول رہنما بائشوانر چٹرجی نے الزام لگایا، ”دراصل انہیں ہندو مذہب کی وسعت اور رواداری کے بارے میں کچھ معلوم ہی نہیں ہے۔ اتنی تنگ نظری کے ساتھ ہندو مذہب کو نہیں سمجھا جا سکتا۔“
ریاستی کانگریس کے ترجمان سمن رائے چودھری نے کہا، ”آئین کو ہاتھ میں لے کر حلف اٹھانے والا شخص، جو ایک آئینی عہدے پر فائز ہے اور جس نے ہندوستان کے تکثیری معاشرے کی بنیاد پر تشکیل دیے گئے آئین کو گواہ بنا کر حلف لیا ہے، اگر اس طرح کی باتیں کرتا ہے تو اس کی مذمت کرنے کے علاوہ کچھ کہنے کے لیے باقی نہیں رہ جاتا۔“
سناتنیوں کے علاوہ دوسروں کے مورتی کو چھونے پر پابندی کے ساتھ ساتھ، ’ماں کی مورتی کی پاکیزگی برقرار رکھنے‘ کے لیے ریاستی انتظامیہ نے اس سال وسرجن کے دوران کرین کے بجائے ہاتھ سے کھینچی جانے والی ٹرالی استعمال کرنے کی ہدایت بھی دی ہے۔
وسرجن کے دوران سکیورٹی یقینی بنانے کے لیے ریاستی اور کولکاتا پولیس کے ساتھ این ڈی آر ایف (قومی آفات سے نمٹنے والی فورس) کو بھی تعینات کیا گیا ہے۔ اس کے علاوہ وزیراعلیٰ نے بتایا کہ دریائے گنگا کی صفائی برقرار رکھنے کے لیے وسرجن کا عمل مکمل ہونے کے بعد صبح سویرے سے ہی مورتیوں کے ڈھانچے ہٹانے کا کام شروع کر دیا جائے گا۔
جمعہ اور ہفتہ کو کولکاتا کے مخصوص گھاٹوں پر درگا مورتیوں کا وسرجن کیا جائے گا۔
وسرجن میں کون شامل ہوگا اس کا فیصلہ پوجا کمیٹی کرتی ہے: پولس کمشنر...
Source: Admin
Comment
Your View
We'd love to hear your perspective on this article. Join the conversation and share your thoughts below!
Post your comment
0 CommentsNo comments