بھیڑ میں دبے ہوئے کئی بچوں کو نکالا، لیکن چوربگان میں آگرپاڑہ کے نوجوان نے اپنے بیٹے کو کھو دیا
بھیڑ میں بھگدڑ مچ گئی! کوئی نہیں جانتا تھا کہ کون کس سمت بھاگ رہا ہے! اسی افراتفری میں کب انوکل سرکار کا ہاتھ اپنے بیٹے پرانجل سرکار کے ہاتھ سے چھوٹ گیا، انہیں ابتدا میں احساس ہی نہیں ہوا۔ جب انہیں معلوم ہوا کہ پرانجل ان کے ساتھ نہیں ہے تو وہ بے بسی کے عالم میں بھیڑ میں اسے تلاش کرنے لگے۔ لیکن پرانجل کہاں تھا!
صرف چیخ و پکار اور آہ و بکا سنائی دے رہی تھی! پریشان حال انوکل نے اس حالت میں بھی دیکھا کہ بھیڑ کے دباو¿ میں کئی بچے سڑک پر گر گئے ہیں۔ بیٹے کی فکر ہونے کے باوجود وہ ان بے بس بچوں کو نظرانداز کرکے آگے نہیں بڑھ سکے۔ انہوں نے ایک کے بعد ایک بچے کی جان بچانے کی کوشش کی۔ لیکن آخرکار انہیں احساس ہوا کہ وہ دوسرے بچوں کو تو بچا سکے، مگر اپنے ہی بیٹے کی جان نہیں بچا پائے! چورباگان میں بھگدڑ کے واقعے میں جاں بحق ہونے والے 19 افراد کی فہرست میں شمالی 24 پرگنہ کے آگرپاڑہ کے 13 سالہ پرانجل کا نام بھی شامل ہے۔
بیٹے کو کھونے کا غم انوکل کے دل پر چھا گیا ہے۔ اس پچھتاوے نے انہیں گھیر رکھا ہے۔ آنکھیں بند کرتے ہی پرانجل کا چہرہ اور بھیڑ کا وہ خوفناک منظر ان کی آنکھوں کے سامنے آ جاتا ہے۔ شمالی 24 پرگنہ کے آگرپاڑہ کے تیَنت±لتلا علاقے کے رہنے والے انوکل نے بھیڑ سے سات سے آٹھ بچوں کو نکالنے میں مدد کی تھی۔ ان کے گھر میں تیراک پرانجل کی کامیابیوں کی یادگاریں جگہ جگہ بکھری ہوئی ہیں۔ انہیں خاموشی سے دیکھتے ہوئے انوکل صرف آہیں بھر رہے ہیں۔
پرانجل کی ضد پر ہی انوکل نے چورباگان کے پوجا پنڈال کو دیکھنے کا منصوبہ بنایا تھا۔ وہ خاندان کے افراد، دوستوں اور ان کے بچوں کے ساتھ آگرپاڑہ سے روانہ ہوئے تھے۔ اس 13 افراد پر مشتمل گروپ کے تمام لوگ گھر واپس آ گئے، بس پرانجل نہیں لوٹا۔
انوکل کے مطابق، پنڈال میں اچانک بھیڑ بڑھنے سے دھکم پیل شروع ہوگئی۔ حالات تیزی سے قابو سے باہر ہونے لگے۔ بھیڑ کے دباو¿ میں ایک کے بعد ایک شخص زمین پر گرنے لگا۔ انوکل کو احساس ہی نہیں ہوا کہ کب پرانجل کا ہاتھ ان کے ہاتھ سے چھوٹ گیا۔ چاروں طرف صرف جان بچانے کی فریادیں سنائی دے رہی تھیں اور لوگ پوری طاقت سے بھیڑ سے نکلنے کی کوشش کر رہے تھے۔ باہر موسلادھار بارش ہو رہی تھی۔ کسی طرح بھیڑ کو چیر کر باہر نکلنے کے باوجود انوکل سمجھ نہیں پا رہے تھے کہ پرانجل کہاں چلا گیا۔
ایک طرف انوکل پرانجل کو تلاش کر رہے تھے، تو دوسری طرف بھیڑ میں پھنسے دوسرے بچوں کو نکالنے کی کوشش بھی کر رہے تھے۔ جو بچہ بھی ان کے ہاتھ آتا، وہ اسے بھیڑ سے باہر کھینچ لاتے۔ لیکن انہیں پرانجل کا کوئی سراغ نہیں مل رہا تھا۔ تلاش کے دوران ان کی نظر پرانجل کی دوست آہانا پر پڑی، جو بھیڑ کے دباو¿ میں زمین پر گر گئی تھی۔ انوکل نے کسی طرح بھیڑ کو چیر کر اسے باہر نکالا اور سڑک پر لٹا کر اس کے سینے پر دباو¿ ڈالنا شروع کیا۔ اس وقت آہانا بے ہوش تھی۔ کئی منٹ تک سی پی آر دینے کے بعد اسے ہوش آ گیا۔ انوکل نے سکون کی سانس لی، لیکن پرانجل کی فکر نے انہیں پھر سے گھیر لیا۔ انہوں نے آہانا کو اپنی بیوی پریانکا کے حوالے کیا اور دوبارہ بیٹے کی تلاش میں نکل پڑے۔
وقت گزرنے کے ساتھ ان کی بے چینی بڑھتی جا رہی تھی۔ ہر طرف بھاگ دوڑ جاری تھی۔ اسی دوران پنڈال کو منہدم کرنے کا اعلان کیا گیا، جس سے الجھن اور خوف مزید بڑھ گیا۔ انوکل بار بار سکیورٹی پر تعینات پولیس اہلکاروں کو پرانجل کی شکل و صورت بتا کر پوچھتے رہے کہ کیا انہوں نے اسے دیکھا ہے؟ آخرکار ایک خاتون پولیس اہلکار سے انہیں معلوم ہوا کہ ایک بچے کو دوسری جگہ لے جایا گیا ہے۔ یہ سنتے ہی انوکل دوڑتے ہوئے داخلی راستے سے باہر نکلے۔ وہاں ایک چھوٹے سے طبی امدادی مرکز کے قریب ایک بچے کو زمین پر لٹا دیکھ کر وہ ٹھٹھک گئے۔ وہ پرانجل تھا۔
بھیڑ میں دبے ہوئے کئی بچوں کو نکالا، لیکن چوربگان میں آگرپاڑہ کے نوجوان نے اپنے بیٹے کو کھو دیا...
Source: Admin
Comment
Your View
We'd love to hear your perspective on this article. Join the conversation and share your thoughts below!
Post your comment
0 CommentsNo comments