ناسک کے ٹاٹا کنسلٹنسی سروسز TCS مذہب تبدیلی معاملے میں ملزم ندا خان کو عدالت نے ضمانت دے دی ہے۔ ممبئی ناکا پولیس اسٹیشن میں درج مقدمے میں عدالت نے ندا خان کو 50 ہزار روپے کے بانڈ پر ضمانت دی ہے۔ اس کے ساتھ ہی انہیں باقاعدگی سے پولیس اسٹیشن میں حاضری لگانے کی ہدایت دی گئی ہے۔ مقدمے کی تفتیش کے دوران ندا خان کو وقتاً فوقتاً پولیس کے سامنے پیش ہونا ہوگا۔ یہ معاملہ ناسک واقع TCS دفتر سے متعلق ہے۔ شکایت میں الزام لگایا گیا تھا کہ کچھ ملازمین پر نماز پڑھنے اور اسلام سے متعلق مذہبی رسومات اختیار کرنے کے لیے دباؤ ڈالا جاتا تھا۔ اس کے علاوہ ہندو مذہب کے بارے میں مبینہ طور پر قابل اعتراض تبصرے کرنے کا الزام بھی لگایا گیا تھا۔ شکایت کی بنیاد پر ممبئی ناکا پولیس اسٹیشن میں کیس نمبر 166/2026 درج کیا گیا۔ اس معاملے میں ندا خان کو ملزم نمبر 5 بنایا گیا ہے۔ ان کے خلاف BNS کی دفعات 75، 79، 299، 302، 3(5) اور 328 کے تحت مقدمہ درج کیا گیا ہے۔ ابتدائی طور پر اس معاملے میں چار افراد کو ملزم بنایا گیا تھا۔ ان میں توصیف بلال عطار، دانش اعجاز شیخ، شاہ رخ حسین، شوکت قریشی اور رضا رفیق میمن شامل ہیں۔ تفتیش آگے بڑھنے کے بعد ندا خان کا نام بھی سامنے آیا، جس کے بعد انہیں اس معاملے میں ملزم بنایا گیا۔ یعنی ابتدائی طور پر درج ایف آئی آر میں ان کا نام شامل نہیں تھا، بلکہ بعد کی تفتیش کے دوران پولیس نے ان کا نام شامل کیا۔
یہ معاملہ فروری 2026 میں سامنے آیا تھا۔ ایک سیاسی کارکن نے ناسک پولیس میں شکایت درج کرائی تھی۔ شکایت میں ایک نجی کمپنی میں کام کرنے والی ہندو خاتون کے رمضان کے دوران روزے رکھنے کا بھی ذکر کیا گیا تھا۔ شکایت موصول ہونے کے بعد پولیس نے معاملے کی تفتیش شروع کی۔ تفتیش کے لیے خاتون پولیس اہلکاروں کو ہاؤس کیپنگ اسٹاف کے طور پر کمپنی میں بھیجا گیا تھا۔ انہوں نے دفتر کے اندر ہونے والی سرگرمیوں پر نظر رکھی۔ پولیس کی تفتیش میں کچھ ٹیم لیڈروں پر ملازمین کو مبینہ طور پر ہراساں کرنے اور اپنے عہدے کا غلط استعمال کرنے کے الزامات سامنے آئے۔ پولیس کے مطابق، ملازمین پر مذہب تبدیل کرنے کے لیے دباؤ ڈالے جانے کی بات بھی تفتیش میں سامنے آئی۔
معاملہ سامنے آنے کے بعد پولیس نے سات مردوں اور ایک خاتون کو گرفتار کیا تھا۔ ندا خان فرار تھیں اور پولیس تقریباً 25 دن تک ان کی تلاش کرتی رہی۔ آخرکار ناسک کرائم برانچ اور چھترپتی سمبھاجی نگر پولیس کی مشترکہ ٹیم نے ندا خان کو ناریگاؤں علاقے سے گرفتار کرلیا۔ پولیس کے مطابق، وہ قیصر کالونی کے ایک فلیٹ میں چھپی ہوئی تھیں۔ اس فلیٹ میں ان کے چار رشتہ دار بھی موجود تھے۔ اس سے قبل ندا خان کو دیولالی کیمپ معاملے میں بھی ضمانت مل چکی ہے۔ موجودہ معاملے میں ان کے وکلا نے عدالت میں دلیل دی کہ ندا خان تفتیش میں تعاون کر رہی ہیں۔ عدالت کے سامنے ان کے حاملہ ہونے کی بات بھی رکھی گئی۔ ان دلائل کے بعد عدالت نے انہیں 50 ہزار روپے کے بانڈ پر ضمانت دے دی۔ تاہم، ضمانت کے ساتھ پولیس اسٹیشن میں باقاعدگی سے حاضری کی شرط عائد کی گئی ہے۔ اب ضمانت ملنے کے بعد ندا خان کو مقررہ وقت پر پولیس اسٹیشن میں حاضر ہونا ہوگا۔ معاملے کی تفتیش ابھی جاری ہے۔
Source: Admin
10 months ago
بریلی میں جُمعہ کی نماز کے بعد ہنگامہ، ’آئی لو محمد‘ پوسٹر تنازع پر پولیس کا لاٹھی چارج، حالات کشیدہ
11 months ago
وقف قانون پر سپریم کورٹ کا بڑا فیصلہ، کچھ دفعات پر لگائی روک
11 months ago
بھارت میں آج لگے گا چاند گرہن، اتنے بجے شروع ہوگا “سوتک” کال
10 months ago
آنکھ کھلتے ہی مہنگائی کا دھچکا، تیل کمپنیوں نے گیس سلنڈر کی قیمتیں بڑھا دیں
11 months ago
سی پی رادھاکرشنن نائب صدر جمہوریہ منتخب قرار دیے گئے
11 months ago
جی ایس ٹی میں اب 5 فیصد اور 18 فیصد کے دو سلیب، 22 ستمبر سے لاگو ہوں گے
10 months ago
بریلی میں جُمعہ کی نماز کے بعد ہنگامہ، ’آئی لو محمد‘ پوسٹر تنازع پر پولیس کا لاٹھی چارج، حالات کشیدہ
11 months ago
وقف قانون پر سپریم کورٹ کا بڑا فیصلہ، کچھ دفعات پر لگائی روک
11 months ago
بھارت میں آج لگے گا چاند گرہن، اتنے بجے شروع ہوگا “سوتک” کال
10 months ago
آنکھ کھلتے ہی مہنگائی کا دھچکا، تیل کمپنیوں نے گیس سلنڈر کی قیمتیں بڑھا دیں
11 months ago
سی پی رادھاکرشنن نائب صدر جمہوریہ منتخب قرار دیے گئے
11 months ago
جی ایس ٹی میں اب 5 فیصد اور 18 فیصد کے دو سلیب، 22 ستمبر سے لاگو ہوں گے
11 months ago
پونے کی مسجد میں کھدائی کے دوران سرنگ دریافت، کشیدگی، 200 پولیس اہلکار تعینات
11 months ago
جی ایس ٹی ریٹ کم ہونے سے کیا ہوا سستا اور کیا ہوا مہنگا
11 months ago
حضرت بل درگاہ میں قومی نشان کی بے حرمتی کسی طور برداشت نہیں کی جا سکتی: کرن رجیجو
10 months ago
شر پسند نے حضورﷺ کی شان میں گستاخی کی، پر تشدد احتجاج، پولیس کا لاٹھی چارج
Comment
Your View
We'd love to hear your perspective on this article. Join the conversation and share your thoughts below!
Post your comment
0 CommentsNo comments