مکہ مکرمہ میں "العربیہ" کے رپورٹر اسامہ القاسم نے سعودی فضائی دفاع کی جانب سے ایک حوثی ڈرون کو تباہ کرنے کی تفصیلات بے نقاب کی ہیں۔ اس ڈرون نے مکہ مکرمہ کو نشانہ بنانے کی کوشش کی تھی اور اس بات کی تصدیق کی کہ روک تھام کی یہ کارروائی مقدس دارالحکومت کے جنوب میں اور رہائشی علاقوں سے باہر کی گئی جس سے عمرہ زائرین کی آمدورفت پر کوئی اثر نہیں پڑا اور نہ ہی شہریوں کے لیے انتباہ جاری کرنے کی ضرورت پیش آئی۔ اس دورن المسجد الحرام میں حالات معمول کے مطابق رہے۔
اس کے ساتھ ہی اسامہ القاسم نے واضح کیا کہ ڈرون کو تباہ کرنے کا عمل مکہ مکرمہ کے جنوبی حصے میں مسجد الحرام کے گرد مرکزی علاقے سے تقریباً 25 سے 30 کلومیٹر کے فاصلے پر اور ڈرون کے مقدس دارالحکومت کی ممنوعہ فضائی حدود میں داخل ہونے سے پہلے پیش آیا۔
اسامہ القاسم نے بتایا کہ مکہ مکرمہ کے جنوب میں کئی علاقے شامل ہیں جن میں الشوقیہ، بطحاء قریش اور ولی العہد کا علاقہ بھی ہے۔ انہوں نے نشان دہی کی کہ مسجد حرام کے مرکزی علاقے سے ان تمام دور دراز علاقوں کا سفری وقت تقریباً آدھے گھنٹے سے زیادہ نہیں ہے۔
اتحاد کی جانب سے کیے گئے اعلان کے مطابق ڈرون کو منگل 15 ستمبر 2026 کو شام 6:50 بجے مکہ مکرمہ کی ممنوعہ فضائی حدود میں داخل ہونے سے پہلے ہی تباہ کر دیا گیا۔ ’’ العربیہ ‘‘ کے رپورٹر نے بتایا کہ مکہ مکرمہ کے رہائشیوں اور عمرہ زائرین نے اس کارروائی کو نہیں دیکھا کیونکہ ڈرون کی روک تھام آبادی اور آباد علاقوں کے جغرافیائی دائرے سے باہر اور جنوبی علاقے میں اور مکہ مکرمہ کی فضائی حدود تک پہنچنے سے پہلے کی گئی تھی۔
اسی تناظر میں انہوں نے واضح کیا کہ کارروائی کے دوران شہریوں کے لیے کوئی انتباہی سائرن نہیں بجائے گئے، کیونکہ انتباہ اس وقت جاری کیے جاتے ہیں جب کسی شے کے آباد یا مرکزی علاقوں میں گرنے کا امکان ہو جبکہ ڈرون سے مرکزی علاقے سے باہر اور مکہ مکرمہ کے جنوبی حصے میں تقریباً 30 کلومیٹر کے فاصلے پر نمٹا گیا۔
العربیہ کے رپورٹر اسامہ القاسم نے تصدیق کی کہ اس حملے کی کوشش سے مسجد حرام کے اندر کے حالات پر کوئی اثر نہیں پڑا جہاں آمدورفت بالکل معمول کے مطابق جاری رہی اور عمرہ کی کارروائیاں بھی بغیر کسی اثر کے مقررہ جدول کے مطابق چلتی رہیں۔ انہوں نے بتایا کہ حرم مکی، گزشتہ تین مہینوں کے اعداد و شمار کے مطابق ماہانہ 30 لاکھ سے زائد عمرہ زائرین کا استقبال کرتا ہے۔ عمرہ زائرین کی آمد و رفت اور مکہ مکرمہ اور مدینہ منورہ کے درمیان ان کی نقل و حرکت معمول کے مطابق جاری رہی۔
اس کے علاوہ اسامہ القاسم نے کہا کہ مسجد حرام کا قریبی علاقہ مکمل استحکام اور معمول کی حالت میں ہے۔ زائرین کے درمیان مکمل اطمینان ہے اور اس حملے کی کوشش نے مسجد حرام کا قصد کرنے والوں کی آمدورفت یا نقل و حرکت پر کوئی اثر مرتب نہیں کیا۔
’’ العربیہ ‘‘ کے رپورٹر نے بتایا کہ اس حملے کی کوشش کو مکہ مکرمہ اور مذہبی و مقدس مقامات کو نشانہ بنانے کی کوشش کی سنگینی کے پیش نظر عرب اور اسلامی ممالک کے ساتھ ساتھ غیر اسلامی ممالک کی طرف سے بھی شدید مذمت کا سامنا کرنا پڑا۔
انہوں نے مزید کہا کہ اتحاد کی جانب سے اس کوشش کو ناکام بنانے کے اعلان کے بعد مذمتی بیانات کا تانتا بندھ گیا کیونکہ اسے بین الاقوامی قانون کی خلاف ورزی اور دنیا بھر کے مسلمانوں کے ہاں مذہبی مقام رکھنے والے علاقے کو نشانہ بنانے کے مترادف قرار دیا گیا۔
انہوں نے کہا کہ اتحاد کے بیان نے جو کچھ ہوا اسے مکہ مکرمہ اور مدینہ منورہ میں مذہبی اور مقدس مقامات کو نشانہ بنانے کی حوثی کوشش قرار دیا، اسلامی ممالک کی جانب سے ان علاقوں کو نشانہ بنانے والے حملوں کی مذمت میں بیانات جاری کیے گئے۔
العربیہ کے رپورٹر اسامہ القاسم نے یہ بھی بتایا کہ اس حملے کی کوشش نے سیاسی سطح پر بھی ردِعمل پیدا کیا۔ انہوں نے سلامتی کونسل میں سعودی موقف اور خودمختاری سے متعلق مسائل اور قرار داد 2216 سے مملکت کی وابستگی کا حوالہ دیا۔
اسی تناظر میں انہوں نے تصدیق کی کہ مکہ مکرمہ میں زمینی صورتِ حال، حملے کی کوشش کے باوجود، مستحکم اور معمول کے مطابق رہی۔ مسجد حرام کے اندر ہو یا عمرہ زائرین کی آمد و رفت میں صورت حال معمول کے مطابق رہی۔ ڈرون کو مرکزی علاقے اور رہائشی علاقوں سے دور تباہ کیا گیا اور شہریوں کے لیے انتباہ جاری کرنے کی کوئی ضرورت نہیں پڑی۔
مکہ مکرمہ میں "العربیہ" کے رپورٹر اسامہ القاسم نے سعودی فضائی دفاع کی جانب سے ایک حوثی ڈرون کو تباہ کرنے کی تفصیلات بے نقاب کی ہیں۔ اس ڈرون نے مکہ مکرمہ کو نشانہ بنانے کی کوشش کی ت...
Source: Admin
Comment
Your View
We'd love to hear your perspective on this article. Join the conversation and share your thoughts below!
Post your comment
0 CommentsNo comments