Meta Pixel
Logo

Akhbar-e-Mashriq

PUBLISHED FROM Kolkata Delhi Ranchi Lucknow Bhopal Srinagar Siliguri Asansol
Akhbar-e-Mashriq Akhbar-e-Mashriq
ALERTS
Kolkata

کشن جی کی موت دیکھی تھی اپنی آنکھوں سے، بیوی کو ساتھ لے کر جنگل محل میں دوبارہ کھڑے ہونے کی جدوجہد میں ’اکیلا نتائی‘ منگل

Admin
By Admin
Sep 17, 2026

Your Reaction

{{ voteMessage }}

{{ currentVoteCount }} Responses

Trending Video

KOLKATA METRO STATION PAR MAHILA PASSENGER AUTHORITIES NE LAGAYA JURMANA

کشن جی کی موت دیکھی تھی اپنی آنکھوں سے، بیوی کو ساتھ لے کر جنگل محل میں دوبارہ کھڑے ہونے کی جدوجہد میں ’اکیلا نتائی‘ منگل
کشن جی کی موت دیکھی تھی اپنی آنکھوں سے، بیوی کو ساتھ لے کر جنگل محل میں دوبارہ کھڑے ہونے کی جدوجہد میں ’اکیلا نتائی‘ منگل — September 17, 2026
کشن جی کی موت دیکھی تھی اپنی آنکھوں سے، بیوی کو ساتھ لے کر جنگل محل میں دوبارہ کھڑے ہونے کی جدوجہد میں ’اکیلا نتائی‘ منگل
پولیٹ بیورو کے رکن کشن جی کی موت اپنی آنکھوں کے سامنے دیکھی تھی۔ پھر ایک اور مرکزی کمیٹی کے رکن آکاش کے باڈی گارڈ کی ذمہ داری بھی سنبھالی۔ اور اسی شخص کو جنگل چھوڑنا پڑا۔ تاہم جنگل چھوڑنے کے ایک ماہ بعد بھی پارٹی کے تئیں اس کی وفاداری میں کوئی کمی نہیں آئی۔ اسی لیے خودسپردگی کے بارے میں سوچنے کے بجائے بیوی کو ساتھ لے کر ’اکیلا نتائی‘ منگل جنگل محل میں دوبارہ کھڑے ہونے کی لڑائی میں شامل ہوگیا۔ تاہم خاندان چاہتا ہے کہ دونوں خودسپردگی کرکے سماج کے مرکزی دھارے میں واپس آئیں۔
مغربی مدنی پور ضلع کے شالبنی تھانے سے متصل جنگل کے قریب رنجھار گاو¿ں کے رتن مہاتو اور اشٹمی مہاتو کے دو بیٹے اور ایک بیٹی ہیں۔ بڑے بیٹے کا نام پتیت مہاتو ہے۔ گھر والے پیار سے اسے پاپو کہتے تھے۔ سال تھا 2008۔ اس وقت وہ جے پور ہائی اسکول کا طالب علم تھا۔ خاندان سے لاعلمی میں وہ ماو¿ نوازوں کے لیے کام کر رہا تھا۔ اس کے بعد 2010 میں اسی گاو¿ں کے قریب مشترکہ فورس کی فائرنگ میں کیمپ میں سوئے ہوئے ماو¿ لیڈر سدھو سمیت کئی افراد ہلاک ہوگئے۔ اس وقت پاپو نویں جماعت کا طالب علم تھا۔ اسکول میں امتحان کے دن اچانک صبح بیگ لے کر اسکول کے لیے روانہ ہوا اور 15 سالہ یہ لڑکا لاپتہ ہوگیا۔ خاندان نے پڑوسیوں سے لے کر رشتہ داروں تک ہر جگہ اسے تلاش کرنے میں کوئی کسر نہیں چھوڑی۔ لیکن اس کا کوئی سراغ نہیں ملا۔ بعد میں خاندان کو معلوم ہوا کہ پتیت ماو¿ نواز گروپ میں شامل ہوگیا ہے۔ نام بدل کر منگل عرف سمیر عرف پانڈے ہوگیا۔
پرسکون طبیعت کے ساتھ ذہانت، سمجھ بوجھ اور لڑاکا مزاج کی وجہ سے اسے کشن جی کے اہم باڈی گارڈز میں شامل کیا گیا۔ 24 نومبر 2011 کو جب بوری شول کے جنگل میں کشن جی مشترکہ فورس کی فائرنگ سے شدید زخمی ہوکر گر پڑے، اس وقت وہاں سوچترا مہاتو اور منگل بھی موجود تھے۔ دونوں وہاں سے فوراً فرار ہوگئے۔ بعد میں سوچترا نے خودسپردگی کر دی۔ لیکن منگل نے جنگل کی اس جنگ کو ترک نہیں کیا۔ جھارکھنڈ کے گڑاباندا کے جنگل میں آکاش سمیت دیگر لیڈروں سے ملاقات کی۔ اس کے بعد دوبارہ اسکواڈ میں کام شروع کردیا۔ گڑاباندا سے ڈموریہ، یہاں تک کہ اڑیسہ کے میوربھنج علاقے میں تنظیم کو وسعت دینے کے کام میں بھی سرگرم ہوگیا۔ تاہم بعد میں پارٹی میں پھوٹ پڑنے کی وجہ سے یہ کام ادھورا رہ گیا۔
ایک وقت میں اس کی ملاقات جھاڑگرام کے بیل پہاڑی کے پاتھرناسہ گاو¿ں کی ملینا عرف مالتی مرمو عرف مالا سے ہوئی، جس نے دو سال کی عمر میں اپنی ماں کو کھو دیا تھا۔ ملینا نے بھی 2010 میں ماو¿ نواز تنظیم میں شمولیت اختیار کی تھی۔ اس وقت وہ نوعمر تھی۔ 2013 میں ملینا اور منگل کی شادی ہوگئی۔
منگل کے کندھوں پر بنگال کے ریاستی سکریٹری اور مرکزی کمیٹی کے رکن اسیم منڈل عرف آکاش عرف تیمیر عرف منوج دا کو سکیورٹی فراہم کرنے کی ذمہ داری آگئی۔ 2018 سے یہ جوڑا بنگال بریگیڈ کے ساتھ مغربی سنگھ بھوم کے سارَنڈا کے جنگلات میں بھی موجود تھا۔ لیکن حالات کے دباو¿ اور مشترکہ فورسز کی کارروائی سے بچتے ہوئے وہ دوبارہ پرولیا سے متصل دلما کے جنگلات میں پہنچ گئے۔
4 اگست کی شام تنظیم کے لیے لیوی وصول کرنے جاتے ہوئے تین ارکان پکڑے گئے۔ منگل فرار ہوکر بچ گیا۔ اس واقعے کے ایک ہفتے بعد آکاش نے پانچ افراد کے ساتھ ایک جائزہ اجلاس کیا۔ بنگال ریاستی کمیٹی کی فورس کو تحلیل کردیا گیا۔ اس کے بعد سچن، میتا اور جبا کو الوداع کہتے ہوئے وہ منگل اور مالتی کے ساتھ کسی دوسری جگہ چلا گیا۔ پھر 13-14 اگست کو جنگل چھوڑ کر شہر کی طرف روانہ ہوگیا۔ بے سرپرست رہ جانے والے سچن، میتا اور جبا رواں ماہ کے دوسرے ہفتے میں سیف ہاو¿س منتقل ہوگئے۔ بعد میں سچن کی نشاندہی پر جھارکھنڈ کے جنگل میں چھپائے گئے چند آتشیں ہتھیار بھی برآمد ہوئے۔ تاہم منگل اپنی بیوی کے ساتھ اب بھی بنگال-جھارکھنڈ سرحد پر روپوش ہے۔
جھارکھنڈ پولیس کے ریکارڈ میں منگل کے سر کی قیمت 5 لاکھ روپے اور اس کی بیوی مالتی کے سر کی قیمت 2 لاکھ روپے مقرر ہے۔ دونوں ریاستوں کی خفیہ ایجنسیوں کو معلوم ہوا ہے کہ منگل اے کے-47 اور اس کی بیوی انساس رائفل لے کر گھوم رہے ہیں۔ جنگل محل کی سڑکوں سے وہ اپنے ہاتھ کی لکیروں کی طرح واقف ہیں۔ اس کے علاوہ علاقے کے مقامی لوگوں کے ساتھ بھی ان کے اچھے تعلقات ہیں۔ اسی لیے جھارکھنڈ پولیس کی جانب سے انعام کا اعلان اور اشتہار جاری کیے جانے کے باوجود ’اکیلا نتائی‘ کی موجودہ جگہ کے بارے میں درست معلومات نہیں ہیں۔
تاہم اس پورے واقعے نے ان دونوں ماو¿ نواز لیڈروں کے درمیان ایک بار پھر خوف پیدا کردیا ہے۔ منگل کے والد رتن اور والدہ اشٹمی کہتے ہیں، ”واپس آ جاو¿ بیٹا۔“ بیٹی سے بھی اس کے والد شالائی مرمو نے یہی اپیل کی ہے۔
ریاستی پولیس کے ایک اعلیٰ افسر نے کہا، ”اگر وہ مرکزی دھارے میں واپس آتے ہیں تو خودسپردگی کی پالیسی کے تحت ملنے والی تمام سہولیات انہیں دی جائیں گی۔ مختلف طریقوں سے ان تک پیغام پہنچایا گیا ہے۔“

کشن جی کی موت دیکھی تھی اپنی آنکھوں سے، بیوی کو ساتھ لے کر جنگل محل میں دوبارہ کھڑے ہونے کی جدوجہد میں ’اکیلا نتائی‘ منگل...

Source: Admin

Related Articles

مزید دیکھیں
Discussion

Comment
Your View

We'd love to hear your perspective on this article. Join the conversation and share your thoughts below!

Post your comment

0 Comments

No comments

Trending Videos
Instagram
X (Twitter)
LinkedIn