نئی دہلی: سپریم کورٹ نے جمعہ کو ترنمول کانگریس (ٹی ایم سی) کی رکن پارلیمنٹ مہوا موئترا کی اس درخواست پر سماعت سے انکار کر دیا، جس میں انہوں نے مبینہ طور پر اشتعال انگیز عوامی بیانات سے متعلق مقدمے کی تفتیش کے دوران ذاتی طور پر پولیس کے سامنے پیش ہونے کے بجائے ویڈیو کانفرنسنگ کے ذریعے شامل ہونے کی اجازت طلب کی تھی۔
جسٹس دیپانکر دتہ اور جسٹس شیل ناگو پر مشتمل بنچ نے درخواست کی سماعت کے دوران واضح کیا کہ تفتیش میں تعاون کرنے کے لیے درخواست گزار کو ذاتی طور پر حاضر ہونا چاہیے۔ عدالت نے اس مطالبے پر سوال اٹھاتے ہوئے کہا کہ صرف رکن پارلیمنٹ ہونے کی بنیاد پر ویڈیو کانفرنسنگ کی اجازت نہیں دی جا سکتی۔
سماعت کے دوران مہوا موئترا کی جانب سے سینئر وکیل گوپال شنکر نارائنن نے موقف اختیار کیا کہ ان کی موکلہ تفتیش میں شامل ہونے کے لیے تیار ہیں، تاہم وہ پولیس اسٹیشن میں پیش ہونے کے بجائے ویڈیو کانفرنسنگ کے ذریعے اپنا بیان ریکارڈ کرانا چاہتی ہیں۔ اس پر جسٹس دیپانکر دتہ نے استفسار کیا، ’’ویڈیو کانفرنسنگ کیوں؟ کیا صرف اس لیے کہ آپ رکن پارلیمنٹ ہیں؟‘‘
وکیل نے عدالت کو بتایا کہ اگر مہوا موئترا ذاتی طور پر پولیس اسٹیشن جاتی ہیں تو انہیں ہجوم کے حملے کا خدشہ ہے۔ انہوں نے ایک سابقہ واقعے کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ ان پر پہلے بھی انڈے پھینکے جا چکے ہیں۔ عدالت اس دلیل سے مطمئن نہیں ہوئی اور سخت ریمارکس دیتے ہوئے کہا، "آپ رکن پارلیمنٹ ہیں؟ سیاست میں آنے کے بعد آپ کو انڈوں سے ڈر لگتا ہے؟ ہمارے آزادی کے مجاہدین نے تو اپنے سینوں پر گولیاں کھائی تھیں۔ اس نوعیت کی درخواستیں اس عدالت کے سامنے نہیں آنی چاہئیں۔"
عدالت کے ان سخت تبصروں کے بعد مہوا موئترا کے وکیل نے درخواست واپس لینے کی اجازت مانگی، جسے منظور کرتے ہوئے سپریم کورٹ نے درخواست کو واپس لیا ہوا قرار دے کر خارج کر دیا۔ اضح رہے کہ اس سے قبل کلکتہ ہائی کورٹ نے مہوا موئترا کو اسی مقدمے میں عبوری راحت فراہم کرتے ہوئے ان کی گرفتاری سمیت کسی بھی سخت پولیس کارروائی پر 5 اکتوبر تک روک لگا دی تھی۔ تاہم عدالت نے یہ شرط عائد کی تھی کہ وہ تفتیش میں مکمل تعاون کریں گی۔
ہائی کورٹ نے اپنے حکم میں کہا تھا کہ پولیس تفتیش جاری رکھ سکتی ہے، لیکن اگر مہوا موئترا مکمل تعاون کریں تو عبوری تحفظ کی مدت کے دوران ان کے خلاف کوئی تعزیری کارروائی نہ کی جائے۔ ریاستی حکومت نے ہائی کورٹ کو بتایا تھا کہ مہوا موئترا کو پوچھ گچھ کے لیے چار مرتبہ نوٹس جاری کیے گئے، مگر انہوں نے ہر بار اپنی پارلیمانی مصروفیات کا حوالہ دیتے ہوئے حاضر ہونے سے معذرت کی۔
Source: Admin
10 months ago
بریلی میں جُمعہ کی نماز کے بعد ہنگامہ، ’آئی لو محمد‘ پوسٹر تنازع پر پولیس کا لاٹھی چارج، حالات کشیدہ
10 months ago
وقف قانون پر سپریم کورٹ کا بڑا فیصلہ، کچھ دفعات پر لگائی روک
11 months ago
بھارت میں آج لگے گا چاند گرہن، اتنے بجے شروع ہوگا “سوتک” کال
10 months ago
آنکھ کھلتے ہی مہنگائی کا دھچکا، تیل کمپنیوں نے گیس سلنڈر کی قیمتیں بڑھا دیں
10 months ago
سی پی رادھاکرشنن نائب صدر جمہوریہ منتخب قرار دیے گئے
11 months ago
جی ایس ٹی میں اب 5 فیصد اور 18 فیصد کے دو سلیب، 22 ستمبر سے لاگو ہوں گے
10 months ago
بریلی میں جُمعہ کی نماز کے بعد ہنگامہ، ’آئی لو محمد‘ پوسٹر تنازع پر پولیس کا لاٹھی چارج، حالات کشیدہ
10 months ago
وقف قانون پر سپریم کورٹ کا بڑا فیصلہ، کچھ دفعات پر لگائی روک
11 months ago
بھارت میں آج لگے گا چاند گرہن، اتنے بجے شروع ہوگا “سوتک” کال
10 months ago
آنکھ کھلتے ہی مہنگائی کا دھچکا، تیل کمپنیوں نے گیس سلنڈر کی قیمتیں بڑھا دیں
10 months ago
سی پی رادھاکرشنن نائب صدر جمہوریہ منتخب قرار دیے گئے
11 months ago
جی ایس ٹی میں اب 5 فیصد اور 18 فیصد کے دو سلیب، 22 ستمبر سے لاگو ہوں گے
11 months ago
جی ایس ٹی ریٹ کم ہونے سے کیا ہوا سستا اور کیا ہوا مہنگا
10 months ago
پونے کی مسجد میں کھدائی کے دوران سرنگ دریافت، کشیدگی، 200 پولیس اہلکار تعینات
11 months ago
حضرت بل درگاہ میں قومی نشان کی بے حرمتی کسی طور برداشت نہیں کی جا سکتی: کرن رجیجو
10 months ago
شر پسند نے حضورﷺ کی شان میں گستاخی کی، پر تشدد احتجاج، پولیس کا لاٹھی چارج
Comment
Your View
We'd love to hear your perspective on this article. Join the conversation and share your thoughts below!
Post your comment
0 CommentsNo comments