نئی دہلی : خصوصی جامع نظرثانی (ایس آئی آر) کے دوران ووٹر فہرستوں سے مبینہ طور پر نام حذف کیے جانے اور الیکشن کمیشن کی جانب سے قانونی فرائض کی مبینہ خلاف ورزیوں کے معاملے میں چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار کے خلاف کارروائی اور معاملے کی تحقیقات کے لیے خصوصی تحقیقاتی ٹیم (ایس آئی ٹی) تشکیل دینے کی درخواست سپریم کورٹ میں دائر کی گئی ہے۔
یہ عرضی ایڈووکیٹ شیلیندر منی ترپاٹھی نے ایڈووکیٹ چاند قریشی کے توسط سے داخل کی ہے۔ درخواست میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ 23 ستمبر 2026 کو منظر عام پر آنے والے دستاویزی ریکارڈ سے الیکشن کمیشن آف انڈیا کے اندر مبینہ طور پر غیر معمولی آئینی اختلافات اور قانونی بے ضابطگیوں کا انکشاف ہوا ہے۔ عرضی میں کہا گیا ہے کہ نومبر 2025 سے اگست 2026 تک تقریباً 10 ماہ کے دوران دیگر دو الیکشن کمشنروں، ڈاکٹر سکھبیر سنگھ سندھو اور ڈاکٹر وویک جوشی نے کم از کم 14 الگ الگ مواقع پر تحریری طور پر اختلاف اور اعتراضات ریکارڈ کیے۔
درخواست گزار کا دعویٰ ہے کہ ان میں ایک ہی دن چار مرتبہ بھی اعتراضات درج کیے گئے اور یہ اعتراضات ان فیصلوں کے خلاف تھے جنہیں عرضی میں چیف الیکشن کمشنر کی جانب سے یکطرفہ، غیر مجاز اور غیر قانونی طور پر لیے اور نافذ کیے جانے کا الزام لگایا گیا ہے۔ عرضی میں الیکشن کمیشن کے فارم 6 میں مبینہ طور پر غیر قانونی تبدیلی کا بھی ذکر کیا گیا ہے۔ درخواست گزار کے مطابق پہلی مرتبہ ووٹر بننے والے نوجوانوں کے لیے ’’آخری ایس آئی آر سے ربط‘‘ جیسی آبائی یا خاندانی شرط عائد کی گئی، حالانکہ اس کے لیے قانون سازی یا رولز میں ترمیم نہیں کی گئی تھی۔
عرضی میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ الیکشن کمیشن کے اکثریتی ارکان نے بھی اس اقدام کو ’’غیر مجاز اور غیر قانونی‘‘ قرار دیا تھا۔ درخواست میں یہ الزام بھی عائد کیا گیا ہے کہ مختلف دفعات کے تحت مقامی سطح پر کام کرنے والے ای آر اوز کے قانونی اختیارات کو محدود کرتے ہوئے ووٹر فہرستوں کے انتظام کو دہلی میں موجود ڈی جی آئی ٹی کے دفتر کے تحت مرکزی نوعیت دینے کی کوشش کی گئی۔ عرضی گزار کا کہنا ہے کہ اس طرح انتخابی فہرستوں کی تیاری اور انتظام کے حوالے سے قانون میں مقرر کردہ غیر مرکزی نظام متاثر ہوا۔
سپریم کورٹ میں دائر عرضی میں عدالت سے درخواست کی گئی ہے کہ ایسے تمام فیصلوں، رہنما خطوط، ہدایات اور سافٹ ویئر میں کی گئی تبدیلیوں کو غیر آئینی، قانونی اختیار سے تجاوز پر مبنی اور ابتدا ہی سے کالعدم قرار دیا جائے، جو چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار کے تحت مکمل کمیشن کی منظوری کے بغیر شروع، منظور یا نافذ کیے گئے یا جنہیں الیکشن کمیشن کی اکثریتی رائے کے برخلاف نافذ کیا گیا۔
درخواست گزار نے متعلقہ حکام کو ہدایت دینے کی بھی درخواست کی ہے کہ چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار، سینئر ڈپٹی الیکشن کمشنر منیش گرگ، ڈائریکٹر جنرل (آئی ٹی) سیما کھنہ اور دیگر ذمہ دار افسران کے خلاف شکایات درج کی جائیں اور مبینہ سرکاری فرائض کی خلاف ورزی پر قانونی کارروائی شروع کی جائے۔ عرضی میں ایک آزاد اور اعلیٰ اختیارات رکھنے والی عدالتی تحقیقاتی کمیٹی یا خصوصی تحقیقاتی ٹیم (ایس آئی ٹی) تشکیل دینے کی درخواست کی گئی ہے، جس کی سربراہی سپریم کورٹ کے کسی ریٹائرڈ جج کو سونپی جائے۔
درخواست گزار نے اس ٹیم میں آئی آئی ٹی سے وابستہ آزاد سائبر سکیورٹی اور آئی ٹی ماہرین کو بھی شامل کرنے کی تجویز دی ہے۔ ایس آئی ٹی کے ذریعہ ڈیٹا بیس کا مکمل تکنیکی، فرانزک اور انتظامی آڈٹ کرانے کا مطالبہ کیا گیا ہے۔ عرضی میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ ایس آئی آر کے دوران ملک کی 30 ریاستوں اور مرکز کے زیر انتظام علاقوں میں 13 کروڑ نام ووٹر فہرستوں سے حذف کیے گئے۔ درخواست گزار نے اس پورے عمل کی تحقیقات، ذمہ دار افراد کا تعین اور اس بات کی جانچ کا مطالبہ کیا ہے کہ اتنی بڑی تعداد میں نام حذف کرنے کے لیے ادارہ جاتی سطح پر کیا طریقہ کار اختیار کیا گیا۔
عرضی میں مزید الزام لگایا گیا ہے کہ گوا میں سافٹ ویئر رول بیک سے مبینہ طور پر انکار کے نتیجے میں 97 تصدیق شدہ شہریوں کو ووٹر کے حق سے محروم کیا گیا۔ اسی طرح مغربی بنگال میں 16.10 لاکھ مبینہ فرضی یا غیر حقیقی اپیلوں کو اختیار دینے یا درج کرنے کا بھی الزام عائد کیا گیا ہے۔ درخواست گزار کے مطابق یہ اقدامات، اگر تحقیقات میں درست ثابت ہوتے ہیں، تو سرکاری فرائض کی خلاف ورزی کے زمرے میں آسکتے ہیں اور متعلقہ افسران کے خلاف قانونی کارروائی کی ضرورت ہوگی۔
نئی دہلی : خصوصی جامع نظرثانی (ایس آئی آر) کے دوران ووٹر فہرستوں سے مبینہ طور پر نام حذف کیے جانے اور الیکشن کمیشن کی جانب سے قانونی فرائض کی مبینہ خلاف ورزیوں کے معاملے میں چیف ...
Source: Admin
Comment
Your View
We'd love to hear your perspective on this article. Join the conversation and share your thoughts below!
Post your comment
0 CommentsNo comments