نئی دہلی: ’کاکروچ جنتا پارٹی‘ (سی جے پی) کے بانی ابھیجیت دپکے نے جمعہ کو اپوزیشن جماعتوں سے کہا کہ اگر انہیں یقین ہے کہ انتخابات میں دھاندلی ہو رہی ہے تو انہیں انتخابات میں حصہ لینا بند کر دینا چاہیے۔ ان کا کہنا تھا کہ مبینہ طور پر دھاندلی والے انتخابات میں مسلسل حصہ لینے سے ایسی جماعتیں خود ان انتخابات کو جائز حیثیت دیتی ہیں اور یہ تاثر قائم کرنے میں مدد کرتی ہیں کہ انتخابات آزادانہ اور منصفانہ ہیں۔ دپکے نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’ایکس‘ پر ایک پوسٹ میں کہا کہ اپوزیشن جماعتیں بیک وقت یہ دعویٰ نہیں کر سکتیں کہ انتخابات میں دھاندلی ہو رہی ہے اور پھر انہی انتخابات میں حصہ بھی لیتی رہیں۔
انہوں نے کہا، ’’ہاں، انتخابات میں دھاندلی ہو رہی ہے۔ لیکن جب آپ دھاندلی والے انتخابات میں مسلسل حصہ لیتے ہیں تو آپ ان انتخابات کو جائز حیثیت دیتے ہیں اور یہ تاثر برقرار رکھنے میں مدد کرتے ہیں کہ انتخابات آزادانہ اور منصفانہ ہیں۔‘‘ کاکروچ جنتا پارٹی کے بانی نے سوال اٹھایا کہ کیا اپوزیشن جماعتیں اس خوف کی وجہ سے انتخابات میں حصہ لیتی رہتی ہیں کہ اگر وہ انتخابی عمل سے دور رہیں گی تو سیاسی طور پر ختم ہو جائیں گی۔
انہوں نے کہا، ’’شاید آپ اس لیے مسلسل انتخابات لڑتے ہیں کہ آپ کو خوف ہے کہ اگر آپ نے ایسا نہیں کیا تو آپ کا وجود ختم ہو جائے گا۔ لیکن جب ووٹ چوری کیے جانے، آپ کے ایم ایل اے اور ایم پی توڑے جانے اور آپ کی جماعتوں میں پھوٹ ڈالے جانے کے دعوے کیے جا رہے ہوں تو آپ کس طرح کے وجود کو بچانے کی کوشش کر رہے ہیں؟‘‘ دپکے نے کہا، ’’یہ سیاسی بقا نہیں ہے۔ آپ صرف ایسے نظام میں خود کو زندہ رکھنے کی کوشش کر رہے ہیں جو جب چاہے آپ کو کمزور کر سکتا ہے، آپ کی پارٹی کو تقسیم کر سکتا ہے یا آپ کے منتخب نمائندوں کو اپنے ساتھ لے جا سکتا ہے۔ آپ اس طرح کب تک زندہ رہ سکتے ہیں؟
‘‘ انہوں نے اپوزیشن جماعتوں پر یہ الزام بھی لگایا کہ وہ انتخابات میں مبینہ دھاندلی کے معاملے کو ریاست یا سیاسی جماعت کے حساب سے منتخب انداز میں اٹھاتی ہیں۔ سی جے پی کنوینر نے کہا، ’’آپ صرف ان ریاستوں میں انتخابی دھاندلی کی بات نہیں کر سکتے جو آپ کے لیے اہم ہیں اور دوسری جگہوں پر ہونے والی مبینہ دھاندلی پر خاموش رہیں۔ اگر انتخابات میں دھاندلی ہو رہی ہے تو اس سے قطع نظر فرق پڑنا چاہیے کہ ریاست کون سی ہے یا کس سیاسی جماعت کو اس کا سامنا ہے۔‘‘ دپکے نے مزید کہا، ’’آپ یہ کہتے ہوئے کہ کھیل میں دھاندلی ہے، مسلسل اس کھیل کا حصہ نہیں بن سکتے۔
آپ کی شرکت ہی وہ چیز ہے جو ان مبینہ دھاندلی والے انتخابات کو جائز حیثیت دیتی ہے۔‘‘ اپوزیشن جماعتوں سے جمہوریت کو اپنے سیاسی مفادات پر ترجیح دینے کی اپیل کرتے ہوئے انہوں نے کہا، ’’اپنی سیاسی بقا کے بارے میں سوچنے سے پہلے ملک اور اس کی جمہوریت کے بارے میں سوچیں۔ موقف اختیار کریں اور دھاندلی والے انتخابات میں حصہ لینا بند کریں۔‘‘ دپکے نے مبینہ طور پر انتخابی نتائج کو متاثر کرنے کے امکان کو فکس کرکٹ میچ کی مثال سے سمجھایا۔ انہوں نے کہا کہ کسی انتخاب کو بظاہر مقابلے والا بنایا جا سکتا ہے، چاہے اس کے نتیجے میں مبینہ طور پر پہلے ہی مداخلت کی گئی ہو۔
انہوں نے کہا، ’’جس طرح فکس میچ میں ہر کیچ نہیں گرایا جاتا، اسی طرح کچھ کیچ پکڑے بھی جاتے ہیں اور میچ کو آخری اوور تک لے جایا جا سکتا ہے تاکہ اسے سخت مقابلے کے طور پر پیش کیا جا سکے۔‘‘ انہوں نے مزید کہا، ’’اسی طرح آپ کو کچھ کامیابیاں دی جائیں گی، اتنی کہ آپ انتخابات لڑتے رہیں اور لوگوں کو یقین رہے کہ واقعی مقابلہ ہوا تھا۔ یہ چند کامیابیاں وہ ٹکڑے ہیں جو آپ کو کھیل میں برقرار رکھتے ہیں اور پورے عمل کو جائز دکھانے میں مدد کرتے ہیں۔‘
‘ اس سے ایک روز قبل، جمعرات کو، سی جے پی کے بانی نے چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار سے استعفیٰ دینے کا مطالبہ کیا تھا اور کہا تھا کہ مطالبہ پورا نہ ہونے کی صورت میں وہ ’’جنتر منتر 2.0‘‘ کے نام سے احتجاجی تحریک شروع کریں گے۔ دپکے کے یہ بیانات ’دی انڈین ایکسپریس‘ کی بدھ کو شائع ہونے والی ایک رپورٹ کے ایک روز بعد سامنے آئے۔
رپورٹ کے مطابق الیکشن کمشنروں سکھبیر سنگھ سندھو اور وویک جوشی نے گزشتہ 10 ماہ کے دوران الیکشن کمیشن کے فیصلوں اور احکامات پر کم از کم 14 مرتبہ باضابطہ اعتراض کیا تھا۔ ان معاملات میں ووٹروں کے نام شامل کرنے، حذف کرنے، دوبارہ بحال کرنے اور ووٹر رجسٹریشن کے عمل میں تبدیلیاں جیسے امور شامل تھے۔ ’دی انڈین ایکسپریس‘ کی رپورٹ کے بعد انتخابی پینل کے حکام نے کہا کہ دونوں کمشنروں نے مختلف ریاستوں میں انتخابی فہرستوں کی صفائی اور ووٹر ڈیٹا بیس سے متعلق فیصلوں پر سوالات اٹھائے تھے۔
نئی دہلی: ’کاکروچ جنتا پارٹی‘ (سی جے پی) کے بانی ابھیجیت دپکے نے جمعہ کو اپوزیشن جماعتوں سے کہا کہ اگر انہیں یقین ہے کہ انتخابات میں دھاندلی ہو رہی ہے تو انہیں انتخابات میں حصہ لین...
Source: Admin
Comment
Your View
We'd love to hear your perspective on this article. Join the conversation and share your thoughts below!
Post your comment
0 CommentsNo comments