سعودی عرب نے میزائلوں اور ڈرونز کے حملوں کو ایسے وقت میں ناکام بنا دیا جب مشرقِ وسطیٰ میں کشیدگی کم کرنے کے لیے خطے کے اعلیٰ حکام ایران میں مذاکرات کے لیے جمع ہوئے۔
عرب نیوز کے مطابق یمن میں قانونی حکومت کی بحالی کے لیے قائم اتحاد نے منگل کو بتایا کہ سعودی ایئر ڈیفنس نے مملکت کے مشرقی صوبے کی جانب داغے گئے تین بیلسٹک میزائلوں کو فضا میں ہی روک کر تباہ کر دیا۔
اتحاد کے ترجمان میجر جنرل ترکی المالکی نے کہا ہے کہ جنوبی سعودی عرب میں فضائی دفاعی نظام نے علاقے کو نشانہ بنانے والے چار ڈرونز کو مار گرایا۔
سعودی سول ڈیفنس نے منگل کی صبح مقامی وقت کے مطابق تقریباً تین بجے مشرقی صوبے اور الخرج کے لیے خطرے سے متعلق انتباہات جاری کیے تاہم بعد ازاں خطرہ ٹلنے کا اعلان کر دیا گیا۔
ایران کی حمایت یافتہ یمن کے حوثی باغی بحیرۂ احمر کے راستے سعودی تیل کی برآمدات کی ناکہ بندی کا اعلان کرنے کے بعد مملکت پر حملے کر رہے ہیں۔
سعودی عرب یمنی افواج کی حمایت کر رہا ہے جو حوثی باغیوں کے قبضے سے علاقے واپس لینے کے لیے لڑ رہی ہیں۔ باغیوں کا مقصد آبنائے باب المندب میں بحری آمد و رفت پر کنٹرول حاصل کرنا ہے۔
حوثی باغیوں کی حمایت کرنے والے ایران نے 28 فروری کو امریکہ اور اسرائیل کی جانب سے ایران کے خلاف جنگ شروع کیے جانے کے بعد آبنائے ہرمز میں بحری جہازوں کو نشانہ بنانا شروع کر دیا ہے۔
حوثی باغی اس سے قبل بھی سعودی عرب میں شہری اور توانائی کے مراکز کو نشانہ بنا چکے ہیں جن میں ریاض کے شاہ خالد ایئرپورٹ پر کیا گیا ایک مہلک حملہ بھی شامل ہے جس میں 13 مسافر ہلاک ہوئے تھے۔
سعودی فوجی اتحاد نے کہا ہے کہ یمن کے حوثیوں کی جانب سے مشرقی علاقے کی طرف داغے گئے 3 بیلسٹک میزائلوں کو تباہ کر دیا۔...
Source: Admin
Comment
Your View
We'd love to hear your perspective on this article. Join the conversation and share your thoughts below!
Post your comment
0 CommentsNo comments