Akhbar-e-Mashriq

Akhbar-e-Mashriq

Logo

Akhbar-e-Mashriq

PUBLISHED FROM Kolkata ♦ Delhi ♦ Ranchi ♦ Lucknow ♦ Bhopal ♦ Srinagar ♦ Siliguri ♦ Asansol
Akhbar-e-Mashriq Akhbar-e-Mashriq
ALERTS
Kolkata

راہل گاندھی نے E20 کے معاملے پر حکومت کو پھر گھیرا: ”مودی جی، بتائیے پٹرول میں حقیقتاً ایتھنول کی مقدار کتنی ہے؟“

Admin
By Admin
Nov 07, 2026
Listen to Article Audio Narration
Loading narration audio... Playing • Tap to pause Tap play to listen to this story

Your Reaction

{{ voteMessage }}

{{ currentVoteCount }} Responses

راہل گاندھی نے E20 کے معاملے پر حکومت کو پھر گھیرا: ”مودی جی، بتائیے پٹرول میں حقیقتاً ایتھنول کی مقدار کتنی ہے؟“
راہل گاندھی نے E20 کے معاملے پر حکومت کو پھر گھیرا: ”مودی جی، بتائیے پٹرول میں حقیقتاً ایتھنول کی مقدار کتنی ہے؟“ — November 07, 2026
راہل گاندھی نے E20 کے معاملے پر حکومت کو پھر گھیرا: ”مودی جی، بتائیے پٹرول میں حقیقتاً ایتھنول کی مقدار کتنی ہے؟“
لوک سبھا میں قائد حزب اختلاف راہل گاندھی نے ہفتہ کے روز وزیر اعظم نریندر مودی کی حکومت پر الزام عائد کیا کہ پٹرول میں اعلان کردہ حد سے زیادہ ایتھنول ملایا جا رہا ہے، جس سے لوگوں کی گاڑیوں کو نقصان پہنچ رہا ہے۔ یہ الزام ایسے وقت میں لگایا گیا ہے جب تیل کمپنیوں نے کرناٹک حکومت کی تحقیقات میں لگائے گئے الزامات کو مسترد کر دیا ہے۔
راہل گاندھی نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس (سابقہ ٹوئٹر) پر ہندی میں لکھا، ”E20 بدل کر 420 ہوگیا، عوام کی گاڑیوں سے پٹرول کی چوری!“ انہوں نے کہا، ”مودی حکومت کا کہنا ہے کہ پٹرول میں 20 فیصد ایتھنول ہوتا ہے۔ کرناٹک حکومت نے 7 اضلاع سے پٹرول کے نمونے جمع کیے اور انہیں ایک تسلیم شدہ لیبارٹری میں جانچ کے لیے بھیجا۔“
انہوں نے مزید کہا، ”نتائج دیکھیے: 14 میں سے 11 نمونوں میں ایتھنول کی مقدار 20 فیصد سے زیادہ پائی گئی۔
IOCL میں 31.2 فیصد اور HPCL میں 30.5 فیصد ایتھنول پایا گیا۔ IOCL، HPCL، BPCL، نیارا اور شیل، چاہے سرکاری کمپنیاں ہوں یا نجی، سبھی نے مقررہ حد سے تجاوز کیا۔ یہاں تک کہ کمپنیوں کی اپنی لیبارٹریوں نے بھی ایتھنول کی مقدار کی اطلاع نہیں دی۔“
انہوں نے لکھا، ”دوسرے الفاظ میں، آپ مہنگے پٹرول کی قیمت ادا کر رہے ہیں، لیکن آپ کی گاڑی کے ٹینک میں ایتھنول بھرا جا رہا ہے۔ اس کا نقصان کس کو ہو رہا ہے؟ آپ کو!“
راہل گاندھی نے مزید کہا، ”آپ کی گاڑی اتنی زیادہ مقدار میں ایتھنول استعمال کرنے کے لیے تیار نہیں کی گئی ہے۔ اس کا مطلب ہے کم مائلیج اور بار بار مکینک کے پاس جانے کی پریشانی۔ جس گاڑی کو آپ نے بڑے شوق سے خریدا تھا، اسے نقصان پہنچایا جا رہا ہے۔ اور پٹرول پمپ پر ایسا کوئی لیبل بھی نہیں ہے جو آپ کو بتائے کہ آپ کی گاڑی کے ٹینک میں کیا بھرا جا رہا ہے۔ آپ کے پاس کوئی انتخاب ہی نہیں ہے۔“انہوں نے وزیر اعظم سے سوال کیا، ”مودی جی، ہمیں بتائیے کہ ملک کی گاڑیوں کے فیول ٹینک میں آخر کیا بھرا جا رہا ہے؟ پٹرول میں حقیقتاً ایتھنول کی مقدار کتنی ہے؟ 20 فیصد سے زیادہ ایتھنول ملانے والی کمپنیوں کے خلاف کارروائی کب ہوگی؟“راہل گاندھی نے اپنے سابقہ چیلنج کو بھی دہرایا۔انہوں نے لکھا، ”بحث کا چیلنج اب بھی برقرار ہے۔ ہم اس معاملے کو بھی بحث میں شامل کریں گے کہ آخر آپ کی پالیسیوں سے فائدہ کس کو ہو رہا ہے؟“جمعہ کے روز کرناٹک حکومت کی جانب سے جانچ کے نتائج جاری کیے جانے کے بعد انڈین آئل کارپوریشن لمیٹڈ (IOCL)، بھارت پٹرولیم کارپوریشن لمیٹڈ (BPCL) اور ہندوستان پٹرولیم کارپوریشن لمیٹڈ (HPCL) نے مشترکہ بیان جاری کیا۔
بیان میں کہا گیا، ”آئل مارکیٹنگ کمپنیاں یہ واضح کرنا چاہتی ہیں کہ جس طرح یہ دعوے رپورٹ کیے گئے ہیں، وہ مقررہ قانونی اور تکنیکی طریقہ کار کے مطابق کی گئی جانچ کے نتائج سے ثابت نہیں ہوتے۔“کمپنیوں نے کہا کہ وہ کرناٹک سمیت پورے ملک میں جو E20 پٹرول فراہم کر رہی ہیں، وہ بیورو آف انڈین اسٹینڈرڈز کے ایتھنول ملے موٹر پٹرول کے معیار IS 17021 کے مطابق ہے۔کمپنیوں نے اکتوبر 2026 میں کرناٹک میں کی گئی جانچ کے دوران نمونے جمع کرنے کے طریقہ کار اور اختیار کردہ جانچ کے طریق? کار پر بھی اعتراضات اٹھائے ہیں۔

راہل گاندھی نے E20 کے معاملے پر حکومت کو پھر گھیرا: ”مودی جی، بتائیے پٹرول میں حقیقتاً ایتھنول کی مقدار کتنی ہے؟“...

Source: Admin
Trending Videos
Instagram
X (Twitter)
LinkedIn