Akhbar-e-Mashriq

Akhbar-e-Mashriq

Logo

Akhbar-e-Mashriq

PUBLISHED FROM Kolkata ♦ Delhi ♦ Ranchi ♦ Lucknow ♦ Bhopal ♦ Srinagar ♦ Siliguri ♦ Asansol
Akhbar-e-Mashriq Akhbar-e-Mashriq
ALERTS
Kolkata

چبوترہ موجود، مگر مجسمہ غائب! جیاگنج میں لینن کا ٹوٹا ہوا مجسمہ اچانک غائب ہونے پر سیاسی بیان بازی شروع

Admin
By Admin
Nov 07, 2026
Listen to Article Audio Narration
Loading narration audio... Playing • Tap to pause Tap play to listen to this story

Your Reaction

{{ voteMessage }}

{{ currentVoteCount }} Responses

چبوترہ موجود، مگر مجسمہ غائب! جیاگنج میں لینن کا ٹوٹا ہوا مجسمہ اچانک غائب ہونے پر سیاسی بیان بازی شروع
چبوترہ موجود، مگر مجسمہ غائب! جیاگنج میں لینن کا ٹوٹا ہوا مجسمہ اچانک غائب ہونے پر سیاسی بیان بازی شروع — November 07, 2026
چبوترہ موجود، مگر مجسمہ غائب! جیاگنج میں لینن کا ٹوٹا ہوا مجسمہ اچانک غائب ہونے پر سیاسی بیان بازی شروع
پہلے مجسمہ توڑا گیا تھا، اب راتوں رات اس ٹوٹے ہوئے مجسمے کو بھی غائب کر دیا گیا! مغربی بنگال کے مرشدآباد ضلع کے جیاگنج میں لینن کا ٹوٹا ہوا مجسمہ چبوترے سے غائب ہونے کے واقعے نے سنسنی پھیلا دی ہے۔ رات کی تاریکی میں کس نے مجسمہ ہٹایا، اس کو لے کر سیاسی الزام تراشی شروع ہو گئی ہے۔
جیاگنج شری پت سنگھ کالج کے سامنے تین راستوں کے چوراہے پر فائبر سے بنا لینن کا مجسمہ نصب تھا۔ ریاست میں اقتدار کی تبدیلی کے بعد اچانک یہ افواہ پھیل گئی کہ اس جگہ لینن کے مجسمے کی جگہ مراٹھا جنگجو شیواجی کا مجسمہ نصب کیا جائے گا! اس کے بعد ہی دیکھا گیا کہ راتوں رات لینن کا مجسمہ توڑ دیا گیا۔ الزام عائد کیا گیا کہ بی جے پی کی سرپرستی میں غنڈوں نے اس واقعے کو انجام دیا۔ تاہم بی جے پی کا دعویٰ تھا کہ مجسمہ توڑنے کے پیچھے اس کی پارٹی کے کسی بھی شخص کا ہاتھ نہیں ہے۔ اس معاملے پر سیاسی رسہ کشی جاری تھی۔
یہ واقعہ گزشتہ مئی میں پیش آیا تھا۔ اس کے بعد سے لینن کا ٹوٹا ہوا مجسمہ اسی چبوترے پر رکھا ہوا تھا۔ لیکن رات کی تاریکی میں اچانک کسی نے اس مجسمے کو چبوترے سے ہٹا دیا۔ یہ واقعہ بدھ کی رات پیش آیا۔ اس کے بعد تین دن گزر چکے ہیں، لیکن اب تک اس معاملے میں کسی کی گرفتاری نہیں ہوئی ہے۔ سی پی ایم کی جانب سے جیاگنج تھانے میں تحریری شکایت درج کرائی گئی ہے۔ تاہم ٹوٹے ہوئے مجسمے کا بھی کوئی سراغ نہیں مل سکا ہے۔
مقامی ذرائع کے مطابق، 2008 میں جیاگنج کی ا±س وقت کی سی پی ایم کے زیرانتظام میونسپلٹی نے لینن کا یہ مجسمہ نصب کیا تھا۔ اس وقت کے میونسپل چیئرمین شنکر منڈل نے کرشن نگر کے گھورنی سے فائبر کا لینن مجسمہ تیار کروایا تھا۔ مجسمے کے فنکار صدر جمہوریہ ایوارڈ یافتہ مریگانک پال تھے۔ گزشتہ 5 مئی کی رات شرپسندوں کے ایک گروہ نے اس مجسمے کو توڑ دیا تھا۔
مجسمہ توڑنے کے واقعے کے بعد سیاسی بیان بازی شروع ہوئی تھی۔ اب مجسمہ غائب ہونے کے بعد یہ تنازع کئی گنا بڑھ گیا ہے۔ سی پی ایم براہ راست بی جے پی کو مجسمہ ہٹانے کا ذمہ دار قرار دے رہی ہے۔ پارٹی کے مرشدآباد ضلع سکریٹری جامیر ملا کا الزام ہے، ”جن لوگوں نے پہلے مجسمہ توڑا تھا، انہی لوگوں نے اب ثبوت مٹانے کے لیے مجسمے کو ہٹا دیا ہے۔ مجسمہ توڑنے کے وقت بھی جیاگنج تھانے میں شکایت درج کرائی گئی تھی، لیکن پولیس نے کوئی کارروائی نہیں کی۔ اب بھی صورت حال وہی ہے۔“
حالانکہ بی جے پی نے سی پی ایم کے ان تمام الزامات کو بے بنیاد قرار دیتے ہوئے یکسر مسترد کر دیا ہے۔ مقامی رکن اسمبلی اور ریاستی وزیر برائے لائبریری گوری شنکر گھوش کا دعویٰ ہے کہ بی جے پی توڑ پھوڑ کی سیاست پر یقین نہیں رکھتی، بلکہ تخلیق اور تعمیری سیاست پر یقین رکھتی ہے۔ ان کے بقول، ”کسی بھی عظیم شخصیت کا مجسمہ توڑنا بی جے پی کی ثقافت نہیں ہے۔ ہر عظیم شخصیت کا احترام کرنا ہی ہماری پارٹی کا بنیادی اصول ہے۔“

چبوترہ موجود، مگر مجسمہ غائب! جیاگنج میں لینن کا ٹوٹا ہوا مجسمہ اچانک غائب ہونے پر سیاسی بیان بازی شروع...

Source: Admin
Trending Videos
Instagram
X (Twitter)
LinkedIn