پولس انکاﺅنٹر میں دو لوگوں کی موت پر بنگال کے اپوزیشن متحد، یوپی کلچر اب بنگال میں بھی چلنے لگا ہے
مغربی بنگال میں سنگین جرائم کے ملزمان کے ساتھ پولیس کے دو جان لیوا انکاو¿نٹر پر منگل کو اپوزیشن جماعتوں نے متحد ہو کر اہم سوالات اٹھائے، جبکہ حکمراں بی جے پی نے پولیس کی کارروائی کا دفاع کیا۔اپوزیشن رہنماو¿ں نے سوال اٹھایا کہ یوگی آدتیہ ناتھ کی قیادت والی اتر پردیش سے ماورائے عدالت ہلاکتوں کی ”اجنبی ثقافت“ کو بی جے پی کے زیر اقتدار مغربی بنگال میں کیوں لایا جا رہا ہے۔
اپوزیشن رہنماو¿ں کا اشارہ گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران پولیس کے ساتھ الگ الگ انکاو¿نٹر میں مارے گئے دو ملزمان کی جانب تھا۔ ان میں سے ایک ملزم، جس پر گائگھاٹا میں ایک نابالغ لڑکی کے ساتھ عصمت دری اور قتل کا الزام تھا، پیر کی رات تقریباً نصف شب سے کچھ پہلے مارا گیا، جبکہ دوسرے ملزم کو منگل کے روز بی جے پی کارکن کے قتل کے معاملے میں انکاونٹر میں ہلاک کر دیا گیا۔پولیس کے مطابق، دونوں واقعات میں ملزمان کو جائے وقوعہ پر جرائم کی باز تشکیل کے لیے لے جایا گیا تھا۔ اسی دوران انہوں نے اپنے ساتھ موجود پولیس ٹیموں سے آتشیں اسلحہ چھین لیا، جس کے بعد جوابی فائرنگ میں وہ مارے گئے۔ممتا بنرجی کے وفادار اور بالی گنج کے ایم ایل اے شوبھندیب چٹوپادھیائے نے اس صورت حال کے سیاسی پہلو پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا، ”انکاو¿نٹر تشہیر حاصل کرنے کا ذریعہ ہو سکتے ہیں، لیکن ملک میں قانون کی حکمرانی ہونی چاہیے۔“ترنمول کانگریس کے سینئر رہنما نے یہ سوال بھی اٹھایا کہ بنگال میں سنگین جرائم کے ملزمان کو جلد سزا دلانے کے لیے جو قانونی ڈھانچہ تیار کرنے کی کوشش کی گئی تھی، اس کا کیا ہوا۔سی پی ایم کے ریاستی سکریٹری محمد سلیم نے ان واقعات کو فرضی انکاو¿نٹر قرار دیتے ہوئے الزام لگایا کہ موجودہ حکومت کے دور میں جرائم اور ہجومی تشدد میں تیزی سے اضافہ ہوا ہے۔انہوں نے دعویٰ کیا، ”یہ انکاو¿نٹر نہیں ہے، اسے فرضی انکاو¿نٹر کہا جاتا ہے۔“سلیم نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر لکھا، ”سب کچھ پہلے سے طے شدہ ہے! ایس او پی کے بجائے یہ سب ایک سوپ اوپیرا کے مطابق ہو رہا ہے۔ اس واقعے میں بھی باری پور والا وہی اسکرپٹ دہرایا گیا ہے۔ ویسے، مغربی بنگال میں عصمت دری کے واقعات کی تعداد بھی اتر پردیش کے ساتھ مقابلہ کرتے ہوئے بڑھ رہی ہے۔“کانگریس ورکنگ کمیٹی کے رکن ادھیر رنجن چودھری نے پولیس کی بار بار ہونے والی کارروائیوں میں ایک جیسے طریق? کار پر آئینی نقط? نظر سے سنگین خدشات کا اظہار کیا۔انہوں نے کہا کہ رات گئے جرائم کی باز تشکیل کے دوران ملزمان کے پولیس کی سرکاری بندوقیں چھیننے کے یکساں دعوے ایسے اہم سوالات کو ہمیشہ کے لیے حل طلب چھوڑ دیتے ہیں، جن کا تعلق ممکنہ سازشوں سے ہے۔
چودھری نے سوال کیا، ”اگر بنگال پولیس میں اتنی ہمت یا تربیت نہیں ہے کہ وہ اپنی بندوقیں ہولسٹر میں محفوظ رکھ سکے، اور کوئی مجرم ان واقعات میں اسی طرح ان کی ریوالور چھین کر فائرنگ کر سکتا ہے، تو کیا ہمیں ریاستی پولیس کو اہل سمجھنا چاہیے یا اسے نئی تربیت دینے کے بارے میں سوچنا چاہیے؟“انہوں نے مزید کہا، ”اب دیکھیے، میں مجرموں کی حمایت نہیں کر رہا ہوں اور نہ ہی میرا ایسا کوئی ارادہ ہے، لیکن یہ فیصلہ کون کرے گا کہ کسی شخص کے اصل مجرم ہونے کا تعین عدالت کرے گی، تھانہ کرے گا، کوئی سیاسی جماعت کرے گی یا پولیس؟“
چودھری نے کہا، ”بنگال میں جرائم بڑھ رہے ہیں۔ عصمت دری کے واقعات میں اضافہ ہو رہا ہے اور دوسرے جرائم بھی بڑھ رہے ہیں۔ لیکن اس طرح فوری طور پر لوگوں کو قتل کرنا، یعنی ماورائے عدالت ہلاکتیں، جہاں مقدمے کی سماعت اور انصاف ملنے سے پہلے ہی لوگوں کو مار دیا جاتا ہے، کئی سوالات کو جنم دیتی ہیں۔“ترنمول کانگریس، سی پی ایم اور کانگریس کی جانب سے تنقید کے چند گھنٹے بعد وزیر اعلیٰ شویندو ادھیکاری نے خود کو ان کارروائیوں کے براہِ راست طریق? کار سے الگ کرتے ہوئے کہا، ”انکاو¿نٹر کا معاملہ میرے دائر اختیار میں نہیں آتا۔ پولیس اور سی آئی ڈی اس معاملے کی جانچ کر رہی ہیں۔“تاہم، انہوں نے فوراً مزید کہا، ”چند دن گزرنے دیجیے۔ ہم پوری ریاست کو غنڈوں سے پاک کر دیں گے۔“
کابینہ کے سینئر ساتھی دلیپ گھوش، جو برسوں سے بنگال میں بی جے پی کے اقتدار میں آنے کے بعد یہاں بھی انکاو¿نٹر کا ”یوگی ماڈل“ نافذ کرنے کے وعدے کرتے رہے ہیں، نے سخت گیر پالیسی کا کھل کر دفاع کیا۔گھوش نے کہا، ”عوام کا اعتماد بحال کرنے کے لیے کبھی کبھی پولیس کو کچھ ایسے اقدامات کرنے پڑتے ہیں جو غیر مقبول ہوتے ہیں۔“ انہوں نے مزید کہا کہ اگر مجرم قانون کی خلاف ورزی کرنے کا انتخاب کرتے ہیں تو انہیں اس کے سنگین نتائج بھگتنے ہوں گے۔بی جے پی کے ریاستی صدر سامک بھٹاچاریہ نے ان واقعات کو روایتی معنوں میں انکاو¿نٹر قرار دینے سے انکار کرتے ہوئے دعویٰ کیا کہ یہ پیش رفت بدامنی کے بجائے قانون کی حکمرانی کی واپسی کی علامت ہے۔
بھٹاچاریہ نے کہا، ”دونوں معاملات میں جن حالات کے باعث پولیس کو ملزمان پر فائرنگ کرنی پڑی، انہیں انکاو¿نٹر قرار نہیں دیا جا سکتا۔“ انہوں نے دعویٰ کیا کہ موجودہ حکومت نے سابقہ ممتا بنرجی حکومت کے دور میں مبینہ طور پر پھیلی منظم بدامنی پر قابو پا لیا ہے۔بھٹاچاریہ نے مزید کہا، ”پچھلی حکومت کے دور میں مجرم جانتے تھے کہ ان کی اپنی حکومت ہے۔ اب وہ جانتے ہیں کہ ایسی حکومت ہے جو عوام اور قانون کی حکمرانی کے لیے کھڑی ہے۔“بی جے پی نے سوشل میڈیا پر ایک پوسٹ میں لکھا، ”مغربی بنگال میں اب واقعی عوام کی حکومت ہے، جس کا مطلب ہے عصمت دری کرنے والوں اور بھتہ خوروں کے لیے کوئی رعایت نہیں۔ پہلے باری پور، اب گائگھاٹا! خواتین کی عزت کو نقصان پہنچانے والوں کے لیے اسے ایک غیر قابلِ سمجھوتہ انتباہ سمجھیں۔“
واضح رہے کہ رواں سال جولائی میں جنوبی 24 پرگنہ کے باری پور میں ایک 11 سالہ لڑکی کے ساتھ عصمت دری اور قتل کے معاملے میں مرکزی ملزم پولیس انکاو¿نٹر میں مارا گیا تھا۔ الزام تھا کہ جرائم کی باز تشکیل کے دوران اس نے ایک پولیس اہلکار کی ریوالور چھین کر اہلکاروں پر فائرنگ کر دی تھی، جس کے بعد پولیس کی جوابی فائرنگ میں وہ ہلاک ہو گیا۔
پولس انکاﺅنٹر میں دو لوگوں کی موت پر بنگال کے اپوزیشن متحد، یوپی کلچر اب بنگال میں بھی چلنے لگا ہے...
Source: Admin
Comment
Your View
We'd love to hear your perspective on this article. Join the conversation and share your thoughts below!
Post your comment
0 CommentsNo comments