شمالی کوریا کے رہنما کم جونگ اُن کی طاقتور بہن کم یو جونگ نے کہا ہے کہ ملک کا ایٹمی حیثیت کا درجہ ’بالکل قطعی‘ ہے اور جو لوگ اس کی غیر ایٹمی حیثیت کی امید رکھتے ہیں وہ ’احمق‘ ہیں۔
فرانسیسی نیوز ایجنسی اے ایف پی کے مطابق شمالی کوریا نے قانونی طور پر اپنے ایٹمی ریاست ہونے کا اعلان کر رکھا ہے اور قیادت نے کہا ہے کہ ملک کا ایٹمی ذخیرہ مستقل اور ناقابلِ واپسی ہے۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اگست میں کہا تھا کہ پیونگ یانگ کے پاس 57 ’انتہائی طاقتور‘ ایٹمی ہتھیار ہیں، جبکہ سیول کا اندازہ 80 سے 120 کے درمیان ہے۔
سیول نے کہا کہ وہ جمعرات کے بیان پر گہری نظر رکھ رہا ہے کیونکہ یہ ایسے وقت آیا ہے جب ٹرمپ نے کم جون اُن سے نئی ملاقات کا عندیہ دیا ہے۔
کم یو جونگ نے سرکاری کورین سنٹرل نیوز ایجنسی کے ذریعے جاری بیان میں کہا کہ ’ڈی پی آر کے (شمالی کوریا) کی ایٹمی ریاست کے طور پر حیثیت بالکل قطعی ہے، جسے کسی چیز سے بدلا نہیں جا سکتا۔‘
انہوں نے کہا کہ ’پیونگ یانگ کا ایٹمی ذخیرہ بین الاقوامی بدمعاشوں کے خلاف روک تھام میں اہم کردار ادا کرتا ہے۔‘
یہ بیان ویانا میں انٹرنیشنل اٹامک انرجی ایجنسی کی جنرل کانفرنس کے دوران آیا، جہاں انہوں نے کہا کہ شمالی کوریا کو غیر ایٹمی بنانے کی کوششوں کی ’احمقانہ باتیں‘ متوقع تھیں۔
انہوں نے کہا کہ ’اگر وہ سمجھتے ہیں کہ یہ واقعی ممکن ہے تو وہ صرف احمقوں کی بات سنیں گے۔‘
انہوں نے مزید کہا کہ ’چاہے دشمن قوتیں کتنی ہی زبانی انکار کریں، حقیقت یہ ہے کہ ڈی پی آر کے کی ایٹمی حیثیت جسمانی اور قانونی طور پر مستقل طور پر طے ہو چکی ہے اور ذرا بھی نہیں بدل سکتی۔‘
جنوبی کوریا کی وزارتِ اتحاد کے ایک اہلکار نے کہا کہ یہ بیان وقت کے لحاظ سے قابلِ غور ہے۔ ’ہم کم یو جونگ کے بیان پر گہری نظر رکھ رہے ہیں، کیونکہ یہ ایسے وقت آیا ہے جب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے حال ہی میں شمالی کوریا کے ساتھ مکالمہ کرنے کی خواہش ظاہر کی ہے۔‘
امریکی صدر نے بارہا کم جونگ اُن کے ساتھ دوبارہ بات چیت کرنے کی خواہش ظاہر کی ہے، اور گذشتہ ماہ کہا تھا کہ وہ اس سال کے آخر میں ان سے ملاقات کا ارادہ رکھتے ہیں۔
ٹرمپ نے اپنی پہلی مدتِ صدارت میں کم سے تین ملاقاتیں کیں، لیکن ان کی سفارت کاری بالآخر ناکام ہو گئی جب 2019 کے ہنوئی اجلاس میں پابندیوں میں نرمی اور غیر ایٹمی اقدامات پر کوئی معاہدہ نہ ہو سکا۔
ہنوئی اجلاس کی ناکامی کے بعد سے پیونگ یانگ نے اپنا ایٹمی ذخیرہ مزید بڑھا لیا ہے۔
شمالی کوریا کے رہنما کم جونگ اُن کی طاقتور بہن کم یو جونگ نے کہا ہے کہ ملک کا ایٹمی حیثیت کا درجہ ’بالکل قطعی‘ ہے اور جو لوگ اس کی غیر ایٹمی حیثیت کی امید رکھتے ہیں وہ ’احمق‘ ہیں۔...
Source: Admin
Comment
Your View
We'd love to hear your perspective on this article. Join the conversation and share your thoughts below!
Post your comment
0 CommentsNo comments