بردوان میڈیکل کے ایمرجنسی ڈپارٹمنٹ میں زیادہ تر ٹرالیاں خراب، مریضوں کے لواحقین پریشان
ایک بار پھر بردوان میڈیکل کالج اینڈ ہاسپٹل خبروں کی سرخیوں میں ہے۔ مریضوں کے لواحقین کو ٹرالیوں کے مسئلے کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔ الزام ہے کہ اسپتال کی زیادہ تر ٹرالیاں خراب ہیں! کسی ٹرالی کا پہیہ ہی موجود نہیں، تو کسی کا پہیہ ٹوٹا ہوا ہے۔ اسی وجہ سے مریضوں کو اسپتال کے ایک حصے سے دوسرے حصے میں لے جانے میں لواحقین کو دشواری پیش آ رہی ہے۔
مسئلہ سب سے زیادہ بردوان میڈیکل کالج کے ایمرجنسی ڈپارٹمنٹ میں ہے۔ الزام ہے کہ اس شعبے میں مریضوں کو لے جانے کے لیے 25 ٹرالیاں موجود ہیں، جن میں سے 15 خراب ہیں۔ طویل عرصے سے ایمرجنسی ڈپارٹمنٹ میں اسی حالت میں خدمات جاری ہیں۔ اس کی وجہ سے ایمرجنسی ڈپارٹمنٹ سے دوسرے وارڈ یا مختلف ٹیسٹ اور طبی جانچ کے لیے مریضوں کو لے جانے میں لواحقین کو مشکلات کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔ خاص طور پر شدید بیمار، بزرگ یا چلنے پھرنے سے معذور مریضوں کے معاملے میں زیادہ دشواری ہو رہی ہے۔
مریضوں اور ان کے لواحقین کا الزام ہے کہ اسپتال کے ایمرجنسی ڈپارٹمنٹ جیسے اہم مقام پر استعمال ہونے والی کئی ٹرالیوں کے پہیے ٹھیک طرح سے نہیں گھومتے۔ بعض ٹرالیوں کے مختلف حصے بھی ٹوٹ چکے ہیں۔ کئی معاملات میں ٹرالی کو دھکیل کر لے جاتے وقت اسے قابو میں رکھنا بھی مشکل ہو جاتا ہے۔
اسپتال میں علاج کے لیے آنے والے اصیم باگدی، شیخ رستم، سنجے داس اور شیفالی بیگم کا کہنا ہے کہ ایمرجنسی ڈپارٹمنٹ میں مریض کا علاج شروع ہونے کے بعد ضرورت کے مطابق اسے مختلف وارڈوں یا ٹیسٹ اور طبی جانچ کے لیے لے جانا پڑتا ہے۔ اس وقت اگر اچھی حالت میں ٹرالی نہ ملے تو مشکلات مزید بڑھ جاتی ہیں۔ شدید بیمار مریضوں کو پیدل یا گود میں اٹھا کر ایک جگہ سے دوسری جگہ لے جانا انتہائی دشوار ہوتا ہے۔
بردوان میڈیکل کے ایمرجنسی ڈپارٹمنٹ میں زیادہ تر ٹرالیاں خراب، مریضوں کے لواحقین پریشان...
Source: Admin
Comment
Your View
We'd love to hear your perspective on this article. Join the conversation and share your thoughts below!
Post your comment
0 CommentsNo comments