Meta Pixel
Logo

Akhbar-e-Mashriq

PUBLISHED FROM Kolkata ♦ Delhi ♦ Ranchi ♦ Lucknow ♦ Bhopal ♦ Srinagar ♦ Siliguri ♦ Asansol
Akhbar-e-Mashriq Akhbar-e-Mashriq
ALERTS
Kolkata

امیدواری واپس لے لیں، جو چاہیں گے مل جائے گا‘، پولیس نے کہا تھا! عبوری ضمانت پر رہا ہوتے ہی نندی گرام کے ملن پردھان کا دعویٰ

Admin
By Admin
Sep 30, 2026

Your Reaction

{{ voteMessage }}

{{ currentVoteCount }} Responses

Trending Video

BAGRESHWAR BABA KI TASVEER JALANE PAR CM SUVENDU ADHIKARI SAKHT, KOLKATA POLICE KO ARRSTE KA DIYA HUKM

امیدواری واپس لے لیں، جو چاہیں گے مل جائے گا‘، پولیس نے کہا تھا! عبوری ضمانت پر رہا ہوتے ہی نندی گرام کے ملن پردھان کا دعویٰ
امیدواری واپس لے لیں، جو چاہیں گے مل جائے گا‘، پولیس نے کہا تھا! عبوری ضمانت پر رہا ہوتے ہی نندی گرام کے ملن پردھان کا دعویٰ — September 30, 2026
امیدواری واپس لے لیں، جو چاہیں گے مل جائے گا‘، پولیس نے کہا تھا! عبوری ضمانت پر رہا ہوتے ہی نندی گرام کے ملن پردھان کا دعویٰ
انتخابات میں مقابلہ کرنے کے لیے نندی گرام کے کانگریس امیدوار ملن پردھان کو کلکتہ ہائی کورٹ نے عبوری ضمانت دی تھی۔ جیل سے رہا ہوتے ہی انہوں نے دعویٰ کیا کہ ان پر امیدواری واپس لینے کے لیے دباو¿ ڈالا گیا تھا۔ یہاں تک کہ انہیں لالچ دینے والی پیشکش بھی کی گئی تھی۔ ملن کے مطابق یہ پیشکش خود پولیس نے کی تھی!
نندی گرام میں کالی گھاٹ ترنمول کی امیدوار سنچیتا پردھان دے نے کاغذاتِ نامزدگی واپس لینے کے بعد ممتا بنرجی نے بتایا تھا کہ ان کی پارٹی اس حلقے میں کانگریس کی حمایت کرے گی۔ اس کے چند گھنٹوں کے اندر ہی ملن کو گرفتار کر لیا گیا۔ پولیس نے 2007 کے ایک پرانے قتل کے مقدمے میں ان کے خلاف کارروائی کی۔ ہائی کورٹ کی ہدایت پر عبوری ضمانت ملنے کے بعد ملن بدھ کو جیل سے باہر آئے۔ میڈیا کے سامنے انہوں نے پولیس پر ’اغوا‘ کرنے کا الزام لگایا۔ ان کا دعویٰ ہے کہ پولیس کو بی جے پی کی جانب سے ہدایات دی گئی تھیں۔
ملن کا دعویٰ ہے کہ گزشتہ 18 ستمبر کو چنڈی پور سے سادہ لباس میں موجود پولیس اہلکار انہیں اٹھا کر لے گئے تھے۔ آنکھوں پر کپڑا باندھ کر گاڑی میں انہیں مندارمنی کے کسی ہوٹل میں لے جایا گیا۔ وہیں کانگریس امیدوار کو امیدواری واپس لینے کی پیشکش کی گئی۔ لیکن وہ راضی نہیں ہوئے۔ ملن کے بقول، ”میں انتخابی مہم میں مصروف تھا۔ پورا دن مہم چلانے کے بعد چنڈی پور میں آرام کر رہا تھا۔ اچانک سادہ لباس میں پولیس آئی اور زبردستی مجھے اٹھا کر لے گئی۔ گاڑی میں گمچھے سے میری آنکھیں باندھ دی گئی تھیں۔ میں کچھ بھی نہیں دیکھ پا رہا تھا۔ تاہم اندازے سے سمجھا کہ مجھے مندارمنی کی طرف لے جایا جا رہا تھا۔ لفٹ سے ہوٹل کے ایک کمرے میں لے جایا گیا، تب بھی میری آنکھیں بندھی ہوئی تھیں۔ وہیں مجھ سے کہا گیا، بتائیے کیا چاہیے؟ جو چاہیں گے، کل تک مل جائے گا۔ بس امیدواری واپس لے لیجیے۔“
واقعے کی تفصیل بتاتے ہوئے ملن نے مزید کہا، ”وہاں آئی پی ایس افسر بھی تھے، ڈی ایس پی بھی تھے۔ میں نے کہا کہ میں نظریے کے لیے سیاست کرتا ہوں۔ یہ کام نہیں کر سکتا۔“ اس کے بعد دوبارہ آنکھوں پر کپڑا باندھ کر رات تقریباً ڈھائی سے تین بجے انہیں چنڈی پور لایا گیا اور بعد میں گرفتار کر لیا گیا، ملن کا دعویٰ ہے۔
ملن کے اس بیان پر مو¿قف جاننے کے لیے مشرقی مدنی پور کے پولیس سپرنٹنڈنٹ انشومان ساہا کو فون کیا گیا، لیکن انہوں نے فون کاٹ دیا۔ نندی گرام تھانے کے آئی سی اجے کمار مشرا نے بھی فون نہیں اٹھایا۔
ملن کا دعویٰ ہے کہ انہیں اغوا کرکے لے جایا گیا تھا۔ انہوں نے سوچا تھا کہ انہیں مار دیا جائے گا۔ انہوں نے اس سوال پر بھی اعتراض کیا کہ وزیر اعلیٰ شوبھندو ادھیکاری کے مقتول پرسنل اسسٹنٹ چندرناتھ رَتھ کی والدہ ہاسیرانی رَتھ کو نندی گرام سے امیدوار کیوں بنایا گیا۔
ان کے بقول، ”ہاسیرانی ایک ماں ہیں۔ ہم ماں کا احترام کرتے ہیں۔ لیکن بی جے پی نے یہاں ایک بیرونی شخص کو امیدوار بنایا ہے۔ کیوں؟ کیا یہاں کا کوئی بھومِ پ±تر اس ٹکٹ کا اہل نہیں تھا؟ بی جے پی کے بہت سے لوگ اس سے ناراض ہیں۔ لاشوں کے اوپر کھڑے ہو کر یہاں حکومت تبدیل ہوئی ہے۔ 10 لوگ اب بھی لاپتہ ہیں۔ یہاں قبل از وقت انتخابات کیوں ہو رہے ہیں؟ کیونکہ وہ (شوبھندو) نندی گرام چھوڑ کر چلے گئے ہیں۔ یہاں کے لوگ اب بھی تالاب کا پانی پیتے ہیں۔“
کانگریس امیدوار نے دعویٰ کیا کہ شوبھندو کی کوششوں سے چند پکی سڑکیں بننے کے علاوہ نندی گرام میں کوئی ترقی نہیں ہوئی۔
ملن کی عبوری ضمانت کے خلاف ریاستی حکومت نے سپریم کورٹ میں درخواست دائر کی ہے۔ کانگریس کا دعویٰ ہے کہ اس سے کوئی فائدہ نہیں ہوگا۔ ملن نے کہا کہ یہ جھوٹا اور فرضی مقدمہ ہے۔ تاہم شوبھندو کے ایک بیان کا حوالہ دیتے ہوئے انہوں نے خبردار بھی کیا۔ انہوں نے کہا، ”اگر وزیر اعلیٰ کہتے ہیں کہ ہمیں معلوم ہے کہ انتخابات کیسے کرائے جاتے ہیں، تو یہ دھمکی ہے۔ ہمیں جمہوریت کی حفاظت کرنی ہوگی۔“
عدالت نے ملن کو تین ہفتوں کے لیے عبوری ضمانت دی ہے۔ انتخابی عمل ختم ہونے کے بعد انہیں ہلدیہ عدالت میں پیش ہو کر خودسپردگی کرنی ہوگی۔ اس کے علاوہ صبح ساڑھے 8 بجے اور شام ساڑھے 9 بجے متعلقہ تھانے میں فون کرکے تفتیشی افسر سے بات کرنی ہوگی۔ آئندہ 21 اکتوبر کو ہائی کورٹ میں اس مقدمے کی دوبارہ سماعت ہوگی۔

امیدواری واپس لے لیں، جو چاہیں گے مل جائے گا‘، پولیس نے کہا تھا! عبوری ضمانت پر رہا ہوتے ہی نندی گرام کے ملن پردھان کا دعویٰ...

Source: Admin

Related Articles

مزید دیکھیں
Discussion

Comment
Your View

We'd love to hear your perspective on this article. Join the conversation and share your thoughts below!

Post your comment

0 Comments

No comments

Trending Videos
Instagram
X (Twitter)
LinkedIn