صرف تین ماہ قبل محبت کی شادی، دم دم کی نوجوان خاتون کی سسرال میں پراسرار موت
گھر میں کوئی بھی اس رشتے کے لیے لڑکے کو قبول نہیں کر رہا تھا۔ لیکن لڑکی اسی شخص سے شادی کرنے پر بضد تھی۔ تین ماہ قبل وہ گھر سے فرار ہو کر اپنی پسند کے شخص سے شادی کر لی تھی۔ منگل کی رات لڑکی کی ماں اس کے سسرال پہنچی تو وہاں بیٹی کی بے جان لاش ملی۔ یہ واقعہ شمالی 24 پرگنہ کے باراسات تھانہ علاقے کا ہے۔
متوفیہ کے میکے والوں کا دعویٰ ہے کہ داماد اس سے پہلے دو شادیاں کر چکا تھا۔ اس بات کا علم ہونے کے بعد ہی بیٹی پر مبینہ طور پر تشدد شروع کیا گیا۔ شکایت کی بنیاد پر پولیس نے متوفیہ کے شوہر کو تھانے لے جا کر پوچھ گچھ شروع کر دی ہے۔متوفیہ کا نام ریا دیوناتھ تھا۔ وہ دم دم کی رہنے والی تھیں اور ایک نجی کمپنی میں ملازمت کرتی تھیں۔ اسی سلسلے میں ان کی ملاقات باراسات کے شالباغان کے رہنے والے ایک نوجوان، پرسن جیت باسو سے ہوئی تھی۔ تین ماہ قبل دونوں کی شادی ہوئی تھی۔ شادی کے بعد انہوں نے ٹاکی روڈ سے متصل شالباغان میں گھر بسایا تھا۔
ریا کے اہل خانہ کا دعویٰ ہے کہ منگل کی رات میاں بیوی کے درمیان جھگڑا شروع ہوا تھا۔ بیٹی کے گھر میں تنازع کی اطلاع ملنے کے بعد ریا کی ماں دم دم سے شالباغان کے گھر پہنچیں۔ لیکن وہاں پہنچ کر دیکھا کہ بیٹی بستر پر پڑی ہوئی تھی اور اس کے گلے میں دوپٹہ لپٹا ہوا تھا۔
ان کا الزام ہے کہ شادی کے بعد سے ہی داماد نشے کی حالت میں بیٹی کو مارتا پیٹتا تھا۔ انہیں بعد میں معلوم ہوا کہ اس نے پہلے بھی دو شادیاں کی تھیں۔ ان کی شکایت کی بنیاد پر پولیس نے داماد کو حراست میں لے لیا ہے۔بدھ کو متوفیہ کی لاش پوسٹ مارٹم کے لیے باراسات اسپتال بھیجی گئی ہے۔ تاہم متوفیہ کی والدہ نے مطالبہ کیا کہ پوسٹ مارٹم باراسات اسپتال میں نہ کرا کے آر جی کر اسپتال میں کرایا جائے۔ اس معاملے کو لے کر اسپتال کے احاطے میں ان کی پولیس کے ساتھ تکرار بھی ہوئی۔دوسری جانب ریا کے شوہر کو حراست میں لے کر پولیس نے پوچھ گچھ شروع کر دی ہے۔ ابھی یہ واضح نہیں ہے کہ ریا نے خودکشی کی تھی یا انہیں قتل کیا گیا۔ تفتیش کار پوسٹ مارٹم رپورٹ کا انتظار کر رہے ہیں۔
صرف تین ماہ قبل محبت کی شادی، دم دم کی نوجوان خاتون کی سسرال میں پراسرار موت...
Source: Admin
Comment
Your View
We'd love to hear your perspective on this article. Join the conversation and share your thoughts below!
Post your comment
0 CommentsNo comments