ایران کے وزیرِ تیل محسن پاک نژاد کا کہنا ہے کہ آبنائے ہرمز کے بحری محاصرے اورعائد کی گئی پابندیوں کے باوجود، ’خلیج فارس کے علاقے سے ہزاروں کلومیٹر دور تیل کی منتقلی اور فروخت ممکن بنائی گئی۔‘
ان کا کہنا ہے کہ آبنائے ہرمز کے بحری محاصرے میں 18 جون سے 15 جولائی کے درمیان پیدا ہونے والے وقفے سے ایران نے بھرپور فائدہ اٹھایا اور اپنے ’تیل کا ایک قابلِ ذکر حصہ بحیرہ عمان کے اُس پار کسی مقام پر منتقل کر دیا۔‘ ایسی جگہ جہاں تیل کی خریداروں کو فراہمی ممکن ہو۔
پاک نژاد نے امریکہ کی جانب سے آبنائے ہرمز کے بحری محاصرے کو ’مشکل اور مؤثر‘ قرار دیا، تاہم وہ اس بات پر زور دیتے ہیں کہ ایران کی تیل کی صنعت رکی نہیں ہے اور مختلف تدابیر اور طریقہ کار کی مدد سے پابندیوں میں سے راستہ نکالنے کی کوشش کر رہی ہے۔
ایران کے وزیرِ تیل نے یہ بھی کہا کہ 40 روزہ جنگ کے دوران اور امریکہ کی جانب سے جزیرہ خارگ کے 550 سے زیادہ مقامات پر حملوں کے باوجود تیل کی برآمدات ’ایک لمحے کے لیے بھی بند نہیں ہوئیں۔‘
ایران کے وزیرِ تیل محسن پاک نژاد کا کہنا ہے کہ آبنائے ہرمز کے بحری محاصرے اورعائد کی گئی پابندیوں کے باوجود، ’خلیج فارس کے علاقے سے ہزاروں کلومیٹر دور تیل کی منتقلی اور فروخت ممکن ...
Source: Admin
Comment
Your View
We'd love to hear your perspective on this article. Join the conversation and share your thoughts below!
Post your comment
0 CommentsNo comments