امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے منگل کی صبح سویرے کہا کہ ایران جوہری میزائل حاصل کرنے سے صرف دو ہفتے کی دوری پر تھا۔
ٹرمپ نے ریاست مسیسیپی میں ریپبلکن پارٹی کے انتخابی جلسے سے خطاب کرتے ہوئے کہا: ہم نے ایران کو سخت شکست دی،انھوں نے اشارہ کیا کہ آبنائے ہرمز سے گزرنے والی تیل کی کھیپیں اس وقت جنگ سے پہلے کی سطح سے زیادہ ہیں۔ٹرمپ نے مزید کہا کہ جنگ ایران نے ان کے ملک کے خلاف شروع کی تھی۔
اس سے قبل دو امریکی عہدیداروں نے بتایا تھا کہ مشرقِ وسطیٰ میں امریکی افواج ایران کے خلاف نئی فوجی کارروائیوں کے لیے، جو وسیع پیمانے کی بھی ہو سکتی ہیں، صدر ٹرمپ کی جانب سے حکم ملنے کے 96 گھنٹوں کے اندرتیار ہیں۔ یہ بات امریکی نیٹ ورک سی این این نے رپورٹ کی۔
ذرائع کے مطابق خطے میں اس وقت تعینات افواج ان ممکنہ حملوں کے لیے کافی ہیں۔ذرائع نے مزید کہا کہ نئی امریکی فوجی کارروائیوں کا دائرہ محض گھاس کاٹنے (یعنی محدود اور بار بار کی جانے والی کارروائیاں) یا موجودہ صورتِ حال برقرار رکھنے سے آگے جا سکتا ہے، جس میں ایسے ریڈارز، میزائل لانچرز اور دیگر ایرانی اثاثوں کو نشانہ بنایا جاتا ہے جنہیں جلد دوبارہ تعمیر کیا جا سکتا ہے۔
یہی طریقہ اس وقت سے اپنایا جا رہا ہے، جب ٹرمپ نے سال کے آغاز میں بڑے پیمانے کی جنگی کارروائیاں روک دی تھیں۔
ایک عہدیدار نے سی این این سے کہا: یہ ایک بڑی کوشش ہوگی۔دیگر موجودہ اور سابق امریکی عہدیداروں نے، جو اندرونی فوجی منصوبہ بندی کی بحثوں سے واقف ہیں، اس بات کی تصدیق کی ہے۔
ان میں سے بعض کا خیال ہے کہ ٹرمپ کی جانب سے کارروائی کا حکم دینا صرف وقت کی بات ہے۔ان کا ماننا ہے کہ یہ حکم سال کے اختتام سے پہلے کسی بھی وقت آ سکتا ہے، اگرچہ زیادہ امکان یہی ہے کہ یہ امریکی وسط مدتی انتخابات کے بعد آئے۔
ایرانی افواج اب امریکی حربوں سے زیادہ واقف ہو چکی ہیں، جس کی وجہ سے امریکی فوج کے لیے تمام مقررہ اہداف کو مؤثر طریقے سے تباہ کرنا مشکل ہو گیا ہے۔
اس کے باوجود امریکی سینٹرل کمانڈ اور پینٹاگون کے کمانڈر اہداف کی ایک وسیع فہرست تیار کر رہے ہیں، جس میں ایران کا توانائی کا بنیادی ڈھانچہ، فوجی مقامات اور جوہری تنصیبات شامل ہیں۔
عہدیداروں کے مطابق ٹرمپ نے وسط مدتی انتخابات کے بعد اٹھائے جانے والے اقدام کے بارے میں ابھی فیصلہ نہیں کیا، تاہم لگتا ہے کہ وہ وسیع پیمانے پر کارروائیوں کے احکامات دینے کی طرف مائل ہیں
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے منگل کی صبح سویرے کہا کہ ایران جوہری میزائل حاصل کرنے سے صرف دو ہفتے کی دوری پر تھا۔...
Source: Admin
Comment
Your View
We'd love to hear your perspective on this article. Join the conversation and share your thoughts below!
Post your comment
0 CommentsNo comments