امریکہ کے نائب صدر جے ڈی وینس نے کہا ہے کہ ایران کو جنگ کے خاتمے کے لیے جوہری افزودگی ’خاطرخواہ‘ کمی لانا ہو گی۔
برطانوی خبر رساں ادارے روئٹرز نے الاسکا میں ان کا انٹرویو کیا جو طویل عرصے تک بیرون ملک جنگوں میں امریکی مداخلت کے ناقد رہے ہیں لیکن اب وہ ایسی ہی ایک جنگ کے خاتمے کے لیے ہونے والے مذاکرات میں اہم کردار ادا کر رہے ہیں۔
انہوں نے جنگ شروع ہونے کے چند ماہ بعد ایک عارضی معاہدہ بھی کرایا تھا جو جلد ہی ختم ہو گیا۔
جو ایران جنگ شروع ہونے کے بعد ہونے والے مذاکرات میں اہم کردار ادا کر چکے ہیں اور اکتوبر میں ہونے والا عبوری امن معاہدہ بھی اسی بات چیت کا نتیجہ تھا جو جلد ہی غیر موثر ہو گیا تھا۔
جے ڈی وینس کا کہنا تھا کہ ’کسی بھی معاہدے تک پہنچنے کے لیے ایران کو اپنی جوہری افزودگی کو کم کرنا ہو گا اور یہ صرف وعدوں یا یقین دہانی تک محدود نہیں ہو گا۔
ان کے مطابق ’اگر آپ جوہری ہتھیار نہیں چاہتے تو آپ کو 60 فیصد افزودہ ایندھن کی کیا ضرورت ہے، اگر آپ یہ ثابت کرنا چاہتے ہیں کہ جوہری ہتھیار نہیں بنائیں گے تو انتہائی افزودہ ایندھن تیار نہ کریں، یہ ایک بنیادی نکتہ ہے۔‘
جے ڈی وینس کا مزید کہنا تھا کہ اگر واقعی ایران جوہری ہتھیار نہ بنانے کا عزم ظاہر کرنا چاہتا ہے تو اسے یورینیم کی افزودگی کی صلاحیت میں واضح اور عملی کمی لانا ہو گی۔
فروری کے آخر میں شروع ہونے والی جنگ کے باعث عالمی توانائی کی مارکیٹ بری طرح متاثرہوئی ہے اور یہی صورت حال نومبر میں ہونے والے وسط مدتی انتخابات میں صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے لیے ایک بڑا مسئلہ بھی بن گئی ہے۔
ایران اور امریکہ نے حالیہ ہفتوں کے دوران جنگ کے خاتمے اور آبنائے ہرمز کو کھولنے سے متعلق مختلف تجاویز کا تبادلہ بھی کیا۔
تاہم صدر ٹرمپ کی جانب سے ایران کی تازہ تجویز مسترد کی گئی ہے اور انہوں نے خبردار کیا ہے کہ نومبر میں ہونے والے وسط مدتی انتخابات کے بعد فوجی کارروائیاں مزید تیز ہو سکتی ہیں۔
امریکہ کے نائب صدر جے ڈی وینس نے کہا ہے کہ ایران کو جنگ کے خاتمے کے لیے جوہری افزودگی ’خاطرخواہ‘ کمی لانا ہو گی۔...
Source: Admin
Comment
Your View
We'd love to hear your perspective on this article. Join the conversation and share your thoughts below!
Post your comment
0 CommentsNo comments