Meta Pixel
Logo

Akhbar-e-Mashriq

PUBLISHED FROM Kolkata ♦ Delhi ♦ Ranchi ♦ Lucknow ♦ Bhopal ♦ Srinagar ♦ Siliguri ♦ Asansol
Akhbar-e-Mashriq Akhbar-e-Mashriq
ALERTS
National

مہاگٹھ بندھن میں آپسی کشمکش کا فائدہ جن سوراج کو ملا: دربھنگہ میں سہ فریقی مقابلے نے کانگریس کا کھیل بگاڑا

Admin
By Admin
Oct 28, 2026

Your Reaction

{{ voteMessage }}

{{ currentVoteCount }} Responses

Trending Video

ARSALAN RESTAURANT KA BADA ELAN, FOOD SAFETY KE LIYE NAYE RULES LAGU

مہاگٹھ بندھن میں آپسی کشمکش کا فائدہ جن سوراج کو ملا: دربھنگہ میں سہ فریقی مقابلے نے کانگریس کا کھیل بگاڑا
مہاگٹھ بندھن میں آپسی کشمکش کا فائدہ جن سوراج کو ملا: دربھنگہ میں سہ فریقی مقابلے نے کانگریس کا کھیل بگاڑا — October 28, 2026
پرشانت کشور کی جن سوراج پارٹی نے بہار قانون ساز کونسل (ایوانِ بالا) میں بھی اپنا قدم جما لیا ہے، جہاں اس کے امیدوار نے دربھنگہ ٹیچرز حلقے سے انتخاب جیت لیا ہے۔ سریش پرساد رائے نے کانگریس کے موجودہ ایم ایل سی مدن موہن جھا کو 324 ووٹوں سے شکست دی ہے۔

بہار قانون ساز کونسل کی جن 8 نشستوں پر پولنگ ہوئی تھی، ان میں سے ریاست میں برسرِ اقتدار این ڈی اے 5 نشستیں جیتتی ہوئی نظر آ رہی ہے، 2 نشستیں آزاد امیدواروں کے نام رہیں جبکہ 1 نشست جن سوراج نے حاصل کی، جس نے حال ہی میں کے ضمنی انتخابات میں بھی اسمبلی کی نشست جیتی تھی۔ پرشانت کشور، جو کہ سیاسی حکمت عملی ساز سے سیاست دان بنے ہیں، ریاستی اسمبلی میں بانکی پور حلقے کی نمائندگی کرتے ہیں۔

سریش پرساد رائے، جنہوں نے اس سے قبل بی جے پی کے امیدوار کے طور پر الیکشن لڑتے ہوئے دوسرا مقام حاصل کیا تھا، انہوں نے پہلی ترجیحی ووٹوں کی گنتی کے آغاز سے ہی برتری حاصل کر لی اور اسے آخر تک برقرار رکھا۔ دوسری جانب کانگریس کے مدن موہن جھا گنتی مکمل ہونے سے پہلے ہی کاؤنٹنگ سینٹر سے باہر چلے گئے۔

اس حلقے میں کانگریس، لالو یادو کی راشٹریہ جنتا دل (RJD) اور سی پی ایم تینوں ہی میدان میں تھیں اور اس سہ فریقی مقابلے کا براہِ راست فائدہ جن سوراج کو پہنچا۔

بہار اسمبلی انتخابات کے دوران بھی 'مہاگٹھ بندھن' کی اتحادی جماعتوں نے تقریباً ایک درجن نشستوں پر ایک دوسرے کے خلاف 'دوستانہ مقابلے' کیے تھے، جس کا نتیجہ یہ نکل کہ ان تمام نشستوں پر این ڈی اے کے امیدواروں نے فتح حاصل کی تھی۔

اس کے باوجود، مہاگٹھ بندھن کے لیے تاریخ نے خود کو دہرایا۔

قانون ساز کونسل کے ان انتخابات کے دوران بھی کانگریس اور آر جے ڈی ایک بار پھر ایک دوسرے کے بالمقابل آ گئے۔ دونوں جماعتوں نے پٹنہ ٹیچرز، پٹنہ گریجویٹس، دربھنگہ ٹیچرز، دربھنگہ گریجویٹس اور کوسی گریجویٹس کے حلقوں میں اپنے اپنے امیدوار کھڑے کر دیے تھے۔

اگرچہ آر جے ڈی کے پاس ان میں سے کوئی نشست نہیں تھی، لیکن کانگریس کے پاس ایک نشست — دربھنگہ ٹیچرز حلقہ — موجود تھی۔

آر جے ڈی نے ابتدائی طور پر اس نشست کے لیے کوئی امیدوار نہیں اتارا تھا، لیکن جب کانگریس نے پانچوں حلقوں میں اپنے امیدوار کھڑے کرنے کا فیصلہ کیا، تو آر جے ڈی نے بھی کمار راوت کو اپنا نامزد امیدوار بنا دیا۔ دوسری طرف، سی پی ایم نے رام دیو رائے کو اپنا امیدوار بنایا تھا۔

گنتی کے نتائج کے مطابق جن سوراج کے سریش پرساد رائے کو 2,574 ووٹ، کانگریس کے مدن موہن جھا کو 2,187 ووٹ، اور سی پی ایم کے رام دیو رائے کو 1,498 ووٹ ملے۔ جبکہ آر جے ڈی کے امیدوار کمار راوت کو صرف 126 ووٹ ملے۔

مدن موہن جھا، جنہوں نے پچھلے دو انتخابات میں اس نشست پر کامیابی حاصل کی تھی، کانگریس کے ریاستی صدر اور مہاگٹھ بندھن حکومت میں وزیر کے طور پر بھی خدمات انجام دے چکے ہیں۔ ان کی اس شکست کے بعد قانون ساز کونسل میں کانگریس کے پاس صرف ایک نشست رہ جائے گی۔

واضح رہے کہ دربھنگہ گریجویٹس حلقے میں بھی مہاگٹھ بندھن کی تینوں جماعتیں ایک دوسرے کے خلاف برسرِ پیکار ہیں۔

پرشانت کشور کی جن سوراج پارٹی نے بہار قانون ساز کونسل (ایوانِ بالا) میں بھی اپنا قدم جما لیا ہے، جہاں اس کے امیدوار نے دربھنگہ ٹیچرز حلقے سے انتخاب جیت لیا ہے۔ سریش پرساد رائے نے ک...

Source: Admin
Discussion

Comment
Your View

We'd love to hear your perspective on this article. Join the conversation and share your thoughts below!

Post your comment

0 Comments

No comments

Trending Videos
Instagram
X (Twitter)
LinkedIn