Meta Pixel
Logo

Akhbar-e-Mashriq

PUBLISHED FROM Kolkata ♦ Delhi ♦ Ranchi ♦ Lucknow ♦ Bhopal ♦ Srinagar ♦ Siliguri ♦ Asansol
Akhbar-e-Mashriq Akhbar-e-Mashriq
ALERTS
National

رہائی نہیں ہوئی تو بھوک ہڑتال کروں گا، لیڈروں کی گرفتاری پر سونم وانگچک برہم، کہا- ملک میں غیر اعلانیہ ایمرجنسی جیسے حالات

Admin
By Admin
Oct 10, 2026

Your Reaction

{{ voteMessage }}

{{ currentVoteCount }} Responses

Trending Video

ARSALAN RESTAURANT KA BADA ELAN, FOOD SAFETY KE LIYE NAYE RULES LAGU

رہائی نہیں ہوئی تو بھوک ہڑتال کروں گا، لیڈروں کی گرفتاری پر سونم وانگچک برہم، کہا- ملک میں غیر اعلانیہ ایمرجنسی جیسے حالات
رہائی نہیں ہوئی تو بھوک ہڑتال کروں گا، لیڈروں کی گرفتاری پر سونم وانگچک برہم، کہا- ملک میں غیر اعلانیہ ایمرجنسی جیسے حالات — October 10, 2026
لداخ کے معروف ماحولیاتی کارکن سونم وانگچک نے دہلی میں مجوزہ سی جے پی احتجاج کے دوران لیڈروں کی گرفتاری پر سخت ردعمل ظاہر کیا ہے۔ انہوں نے ملک کی موجودہ صورت حال کو جمہوریت کے لیے تشویش ناک قرار دیتے ہوئے کہا کہ حالات ایسے دکھائی دے رہے ہیں جیسے ملک میں غیر اعلانیہ ایمرجنسی نافذ ہو۔ وانگچک نے گرفتار لیڈروں کی جلد از جلد رہائی کا مطالبہ بھی کیا ہے۔

سونم وانگچک نے دہلی میں احتجاج سے قبل لیڈروں کو حراست میں لیے جانے پر ناراضی کا اظہار کیا۔ ان کا کہنا ہے کہ اس طرح کی کارروائی کئی اہم سوالات کھڑے کرتی ہے اور جمہوری نظام کے لیے تشویش کا باعث ہے۔ انہوں نے گرفتار لیڈروں کو فوری طور پر رہا کرنے کی اپیل کرتے ہوئے امید ظاہر کی کہ انتظامیہ جلد اس معاملے میں ضروری اقدامات کرے گی۔


وانگچک نے جن لیڈروں کی گرفتاری کا معاملہ اٹھایا ہے، ان میں ابھیجیت دپکے، سوربھ داس، آشوتوش رانکا اور کاکروچ پارٹی سے وابستہ کئی دیگر افراد شامل ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ احتجاج شروع ہونے سے پہلے ہی لیڈروں کو حراست میں لینا سنگین سوالات پیدا کرتا ہے۔ انہوں نے اس معاملے میں انتظامیہ سے جلد کارروائی کرنے کی توقع ظاہر کی۔


سونم وانگچک نے سوشل میڈیا کے ذریعے اپنی تشویش کا اظہار کیا۔ انہوں نے بتایا کہ صرف ایک دن پہلے ہی انہوں نے لوگوں سے اپیل کی تھی کہ وہ پُرامن رہیں اور احتجاج کے دوران اتحاد برقرار رکھیں۔ وانگچک کے مطابق، اس وقت انہیں اندازہ نہیں تھا کہ صورتِ حال اس حد تک پہنچ جائے گی۔ ان کا کہنا ہے کہ دنیا کی سب سے بڑی جمہوریت میں اس طرح کے حالات پیدا ہونا باعث تشویش ہے۔


اپنے بیان میں وانگچک نے کہا کہ انہیں ملک کا موجودہ ماحول غیر اعلانیہ ایمرجنسی جیسا محسوس ہو رہا ہے۔ ان کے مطابق، اگرچہ باضابطہ طور پر ایمرجنسی نافذ نہیں ہے، لیکن جب لوگوں کو اپنے حقوق کے حوالے سے تشویش لاحق ہونے لگے تو ایسے حالات پر سوال اٹھنا فطری ہے۔ اسی وجہ سے انہوں نے حالیہ واقعات پر تشویش ظاہر کرتے ہوئے گرفتار لیڈروں کی رہائی کا مطالبہ کیا۔


وانگچک نے کہا کہ انہیں اس بات سے اطمینان تھا کہ تحریک کو آگے بڑھانے کے لیے کئی افراد قیادت کی ذمہ داری سنبھال رہے تھے۔ تاہم، جب انہیں ان لیڈروں کی گرفتاری کی اطلاع ملی تو وہ حیران رہ گئے۔ ان کا کہنا ہے کہ جمہوری نظام میں بات چیت اور احتجاج، دونوں کے لیے جگہ ہونی چاہیے اور اختلافِ رائے کو نظرانداز نہیں کیا جانا چاہیے۔


ماحولیاتی کارکن نے واضح کیا کہ اگر کل تک گرفتار لیڈروں کو رہا نہیں کیا گیا تو وہ خود احتجاج کے اگلے مرحلے کے بارے میں غور کریں گے۔ ان کے مطابق، ایسی صورت میں بھوک ہڑتال شروع کرنے یا پیدل مارچ نکالنے جیسے اقدامات پر فیصلہ کیا جا سکتا ہے۔ انہوں نے ایک بار پھر پُرامن طریقے سے اپنی بات رکھنے اور اتحاد برقرار رکھنے پر زور دیا۔


10 اکتوبر کو دہلی میں مجوزہ CJP احتجاج کے پیش نظر سکیورٹی انتظامات پہلے ہی سخت کر دیے گئے ہیں۔ دوسری جانب لیڈروں کی گرفتاری کے معاملے پر سیاسی بحث بھی تیز ہو گئی ہے۔ سونم وانگچک کا یہ بیان ایسے وقت سامنے آیا ہے جب احتجاج کے حق اور حراست میں لیے جانے کی کارروائی کو لے کر مختلف فریق اپنی اپنی رائے پیش کر رہے ہیں۔ ان کے بیان کے بعد اس پورے معاملے پر ایک نئی بحث شروع ہو گئی ہے۔

لداخ کے معروف ماحولیاتی کارکن سونم وانگچک نے دہلی میں مجوزہ سی جے پی احتجاج کے دوران لیڈروں کی گرفتاری پر سخت ردعمل ظاہر کیا ہے۔ انہوں نے ملک کی موجودہ صورت حال کو جمہوریت کے لیے ت...

Source: Admin
Discussion

Comment
Your View

We'd love to hear your perspective on this article. Join the conversation and share your thoughts below!

Post your comment

0 Comments

No comments

Trending Videos
Instagram
X (Twitter)
LinkedIn