Sports

فیفا ورلڈ کپ: امریکہ میں داخلہ نہ ملنے والے صومالی ریفری کا وطن واپسی پر شاندار استقبال

فیفا ورلڈ کپ: امریکہ میں داخلہ نہ ملنے والے صومالی ریفری کا وطن واپسی پر شاندار استقبال

صومالیہ کے ریفری عمر ارتان ورلڈ کپ میں شرکت کے لیے امریکہ میں داخل ہونے سے روکے جانے کے بعد دارالحکومت موغادیشو واپس پہنچے تو ان کا شاندار استقبال کیا گیا جس پر انہوں نے یہ عہد کیا کہ وہ سنہ 2030 کے اگلے ٹورنامنٹ میں ضرور شرکت کریں گے۔ موغادیشو کے مرکزی ہوائی اڈے کے وی آئی پی لائونج کے باہر اُن کے 100 سے زائد حامی جمع تھے، جو قومی پرچم لہرا رہے تھے اور وہ جیسے ہی ترک ایئرلائنز کی پرواز سے اُترے تو نعروں اور خوشی کے اظہار سے ان کا استقبال کیا گیا۔ عمر ارتان نے صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ’میں اگلے ورلڈ کپ میں ضرور شامل ہوں گا اور صومالیہ کا نام روشن کرتا رہوں گا۔ میرے ساتھ جو کچھ بھی ہوا لیکن میرے حوصلے پست نہیں ہوئے۔‘ عمر ارتان کو امریکہ میں داخلے سے روکے جانے پر ملک بھر میں غم و غصہ پایا جاتا ہے۔ صومالیہ کی حکومت کے ایک عہدیدار محمد سعید نے ہوائی اڈے پر کہا کہ ’ان کے ساتھ اس طرح کا ناروا سلوک کیا گیا ہے جس پر ہر وہ شخص دکھی ہے جو انسانیت کی قدر کرتا ہے۔‘ عمر ارتان کو سنہ 2025 میں افریقی فٹ بال کنفیڈریشن کی جانب سے سال کے بہترین ریفری کا اعزاز دیا گیا تھا لیکن وہ اس کے باوجود جب ہفتے کے روز میامی انٹرنیشنل ایئرپورٹ پہنچنے تو انہیں امریکہ میں داخل ہونے سے روک دیا گیا۔ امریکی محکمۂ خارجہ کے ایک اہلکار نے منگل کی رات بتایا کہ ’ریفری کا تعلق ایسے مشتبہ افراد سے تھا جو دہشت گرد تنظیموں سے وابستہ تصور کیے جاتے ہیں، جس کے باعث انہیں امریکہ میں داخلے کے لیے نااہل قرار دیا گیا۔‘ فیفا نے بھی تصدیق کی کہ وہ جمعرات سے شروع ہونے والے ورلڈ کپ کا حصہ نہیں ہوں گے۔ کینیڈا، میکسیکو اور امریکہ میں ہونے والے فائنل مرحلے کے لیے 52 رکنی ریفریز کی فہرست میں عمر ارتان کی شمولیت ان کے ہم وطنوں کے لیے ایک بہت بڑا اعزاز اور فخر کا لمحہ تھا۔ صومالیہ کے صدر حسن شیخ محمود نے اپریل میں کہا تھا کہ وہ ’صومالیہ کی نئی نسل کے لیے ایک متاثر کن علامت ہیں۔‘

Source: scoial media

Post
Send
Kolkata Sports Entertainment

Please vote this article

0 Responses
Best Rating Best
Good Rating Good
Okay Rating Okay
Bad Rating Bad

Related Articles

Post your comment

0 Comments

No comments