یومِ آزادی کے موقع پر جمعہ کو صدرِ جمہوریہ دروپدی مرمو نے ملک سے خطاب کیا۔ اپنے خطاب میں انہوں نے تحریکِ آزادی کے مجاہدین کو خراجِ عقیدت پیش کرتے ہوئے ملک کی تعمیر میں شہریوں کے کردار، تقسیمِ ہند کی تباہی، جمہوریت، سماجی انصاف اور گزشتہ ایک دہائی سے زائد عرصے میں ملک میں ہونے والی ترقی کا ذکر کیا۔
صدر مرمو نے کہا، ’’15 اگست 1947 کو بھارت غلامی کی زنجیروں سے آزاد ہوا۔ تمام ہندوستانی ایک آزاد بھارت کی تقدیر کے معمار بن گئے۔‘‘انہوں نے کہا کہ فرض شناس طلبہ اور اساتذہ، ترقی کے لیے سرگرم سائنس دان اور انجینئر، صحت کے شعبے میں خدمات انجام دینے والے ڈاکٹر اور طبی کارکن، محنتی مزدور اور ملک کے کسان اپنی کوششوں سے قوم کی تعمیر میں اپنا کردار ادا کر رہے ہیں۔ دیگر شعبوں میں سرگرم بے شمار شہری اور آئین میں درج بنیادی فرائض کی پاسداری کرنے والے تمام افراد بھی قومی تعمیر میں اہم شراکت دار ہیں۔ صدر نے سب کی دل سے ستائش کی۔
صدر مرمو نے کہا کہ اپنی شاندار وراثت اور تحریکِ آزادی کے نظریات کو اپناتے ہوئے بھارت جدید ترقی کی راہ پر گامزن ہے۔ انہوں نے کہا کہ بابائے قوم مہاتما گاندھی کی قیادت میں بے شمار ہندوستانی تحریکِ آزادی سے وابستہ ہوئے۔ باباصاحب ڈاکٹر بھیم راؤ امبیڈکر نے سماجی اصلاح اور حب الوطنی کے اعلیٰ نظریات پیش کیے۔ انہوں نے بھارت ماتا کی ان تمام عظیم ہستیوں کو خراجِ عقیدت پیش کیا جن کے نظریات پر چلتے ہوئے ملک آزاد ہوا اور ترقی کی راہ پر آگے بڑھا۔
صدر نے کہا کہ آج 14 اگست کو ہم ’تقسیم کی ہولناکی کی یاد کا دن‘ کے طور پر مناتے ہیں۔ فرقہ وارانہ تشدد کے باعث لاکھوں لوگوں کو پناہ گزین بننا پڑا اور تقسیم کی تباہی برداشت کرنی پڑی۔ اس کے باوجود انہوں نے اپنی شناخت نہیں چھوڑی۔انہوں نے کہا کہ جب ہمارا ملک آزاد ہوا تو تقسیم کے سنگین نتائج کے ساتھ ساتھ 550 سے زائد ریاستوں کو نئے آزاد بھارت میں شامل کرنا بھی ایک غیر معمولی چیلنج تھا۔ سردار ولبھ بھائی پٹیل نے شاہی نظام کا خاتمہ کرکے ان ریاستوں کو آزاد جمہوری بھارت میں ضم کیا۔صدر مرمو نے کہا کہ جمہوریت کی جنم بھومی بھارت کے باشندوں میں عوامی شراکت داری کا جذبہ ہمیشہ سے موجود رہا ہے۔ آج ملک کے شہری اسی جذبے کو نئی توانائی کے ساتھ آگے بڑھا رہے ہیں۔انہوں نے کہا کہ آج عام پس منظر سے تعلق رکھنے والے لوگ مختلف شعبوں میں غیر معمولی خدمات انجام دے رہے ہیں۔ اس سے ان کا یہ یقین مزید مضبوط ہوتا ہے کہ آج کے بھارت میں ہر شخص بڑے خواب دیکھ بھی سکتا ہے اور انہیں پورا بھی کر سکتا ہے۔
صدر نے کہا کہ عوامی نمائندوں کا فرض ہے کہ وہ قانون ساز اداروں میں عوام کی خواہشات اور امنگوں کی ترجمانی کریں۔ انتظامیہ کی ذمہ داری ہے کہ عوامی اور قومی مفاد کی پالیسیوں کو عملی شکل دے۔ عدلیہ سے وابستہ ہر شخص کا فرض ہے کہ وسائل کی کمی کے باعث کوئی فرد انصاف سے محروم نہ رہے۔صدر مرمو نے کہا کہ گزشتہ ایک دہائی سے کچھ زیادہ عرصے میں ملک نے تیز رفتاری سے جامع ترقی کی ہے، وراثت اور ترقی کے امتزاج کو ترجیح دی ہے اور ترقی کی راہ میں رکاوٹ بننے والی کئی دہائیوں پرانی رکاوٹوں کو دور کیا ہے۔
Source: Admin
10 months ago
بریلی میں جُمعہ کی نماز کے بعد ہنگامہ، ’آئی لو محمد‘ پوسٹر تنازع پر پولیس کا لاٹھی چارج، حالات کشیدہ
11 months ago
وقف قانون پر سپریم کورٹ کا بڑا فیصلہ، کچھ دفعات پر لگائی روک
11 months ago
بھارت میں آج لگے گا چاند گرہن، اتنے بجے شروع ہوگا “سوتک” کال
10 months ago
آنکھ کھلتے ہی مہنگائی کا دھچکا، تیل کمپنیوں نے گیس سلنڈر کی قیمتیں بڑھا دیں
11 months ago
سی پی رادھاکرشنن نائب صدر جمہوریہ منتخب قرار دیے گئے
11 months ago
جی ایس ٹی میں اب 5 فیصد اور 18 فیصد کے دو سلیب، 22 ستمبر سے لاگو ہوں گے
10 months ago
بریلی میں جُمعہ کی نماز کے بعد ہنگامہ، ’آئی لو محمد‘ پوسٹر تنازع پر پولیس کا لاٹھی چارج، حالات کشیدہ
11 months ago
وقف قانون پر سپریم کورٹ کا بڑا فیصلہ، کچھ دفعات پر لگائی روک
11 months ago
بھارت میں آج لگے گا چاند گرہن، اتنے بجے شروع ہوگا “سوتک” کال
10 months ago
آنکھ کھلتے ہی مہنگائی کا دھچکا، تیل کمپنیوں نے گیس سلنڈر کی قیمتیں بڑھا دیں
11 months ago
سی پی رادھاکرشنن نائب صدر جمہوریہ منتخب قرار دیے گئے
11 months ago
جی ایس ٹی میں اب 5 فیصد اور 18 فیصد کے دو سلیب، 22 ستمبر سے لاگو ہوں گے
11 months ago
پونے کی مسجد میں کھدائی کے دوران سرنگ دریافت، کشیدگی، 200 پولیس اہلکار تعینات
11 months ago
جی ایس ٹی ریٹ کم ہونے سے کیا ہوا سستا اور کیا ہوا مہنگا
11 months ago
حضرت بل درگاہ میں قومی نشان کی بے حرمتی کسی طور برداشت نہیں کی جا سکتی: کرن رجیجو
10 months ago
شر پسند نے حضورﷺ کی شان میں گستاخی کی، پر تشدد احتجاج، پولیس کا لاٹھی چارج
Comment
Your View
We'd love to hear your perspective on this article. Join the conversation and share your thoughts below!
Post your comment
0 CommentsNo comments