Meta Pixel
Logo

Akhbar-e-Mashriq

PUBLISHED FROM Kolkata Delhi Ranchi Lucknow Bhopal Srinagar Siliguri Asansol
Akhbar-e-Mashriq Akhbar-e-Mashriq
ALERTS

International

روہنگیا پناہ گزینوں دو کشتیاں ڈوبنے سے 500 افراد کی ہلاکت کا خدشہ

روہنگیا پناہ گزینوں دو کشتیاں ڈوبنے سے 500 افراد کی ہلاکت کا خدشہ

میانمار کے ساحل کے قریب روہنگیا پناہ گزینوں کی کشتیوں کے الٹنے سے 500 افراد کی ہلاکت کا خدشہ ہے، ایک کشتی میں 250 جبکہ دوسری کشتی میں 280 افراد سوار تھے۔ تفصیلات کے مطابق خلیج بنگال میں روہنگیا پناہ گزینوں کے ساتھ کا ایک ہولناک ترین حادثہ پیش آیا، جہاں دو مختلف کشتیاں الٹنے کے نتیجے میں 500 سے زائد افراد کے سمندر میں ڈوب کر جاں بحق ہونے کا شدید خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے۔ مہاجرین کے لیے کام کرنے والے اقوام متحدہ کے عالمی اداروں، انٹرنیشنل آرگنائزیشن فار مائیگریشن اور یو این ایچ سی آر نے اس ہولناک واقعے کی تصدیق کردی ہے۔ رپورٹ کے مطابق: حادثے کا شکار ہونے والی دونوں کشتیاں جون کے اواخر میں میانمار کی مغربی ریاست راکھائن سے روانہ ہوئی تھیں، ان کشتیوں میں سوار مسافروں کی اکثریت مظلوم روہنگیا مسلمانوں پر مشتمل تھی، جبکہ ان میں کچھ ایسے افراد بھی شامل تھے جنہوں نے بنگلہ دیش میں قائم کاکس بازار کے پناہ گزین کیمپوں سے اس پرخطر سفر کا آغاز کیا تھا۔ رپورٹ کے مطابق دونوں کشتیوں کی تباہی الگ الگ مقامات پر ہوئی، ایک کشتی میں تقریباً 250 افراد سوار تھے جو روانگی کے فوری بعد ہی لاپتہ ہو گئی اور اس کا ساحل سے رابطہ منقطع ہوگیا۔ دوسری کشتی میں 280 افراد سوار تھے جو آٹھ جولائی کو میانمار کے علاقے ایئیرواڈی کے ساحل کے قریب بپھری ہوئی لہروں کی نذر ہو کر ڈوب گئی۔ بین الاقوامی امدادی اداروں نے واقعے پر گہرے دکھ کا اظہار کرتے ہوئے دنیا بھر کے ممالک پر زور دیا ہے کہ وہ روہنگیا پناہ گزینوں کے سمندری راستوں سے ہونے والے اس پرخطر سفر اور انسانی اسمگلنگ کی روک تھام کے لیے فوری اور ٹھوس اقدامات کریں۔

Source: Admin

Post
Send
Kolkata Sports Entertainment

Please vote this article

0 Responses
Best Rating Best
Good Rating Good
Okay Rating Okay
Bad Rating Bad

Popular in International

Related Articles

Discussion

Comment
Your View

We'd love to hear your perspective on this article. Join the conversation and share your thoughts below!

Post your comment

0 Comments

No comments