Meta Pixel
Logo

Akhbar-e-Mashriq

PUBLISHED FROM Kolkata ♦ Delhi ♦ Ranchi ♦ Lucknow ♦ Bhopal ♦ Srinagar ♦ Siliguri ♦ Asansol
Akhbar-e-Mashriq Akhbar-e-Mashriq
ALERTS
Kolkata

بنگال میں 16لاکھ ووٹروں کے اخراج پر الیکشن کمیشن خاموش

Admin
By Admin
Oct 30, 2026

Your Reaction

{{ voteMessage }}

{{ currentVoteCount }} Responses

Trending Video

KOLKATA METRO STATION PAR MAHILA PASSENGER AUTHORITIES NE LAGAYA JURMANA

بنگال میں 16لاکھ ووٹروں کے اخراج پر الیکشن کمیشن خاموش
بنگال میں 16لاکھ ووٹروں کے اخراج پر الیکشن کمیشن خاموش — October 30, 2026
بنگال میں 16لاکھ ووٹروں کے اخراج پر الیکشن کمیشن خاموش
بنگال میں 16 لاکھ ووٹروں کے اخراج کی درخواست پر فیصلوں پر اٹھیں گے سوالات، ایس آئی آر کے معاملے میں کارکنوں نے الیکشن کمیشن سے پوچھے کئی سوال
سماجی کارکن یوگیندر یادو نے جمعرات کو چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار کے سامنے انتخابی فہرستوں کی خصوصی جامع نظرثانی (ایس آئی آر) سے متعلق سات سوالات پیش کیے۔ اس عمل کے تحت پورے ملک میں ووٹر لسٹوں سے 13 کروڑ سے زائد نام حذف کیے جا چکے ہیں۔ دی انڈین ایکسپریس کی جانب سے انتخابی کمیشن کے اندر اس مشق کو لے کر اختلافات کی خبر شائع کیے جانے کے بعد سے یہ معاملہ سخت جانچ کے دائرے میں ہے۔
یوگیندر یادو دہلی میں ایک پریس کانفرنس سے خطاب کر رہے تھے۔ اس موقع پر پرشانت بھوشن، انجلی بھاردواج اور نیہا بورا بھی موجود تھیں۔ سماجی کارکنوں نے الزام لگایا کہ الیکشن کمیشن سوالوں کے جواب دینے سے ”بھاگ رہا ہے“۔یوگیندر یادو نے کہا، ”وہ (الیکشن کمیشن) ابھی تک بہار میں ایس آئی آر سے متعلق ریکارڈ پیش نہیں کر سکے ہیں، جس کا اعلان 24 جون 2025 کو کیا گیا تھا۔ ہم جاننا چاہتے ہیں کہ یہ فیصلہ کس نے لیا، اس کی اطلاع دیگر دو الیکشن کمشنروں کو کب دی گئی اور ایس آئی آر کی شرائط میں تبدیلی کا فیصلہ کب کیا گیا؟“
انہوں نے سوال کیا، ”انہوں نے سپریم کورٹ کو بتایا ہے کہ نئے ووٹروں کے اندراج کے لیے استعمال ہونے والے فارم 6 میں کوئی تبدیلی نہیں کی گئی، بلکہ صرف ایک اقرار نامہ شامل کیا گیا ہے۔ ہم جاننا چاہتے ہیں کہ کیا اس اقرار نامے کے بغیر فارم 6 قبول کیا جا سکتا تھا؟ اس اقرار نامے کو مختلف اوقات میں ڈیکلریشن ڈی اور انیکچر 4 کہا گیا ہے، کیا یہ لازمی تھا یا اختیاری؟“
یوگیندر یادو نے کہا، ”انہوں نے بتایا ہے کہ انتخابی رجسٹریشن افسران (ای آر اوز) کو مناسب جانچ پڑتال کے بعد انتخابی فہرستوں میں ناموں کی تبدیلی، شمولیت یا حذف کرنے کا اختیار ہونا چاہیے۔ ہم یہ نہیں پوچھ رہے کہ انہیں یہ اختیار ہونا چاہیے یا نہیں۔ ہمارا سوال ہے کہ کیا انہیں یہ اختیار حاصل تھا؟ گجرات کے چیف الیکشن افسر کو ای آر اوز کو نام شامل کرنے کے لیے سافٹ ویئر تک رسائی دینے کی غرض سے آٹھ خطوط لکھنے پڑے۔ مہاراشٹر کے چیف الیکشن افسر کو بھی کمیشن کو خط لکھنا پڑا۔“انہوں نے سوال کیا، ”نہ دہلی میں افسران کو معلوم ہے اور نہ ہی بنگال میں کہ ناموں کو حذف کرنے کے لیے یہ مقدمات کس نے دائر کیے۔ متعلقہ افسر کا نام ظاہر کیوں نہیں کیا جا رہا ہے؟“
یوگیندر یادو نے کہا، ”منطقی تضادات کی نشاندہی کے لیے استعمال کیے جانے والے سافٹ ویئر اور اس کے طریقہ کار کو عوام کے سامنے لایا جائے۔ کن ووٹروں کو ان کے شمار کے فارم میں منطقی تضادات کے بارے میں اطلاع دی گئی؟ کن کے جوابات قبول کیے گئے اور کن کے مسترد کر دیے گئے؟“انہوں نے مزید کہا، ”کیا فارم 7 اجتماعی طور پر جمع کرایا جا سکتا ہے؟ ہزاروں کی تعداد میں فارم 7 کیسے جمع کرائے جا سکتے ہیں؟ کوئی سرکاری افسر فارم 7 کیسے جمع کرا سکتا ہے؟ یہ غیر قانونی ہے۔“
یوگیندر یادو نے سوال کیا، ”فارم 8 ان لوگوں کی جانکاری کے بغیر ان کی جانب سے کیوں بھر کر جمع کرایا جا رہا ہے، جن کے نام پر یہ کارروائی کی جا رہی ہے؟ اگر اتر پردیش کے پیلی بھیت سے ایسا ایک معاملہ سامنے آیا ہے تو اس بات کا قوی امکان ہے کہ دوسری جگہوں پر بھی اسی طرح کی کوششیں کی جا رہی ہوں۔“21 اکتوبر کو کانگریس نے الزام لگایا تھا کہ رواں سال 10 اپریل کو اتر پردیش کی حتمی مسودہ ووٹر فہرست شائع ہونے کے بعد پیلی بھیت میں کم از کم 13,510 ووٹروں کے ناموں میں تبدیلی کی گئی۔الزام ہے کہ جولائی سے ستمبر کے درمیان ان ناموں میں تبدیلی کی گئی، جس کے سلسلے میں دو انتظامی افسران اور ایک کمپیوٹر آپریٹر کے خلاف انتظامی کارروائی کی گئی ہے۔پیر کے روز سپریم کورٹ میں داخل کیے گئے حلف نامے میں الیکشن کمیشن نے تینوں الیکشن کمشنروں کے درمیان اتفاق رائے پر زور دیا تھا۔
دی انڈین ایکسپریس نے اپنی رپورٹ میں بتایا تھا کہ دو الیکشن کمشنروں سکھبیر سنگھ سندھو اور وویک جوشی نے 10 ماہ کے دوران 14 اعتراضات اٹھائے تھے۔ ان کا کہنا تھا کہ ناموں کے اضافے اور حذف کیے جانے سمیت کئی اہم معاملات میں انہیں اندھیرے میں رکھا گیا۔سپریم کورٹ میں ایس آئی آر کی سماعتوں میں پیش ہونے والے وکیل اور سماجی کارکن پرشانت بھوشن نے کہا، ”یہ حلف نامہ جھوٹ ہے۔ دہلی کے 31 لاکھ ووٹروں سے فارم 6 جمع کرانے کو کہا جا رہا ہے اور جان بوجھ کر یہ غلط اقرار کرنے کے لیے کہا جا رہا ہے کہ انہوں نے پہلے کبھی ووٹ نہیں دیا۔ انہیں فارم 8 دیا جانا چاہیے۔“
سماجی کارکن انجلی بھاردواج نے کہا کہ الیکشن کمیشن کے حلف نامے میں تمام فیصلے اتفاق رائے سے کیے جانے کی بات کہی گئی ہے، لیکن اس سلسلے میں کوئی دستاویز پیش نہیں کی گئی۔انہوں نے کہا، ”میری جانب سے دائر کی گئی آر ٹی آئی درخواست کے جواب میں الیکشن کمیشن نے بتایا تھا کہ دیگر ریاستوں میں ایس آئی آر کی توسیع کے فیصلے کا کوئی ریکارڈ موجود نہیں ہے۔“انجلی بھاردواج نے سوال کیا، ”کیا یہ فیصلہ وزیر اعظم کے دفتر (پی ایم او) یا وزارت داخلہ میں لیا گیا تھا؟ اگر یہ فیصلہ الیکشن کمیشن نے نہیں لیا تو یہ غیر قانونی ہے۔“
انہوں نے مزید کہا، ”حلف نامے کے پیراگراف 29 میں الیکشن کمیشن کہتا ہے کہ کچھ فیصلے الیکٹرانک طریقے سے لیے گئے تھے۔ کیا ایس آئی آر کا فیصلہ بھی الیکٹرانک طریقے سے لیا گیا اور بعد میں اسے دستاویزی شکل دی گئی؟ کیا فیصلے واٹس ایپ یا ای میل کے ذریعے کیے گئے تھے؟ سپریم کورٹ کو کمیشن سے واٹس ایپ چیٹس اور ای میلز پیش کرنے کے لیے کہنا چاہیے۔“انہوں نے کہا کہ الیکشن کمیشن نے اس بات کی جانچ کے لیے ایک جائزہ کمیٹی تشکیل دینے کا ذکر کیا ہے کہ آیا ای سی آئی نیٹ ایپ ہندوستانی قوانین کے دائرے میں کام کر رہی تھی یا نہیں۔
انجلی بھاردواج نے کہا، ”ملک میں 13 کروڑ ووٹروں کے نام حذف کیے جانے کے بعد اب جا کر انہوں نے یہ کارروائی شروع کی ہے۔ الیکشن کمیشن اس سوال کا جواب دینے سے بچ رہا ہے کہ آیا یہ غلطیاں جان بوجھ کر کی گئی تھیں۔“آل انڈیا اسٹوڈنٹس ایسوسی ایشن (آئیسا) کی صدر نیہا بورا نے کہا کہ الیکشن کمیشن کا داخل کردہ حلف نامہ یہ ثابت نہیں کر سکا کہ ایس آئی آر کو ختم کرنے کے مطالبے کے لیے سڑکوں پر چلائی جا رہی تحریک غلط معلومات اور گمراہ کن باتوں پر مبنی ہے۔
انہوں نے کہا، ”ایک طرف ہمارا حق رائے دہی چھینا جا رہا ہے اور جب ہم سڑکوں پر اترتے ہیں تو ہمارے جمہوری اختلاف رائے کے حق کو بھی دبایا جا رہا ہے۔ یہ ایک بڑی لڑائی ہے۔ ہم الیکشن کمیشن کے داخل کردہ حلف نامے کو مسترد کرتے ہیں۔“
انہوں نے مزید کہا، ”دہلی کے بڑے حصوں میں بی این ایس ایس کی دفعہ 163 (جس نے ضابطہ فوجداری کی دفعہ 144 کی جگہ لی ہے) نافذ کر دی گئی ہے، تاکہ لوگوں کو اپنے حق رائے دہی کے تحفظ کے لیے آواز اٹھانے سے روکا جا سکے۔ مظاہرین سے امن برقرار رکھنے کے بانڈ پر دستخط کرنے کو کہا جا رہا ہے، جبکہ وہ ان لوگوں سے جواب دہی کا مطالبہ کر رہے ہیں جو کسی مخصوص سیاسی جماعت کو فائدہ پہنچانے کے لیے اپنے عہدے کا غلط استعمال کر رہے ہیں۔“

بنگال میں 16لاکھ ووٹروں کے اخراج پر الیکشن کمیشن خاموش...

Source: Admin
Discussion

Comment
Your View

We'd love to hear your perspective on this article. Join the conversation and share your thoughts below!

Post your comment

0 Comments

No comments

Trending Videos
Instagram
X (Twitter)
LinkedIn