بلدیاتی انتخابات سے قبل بقایا رقم کی ادائیگی کےلئے بنگال کے بس آپریٹروں کی احتجاج کی دھمکی
مغربی بنگال میں نجی بس آپریٹروں نے مئی میں ہونے والے اسمبلی انتخابات کے دوران انتخابی ڈیوٹی کے لیے حاصل کی گئی گاڑیوں کے بقایا جات کی ادائیگی نہ ہونے پر احتجاج کی دھمکی دی ہے۔ انہوں نے ریاستی حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ آنے والے بلدیاتی انتخابات سے قبل تمام زیر التوا ادائیگیاں کی جائیں اور معاوضے کی یکساں شرح مقرر کی جائے۔
ایسوسی ایشن نے پولیس اور الیکشن کمیشن کی جانب سے انتخابی ڈیوٹی کے لیے حاصل کی جانے والی گاڑیوں کے معاوضے کی شرح بھی یکساں کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔ اس کا کہنا ہے کہ ایک ہی کام کے لیے معاوضے کی رقم میں کافی فرق ہے۔کولکاتا، ہاوڑہ اور کئی دیگر شہری بلدیاتی اداروں کے انتخابات نومبر میں ہونے کی توقع ہے۔ریاست میں نجی بس آپریٹروں کی اعلیٰ تنظیم جوائنٹ کونسل آف بس سنڈیکیٹس نے جمعرات کو الزام لگایا کہ متعدد بس اور منی بس مالکان کو انتخابی ڈیوٹی کے بقایا جات ابھی تک نہیں ملے ہیں، حالانکہ وہ بار بار متعلقہ حکام سے اپیل کر چکے ہیں۔
ریاستی وزیر ٹرانسپورٹ ارجن سنگھ کو لکھے گئے خط میں کونسل کے جنرل سکریٹری تپن بنرجی نے کہا کہ اسمبلی انتخابات مئی میں مکمل ہو گئے تھے، لیکن انتخابی ڈیوٹی کے لیے حاصل کی گئی کئی گاڑیوں کی ادائیگی اب بھی زیر التوا ہے۔انہوں نے کہا کہ آپریٹروں نے کولکاتا پولیس سمیت متعلقہ حکام سے بار بار رابطہ کیا، لیکن کوئی نتیجہ نہیں نکلا۔بنرجی کے مطابق، ایک وفد نے 14 ستمبر کو وزیر ٹرانسپورٹ سے ملاقات کی تھی اور درگا پوجا سے پہلے بقایا رقم ادا کرنے کی درخواست کی تھی۔انہوں نے دعویٰ کیا، ”اگرچہ وزیر نے یقین دہانی کرائی تھی کہ بقایا جات ادا کر دیے جائیں گے، لیکن مالکان اب بھی ادائیگی کے منتظر ہیں۔“
ایسوسی ایشن نے مزید الزام لگایا کہ اسمبلی انتخابات سے قبل انتخابی ڈیوٹی کے لیے حاصل کی گئی کئی بسیں اور منی بسیں اب بھی پولیس کی تحویل میں ہیں۔بنرجی کے مطابق، آپریٹروں پر مالی دباو¿ مزید بڑھ گیا ہے، کیونکہ اس کے بعد درگا پوجا کی ڈیوٹی کے لیے بھی کئی گاڑیاں حاصل کر لی گئیں، جس کی وجہ سے مالکان کے لیے اپنی مالی ذمہ داریاں پوری کرنا مشکل ہو گیا ہے۔ریاستی حکومت کو پیش کی گئی عرضداشت میں ایسوسی ایشن نے سوال اٹھایا، ”ان بسوں اور منی بسوں کے ساتھ تعینات کارکنوں کی اجرت کون ادا کرے گا اور مالکان کو ان کی بقایا رقم کب ملے گی؟“
معاوضے کی رقم میں فرق کو اجاگر کرتے ہوئے کونسل نے کہا کہ پولیس ایک بس کے لیے 800 روپے اور منی بس کے لیے 900 روپے ادا کرتی ہے، جبکہ الیکشن کمیشن ایک بس کے لیے 2,700 روپے اور منی بس کے لیے 2,300 روپے دیتا ہے۔تنظیم نے گاڑیوں کے ساتھ تعینات عملے کو دیے جانے والے یومیہ کھانے کے الاو¿نس میں فرق پر بھی تشویش ظاہر کی۔ایسوسی ایشن کے مطابق، الیکشن کمیشن ہر ملازم کو روزانہ 280 روپے دیتا ہے، جبکہ پولیس صرف 80 روپے ادا کرتی ہے۔کونسل نے سوال کیا، ”ایک ہی کام کے لیے معاوضے کی الگ الگ شرح کیوں ہونی چاہیے؟“ اس نے حکومت سے ادائیگی کا یکساں نظام متعارف کرانے کی اپیل کی۔بنرجی نے تنازع کو جلد حل کرنے کا مطالبہ کرتے ہوئے خبردار کیا کہ اگر ادائیگی میں تاخیر جاری رہی تو نجی بس آپریٹر احتجاج شروع کرنے پر مجبور ہو سکتے ہیں۔مطالبات پر ردعمل ظاہر کرتے ہوئے محکمہ ٹرانسپورٹ کے ایک افسر نے کہا کہ وزیر ان معاملات کا جائزہ لے رہے ہیں اور دیوالی کے بعد حکومت کے فیصلے سے آپریٹروں کو آگاہ کیا جائے گا۔
بلدیاتی انتخابات سے قبل بقایا رقم کی ادائیگی کےلئے بنگال کے بس آپریٹروں کی احتجاج کی دھمکی...
Source: Admin
Comment
Your View
We'd love to hear your perspective on this article. Join the conversation and share your thoughts below!
Post your comment
0 CommentsNo comments