Meta Pixel
Logo

Akhbar-e-Mashriq

PUBLISHED FROM Kolkata ♦ Delhi ♦ Ranchi ♦ Lucknow ♦ Bhopal ♦ Srinagar ♦ Siliguri ♦ Asansol
Akhbar-e-Mashriq Akhbar-e-Mashriq
ALERTS
Kolkata

بنگال کے وزیر کا پولیس اسٹیشنوں میں کالی پوجا منعقد کرنے کا مشورہ، ’سیکولر روایات کی خلاف ورزی ہے

Admin
By Admin
Oct 30, 2026

Your Reaction

{{ voteMessage }}

{{ currentVoteCount }} Responses

Trending Video

KOLKATA KI GERUA SAMMAN YATRA SUVENDU ADHIKARI KA SAKHT ANDAZAZ

بنگال کے وزیر کا پولیس اسٹیشنوں میں کالی پوجا منعقد کرنے کا مشورہ، ’سیکولر روایات کی خلاف ورزی ہے
بنگال کے وزیر کا پولیس اسٹیشنوں میں کالی پوجا منعقد کرنے کا مشورہ، ’سیکولر روایات کی خلاف ورزی ہے — October 30, 2026
بنگال کے وزیر کا پولیس اسٹیشنوں میں کالی پوجا منعقد کرنے کا مشورہ، ’سیکولر روایات کی خلاف ورزی ہے
شوبھیندو ادھیکاری حکومت کے ایک وزیر نے بیربھوم کے پولیس اسٹیشنوں کو ’ادارہ جاتی انداز‘ میں کالی پوجا منعقد کرنے کا مشورہ دیا ہے۔ ان کے اس بیان کے بعد ملک کی سیکولر روایات کی خلاف ورزی اور فرقہ وارانہ کشیدگی سے نمٹنے کی ذمہ داری نبھانے والی پولیس فورس میں مذہبی بنیادوں پر تقسیم پیدا ہونے کے خدشات ظاہر کیے جا رہے ہیں۔
بنگال کے وزیر برائے اعلیٰ تعلیم اور سوری کے رکن اسمبلی جگن ناتھ چٹوپادھیائے نے بدھ کی شام دعویٰ کیا کہ کالی پوجا کا تعلق ’پولیس کلچر‘ سے ہے۔ انہوں نے بیربھوم کے سپرنٹنڈنٹ آف پولیس سے کہا کہ ضلع کے ہر پولیس اسٹیشن میں یہ تقریب بڑے پیمانے پر اور شان و شوکت کے ساتھ منعقد کی جائے۔
سوری پولیس لائنز میں ایک اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا، ”میں ایس پی سے درخواست کروں گا کہ وہ اس بات کو یقینی بنائیں کہ ہر پولیس اسٹیشن میں کالی پوجا مناسب طریقے سے منائی جائے۔ ہر کوئی کالی پوجا مناتا ہے، لیکن اس کی تقریبات میں ادارہ جاتی رنگ شامل کیا جائے۔“
انہوں نے مزید کہا، ”میری ایک توقع ہے۔ جس طرح وجئے دشمی ادارہ جاتی منظوری کے ساتھ منائی جاتی ہے، اسی طرح کالی پوجا بھی منائی جانی چاہیے۔“
ادارہ جاتی منظوری کا مطلب یہ ہے کہ کسی تقریب کو حکومت کے سرکاری کیلنڈر میں شامل کیا جائے، اس کے انعقاد کے لیے سرکاری سرکلر جاری ہو، فنڈز فراہم کیے جائیں اور رہنما اصول طے کیے جائیں۔حالانکہ پولیس اسٹیشنوں میں سرکاری طور پر جو تقریب منعقد کی جاتی ہے، وہ ’وجئے سمیلن‘ ہے، جو بنیادی طور پر وجئے دشمی کے موقع پر ایک سماجی اجتماع ہوتا ہے۔
سی پی ایم کی مرکزی کمیٹی کے رکن سوجن چکرورتی نے کہا، ”وزیر کے عہدے کا حلف لینے کے بعد وہ پولیس اسٹیشنوں میں کالی پوجا کو ادارہ جاتی شکل دینے کا مطالبہ نہیں کر سکتے۔ یہ آئین کے خلاف ہے۔“انہوں نے یہ سوال بھی اٹھایا کہ کیا وزیر داخلہ (پولیس) کے علاوہ کوئی دوسرا وزیر پولیس کو اس طرح کا مشورہ دے سکتا ہے یا ’ادارہ جاتی منظوری‘ کے بارے میں بات کر سکتا ہے؟ فی الحال پولیس کا محکمہ وزیر اعلیٰ شوبھیندو ادھیکاری کے پاس ہے۔بیلی گھاٹا سے ترنمول کانگریس کے رکن پارلیمنٹ کنال گھوش نے بھی وزیر کے بیان کی مذمت کی۔انہوں نے کہا، ”ایسا نہیں ہے کہ پولیس اسٹیشنوں میں کالی پوجا منعقد نہیں ہوتی۔ پولیس اسٹیشنوں کے قریب مندر بھی موجود ہیں۔ لیکن اسے ادارہ جاتی شکل نہیں دی جا سکتی، کیونکہ پولیس اسٹیشن ایسی جگہ ہے جہاں تمام مذاہب کے لوگ آتے ہیں۔“
چٹوپادھیائے نے پولیس اسٹیشنوں میں کالی کی مستقل مورتیاں نصب کرنے کی تجویز بھی پیش کی۔انہوں نے کہا، ”پولیس اسٹیشنوں میں کالی کی مورتی ہونی چاہیے۔ جب کوئی چور پولیس اسٹیشن میں داخل ہو تو اسے دیوی کے سامنے سر جھکا کر جلد رہائی کی دعا کرنی چاہیے۔“انہوں نے مزید کہا، ”جب پولیس چھاپہ مارنے کے لیے باہر جائے تو اسے ماں کے سامنے سر جھکا کر ملزم کو پکڑنے میں کامیابی کی دعا کرنی چاہیے۔“ایک سینئر آئی پی ایس افسر نے بتایا کہ بیربھوم اور بنگال کے دیگر علاقوں کے کئی پولیس اسٹیشنوں میں انگریزوں کے دور سے ہی کالی پوجا منعقد کی جاتی رہی ہے، لیکن اسے کبھی سرکاری منظوری حاصل نہیں رہی۔
انہوں نے بتایا کہ بیربھوم میں شکتی پیٹھوں اور مذہبی زیارت گاہوں کے لیے مشہور علاقے کے کئی پولیس اسٹیشنوں، مثلاً رام پورہاٹ، سوری، بولپور اور سائیں تھیا میں احاطے کے اندر کالی مندر موجود ہیں اور وہاں ہر سال بڑے پیمانے پر پوجا منعقد کی جاتی ہے۔تاہم انہوں نے کہا کہ چٹوپادھیائے کے برعکس اس سے پہلے کسی بھی حکومتی نمائندے نے اس مذہبی تقریب کو ادارہ جاتی منظوری دینے کا اشارہ نہیں دیا تھا۔غالباً اپنے حکم پر تنقید کے خدشے کو محسوس کرتے ہوئے وزیر نے پولیس اسٹیشنوں میں کالی پوجا کا موازنہ اسکولوں میں سرسوتی پوجا سے کیا۔ ان کا دعویٰ تھا کہ دونوں تقریبات مذہب سے زیادہ ثقافت کی علامت ہیں۔انہوں نے کہا، ”ایک وزیر کی حیثیت سے میں آپ سے کالی پوجا منعقد کرنے کے لیے کہہ رہا ہوں۔ اسے مذہبی نقط نظر سے دیکھنا ضروری نہیں ہے۔“
انہوں نے مزید کہا، ”بنگالی ثقافت میں اسکولوں کی سرسوتی پوجا محض ایک مذہبی رسم نہیں، بلکہ اسکول کی ثقافت کا لازمی حصہ ہے۔ اسی طرح کالی پوجا بھی پولیس کلچر کا ایک لازمی حصہ ہے۔ پولیس فورس دیوی شکتی کی طاقت سے رہنمائی حاصل کرتی ہے۔“چٹوپادھیائے نے اس بات کا بھی ذکر کیا کہ اسپتالوں میں دیوی دیوتاو¿ں کی مورتیاں موجود ہوتی ہیں، جہاں ڈاکٹر اور مریضوں کے رشتہ دار دعائیں کرتے ہیں۔
یہ مورتیاں زیادہ تر اسپتال کے عملے کی جانب سے نصب کی جاتی ہیں اور وہاں عقیدت رکھنے والے افراد کو ایسی جگہ پر خاموشی سے دعا کرنے کا موقع ملتا ہے، جہاں ہر روز زندگی اور موت کا سامنا ہوتا ہے۔سینئر آئی پی ایس افسر نے بتایا کہ بائیں محاذ کی حکومت کے آخری دس برسوں کے دوران پولیس اسٹیشنوں میں کالی پوجا کی روایت کو دھچکا لگا تھا۔ وزیر اعلیٰ بننے کے بعد بدھ دیب بھٹاچاریہ نے پولیس اسٹیشنوں کے احاطے میں مذہبی تقریبات منعقد کرنے پر پابندی عائد کر دی تھی۔اس کے باوجود کئی افسران اپنے ذاتی عقیدے کے تحت اپنے کام کی جگہوں پر کالی کی پوجا کرتے رہے۔ترنمول کانگریس کے دور حکومت میں بیربھوم کے بیشتر پولیس اسٹیشنوں میں بڑے پیمانے پر کالی پوجا منعقد کی جانے لگی۔ تاہم ایک سینئر افسر نے بتایا کہ اقلیتی آبادی والے علاقوں میں اس تقریب کو سادگی سے منعقد کرنے کے سخت احکامات تھے۔افسر نے بتایا، ”2010 کی دہائی کے اوائل میں بولپور کے قریب قائم کیے گئے ایک نئے پولیس اسٹیشن میں فرقہ وارانہ کشیدگی کے باعث چند سال تک کالی پوجا پر پابندی رہی۔ بعد میں سینئر افسران کی مداخلت کے بعد پوجا دوبارہ شروع کی گئی۔“2015 میں سوری کے قریب ایک پولیس اسٹیشن میں کالی مندر تعمیر کرنے کا کام اقلیتی برادری کے احتجاج کے بعد روک دیا گیا تھا۔چٹوپادھیائے نے پولیس اسٹیشنوں میں کالی پوجا کی اجازت نہ دینے پر بدھ دیب بھٹاچاریہ کو تنقید کا نشانہ بنایا۔انہوں نے کہا، ”اگرچہ جیوتی باسو نہیں چاہتے تھے کہ پولیس اسٹیشنوں میں کالی پوجا بند کی جائے، لیکن بدھ بابو نے زبردستی اس روایت کو ختم کر دیا تھا۔“حیرت انگیز طور پر پولیس کو کالی پوجا منعقد کرنے کا مشورہ دیتے ہوئے چٹوپادھیائے نے ڈاکوو¿ں کی جانب سے کالی پوجا کرنے کی روایت کا بھی ذکر کیا۔ اس بیان کے بعد اپوزیشن نے سوال اٹھایا کہ کیا وزیر پولیس اور ڈاکوو¿ں کو ایک ہی صف میں کھڑا کر رہے ہیں؟وزیر نے کہا، ”مشہور ڈاکو رگھو ڈاکیت بھی ڈکیتی کرنے نکلنے سے پہلے کالی کی پوجا کیا کرتا تھا۔ بنیادی طور پر آپ لوگ بھی شکتی کے پجاری ہیں۔“سی پی ایم رہنما چکرورتی نے کہا، ”کیا ان کا مطلب یہ تھا کہ پولیس پہلے پوجا کرے گی اور پھر باہر جا کر اسی طرح کی وارداتیں کرے گی؟“
دلچسپ بات یہ ہے کہ گزشتہ ماہ کولکاتا پولیس نے 47 افسران، اہلکاروں اور ہوم گارڈ رضاکاروں کی داڑھی بڑھانے کی اجازت سے متعلق درخواست مسترد کر دی تھی۔ کولکاتا پولیس کے ذرائع کے مطابق ان میں تقریباً تمام اہلکار مسلمان تھے۔ انہیں بتایا گیا تھا کہ پولیس فورس میں یکسانیت برقرار رکھنے کے لیے قواعد پر سختی سے عمل کرنا ضروری ہے۔

2021 میں الہ آباد ہائی کورٹ نے معطل کیے گئے ایک مسلمان پولیس اہلکار کو ملازمت کے دوران داڑھی رکھنے کی اجازت دینے سے انکار کر دیا تھا۔ عدالت نے کہا تھا کہ ایسا کرنا سرکاری احکامات کی خلاف ورزی ہے۔ عدالت نے مزید فیصلہ دیا تھا کہ وہ مذہبی آزادی سے متعلق آئین کے آرٹیکل 25 کے تحت تحفظ کا مطالبہ نہیں کر سکتا۔

بنگال کے وزیر کا پولیس اسٹیشنوں میں کالی پوجا منعقد کرنے کا مشورہ، ’سیکولر روایات کی خلاف ورزی ہے...

Source: Admin
Discussion

Comment
Your View

We'd love to hear your perspective on this article. Join the conversation and share your thoughts below!

Post your comment

0 Comments

No comments

Trending Videos
Instagram
X (Twitter)
LinkedIn