Meta Pixel
Logo

Akhbar-e-Mashriq

PUBLISHED FROM Kolkata ♦ Delhi ♦ Ranchi ♦ Lucknow ♦ Bhopal ♦ Srinagar ♦ Siliguri ♦ Asansol
Akhbar-e-Mashriq Akhbar-e-Mashriq
ALERTS
International

موت کے انجیکشن سے دو بار بچنے والی کرسٹا پائیک کو ہوش آ گیا، باتیں بھی کرنے لگی

Admin
By Admin
Oct 07, 2026

Your Reaction

{{ voteMessage }}

{{ currentVoteCount }} Responses

Trending Video

KOLKATA KI GERUA SAMMAN YATRA SUVENDU ADHIKARI KA SAKHT ANDAZAZ

موت کے انجیکشن سے دو بار بچنے والی کرسٹا پائیک کو ہوش آ گیا، باتیں بھی کرنے لگی
موت کے انجیکشن سے دو بار بچنے والی کرسٹا پائیک کو ہوش آ گیا، باتیں بھی کرنے لگی — October 07, 2026
ٹینیسی: سزا یافتہ قاتل کرسٹا پائیک، جو گزشتہ ہفتے امریکی ریاست ٹینیسی میں مہلک انجیکشن کے ذریعے سزائے موت دیے جانے کی کوشش میں زندہ بچ گئی تھیں، ہوش میں آ گئی ہیں اور بات کر رہی ہیں۔

روئٹرز کے مطابق بدھ کو کرسٹا پائیک کو مہلک انجیکشن کے ذریعے سزائے موت دینے کی کوشش کی گئی، لیکن یہ کوشش ناکام رہی، اُن کے وکلا نے منگل کو ایک بیان میں کہا کہ اس دوران بازوؤں کی وریدوں میں مہلک دوا پہنچانے کے لیے آئی وی نلکیاں ڈالنے کی کوشش کی گئی لیکن دوا وریدوں کی بجائے باہر ٹشوز میں رِس گئی، جس سے بازو شدید زخمی ہو گئے۔

دراصل پینٹوباربیٹل سے خاتون کے بازو سوج گئے، اور جل کر ان پر چھالے پڑ گئے، وکلا کے مطابق 50 سالہ پائیک اب بھی اسپتال میں زیرِ علاج ہیں، اور انھیں اسپتال کے بستر سے ہتھکڑیوں اور بیڑیوں کے ذریعے باندھ کر رکھا گیا ہے۔

کرسٹا پائیک وہ امریکی خاتون ہیں جنھیں 1995 میں اپنے 19 سالہ ہم جماعت کولین سلیمر کو اذیت دے کر قتل کے جرم میں ریاست ٹینیسی میں سزائے موت سنائی گئی تھی۔ 30 ستمبر کی شب ریاستی دارالحکومت نیش وِل کے ریور بینڈ میکسمم سیکیورٹی انسٹی ٹیوشن میں انھیں مہلک انجیکشن کے ذریعے سزائے موت دینے کی کوشش کی گئی، لیکن دو بار مہلک انجیکشن دیے جانے کے باوجود وہ زندہ بچ گئیں اور انھیں اسپتال منتقل کرنا پڑا۔

وکلا نے بیان میں کہا کہ ’’پائیک کی صحت یابی کے امکانات کے بارے میں اب بھی کچھ واضح نہیں ہے، تاہم اس میں کچھ عرصہ تو لگے گا۔‘‘ بیان میں مزید کہا گیا کہ پائیک کے مقدمے کی سماعت بدھ کو ڈیوڈسن کاؤنٹی چانسری کورٹ میں مقرر ہے۔

ایک ترجمان نے بتایا کہ بدھ کو اس درخواست پر سماعت ہوگی جو پائیک کے وکلا نے عدالت میں دائر کی ہے، وکلا چاہتے ہیں کہ عدالت ناکام سزائے موت سے متعلق تمام شواہد محفوظ رکھنے کا حکم دے، کیوں کہ یہ شواہد ثابت کریں گے کہ ٹینیسی ڈپارٹمنٹ آف کریکشن نے پائیک کو ظالمانہ اور غیر معمولی سزا دی، وکلا کا کہنا ہے کہ اس طرح محکمہ نے پائیک کے آئینی حقوق کی خلاف ورزی کی ہے۔

وکلا نے جمعہ کو بتایا تھا کہ اُن کی مؤکلہ بے ہوش اور انتہائی تشویش ناک حالت میں اور سانس لینے کے لیے وینٹی لیٹر پر ہیں، جب کہ ڈاکٹر ان کے جسم سے پینٹوباربیٹل نامی دوا خارج کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ تاہم منگل کو وکلا نے بتایا کہ تمام تر ناموافق حالات کے باوجود کرسٹا پائیک ہوش میں آ گئی ہیں اور اب بات کر رہی ہیں اور انھیں بدستور انتہائی اہم طبی نگہداشت فراہم کی جا رہی ہے۔

پائیک کی جانب سے معافی کی درخواست گزشتہ ہفتے ری پبلکن گورنر بل لی نے مسترد کر دی تھی۔ درخواست میں کہا گیا تھا کہ پائیک کی سزائے موت کا فیصلہ کرتے وقت ان کے بچپن کے صدمے کو مناسب اہمیت نہیں دی گئی۔ پائیک کے وکلا کے مطابق وہ بچپن میں جنسی زیادتی اور غفلت کا شکار رہی تھیں۔ انھیں ذہنی بیماری بھی لاحق تھی جس کا علاج نہیں کیا گیا تھا۔

پائیک طویل عرصے تک ریاست میں سزائے موت پانے والوں کی فہرست میں شامل واحد خاتون رہی ہیں۔ ان کے وکلا کے مطابق انھوں نے تقریباً 30 سال قیدِ تنہائی بھی کاٹی۔ وہ 19 ویں صدی کے اوائل کے بعد ٹینیسی میں سزائے موت دینے کی کوشش کا سامنا کرنے والی پہلی خاتون تھیں یعنی 200 برسوں میں پہلی۔ اس کے بعد وہ امریکا کی پہلی معلوم شخص بن گئیں جو سزائے موت کے لیے مہلک دوائیں دیے جانے کے باوجود زندہ بچ گئی۔

ٹینیسی: سزا یافتہ قاتل کرسٹا پائیک، جو گزشتہ ہفتے امریکی ریاست ٹینیسی میں مہلک انجیکشن کے ذریعے سزائے موت دیے جانے کی کوشش میں زندہ بچ گئی تھیں، ہوش میں آ گئی ہیں اور بات کر رہی ہی...

Source: Admin
Discussion

Comment
Your View

We'd love to hear your perspective on this article. Join the conversation and share your thoughts below!

Post your comment

0 Comments

No comments

Trending Videos
Instagram
X (Twitter)
LinkedIn