نئی دہلی: ایک نامعلوم ہیکر گروپ نے ملک کے سب سے بڑے سرکاری بینک، اسٹیٹ بینک آف انڈیا (ایس بی آئی) سے متعلق خفیہ صارفین کی معلومات حاصل کرنے کا دعویٰ کیا ہے۔ مبینہ طور پر حاصل کیے گئے ڈیٹا میں صارفین کی ذاتی تفصیلات، قرض کی درخواستیں، اکاؤنٹ کھولنے سے متعلق دستاویزات اور دیگر اہم ریکارڈ شامل ہیں۔ تاہم، اس دعوے کی صداقت اور ڈیٹا کے اصل ماخذ کی آزادانہ طور پر تصدیق نہیں ہو سکی ہے۔
سائبر سکیورٹی پر نظر رکھنے والے سوشل میڈیا اکاؤنٹ سائبرپلس 56 نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر ایک پوسٹ کے ذریعے ہیکر گروپ کے اس دعوے کی اطلاع دی۔ پوسٹ کے مطابق، ’سیریسِم‘ نام سے سرگرم اس گروپ کے پاس مبینہ طور پر ایس بی آئی سے متعلق سی ایس وی فارمیٹ میں 3.75 لاکھ ڈیٹا اندراجات اور 2722 پی ڈی ایف دستاویزات موجود ہیں۔
سائبرپلس 56 کے مطابق، مبینہ طور پر افشا کیے گئے ڈیٹا میں صارفین کی ذاتی معلومات، رہائشی پتے، قرض کے لیے دی گئی درخواستیں، ان کے ساتھ منسلک دستاویزات اور درخواستوں سے متعلق دیگر ریکارڈ شامل ہیں۔ ہیکر گروپ نے اس مواد کو اپنے ڈیٹا افشا کرنے کے سلسلے کی پہلی کھیپ کے طور پر پیش کیا ہے۔
سائبرپلس 56 نے 16 اکتوبر کو پہلی مرتبہ اس دعوے کی اطلاع دی تھی۔ تاہم، ڈیٹا اندراجات کی تعداد سے یہ اندازہ لگانا ممکن نہیں کہ اس معاملے سے کتنے صارفین متاثر ہو سکتے ہیں، کیونکہ ایک ہی شخص سے متعلق متعدد ریکارڈ بھی ان میں شامل ہو سکتے ہیں۔
اس معاملے میں ابھی تک ایسی کوئی آزادانہ تصدیق سامنے نہیں آئی ہے جس سے ثابت ہو کہ ہیکر گروپ نے ایس بی آئی کے کمپیوٹر نظام میں نقب لگائی ہے یا مبینہ دستاویزات براہ راست بینک کے نظام سے حاصل کی گئی ہیں۔ اخبار ’اکنامک ٹائمز‘ نے 20 اکتوبر کو رپورٹ کیا کہ خبر کی اشاعت تک ایس بی آئی نے تبصرے کے لیے بھیجی گئی ای میل کا جواب نہیں دیا تھا۔ اس لیے فی الحال ہیکر گروپ کے دعوے کو ثابت شدہ ڈیٹا لیک قرار دینا درست نہیں ہوگا۔
سائبرپلس 56 نے خبردار کیا ہے کہ اگر یہ ڈیٹا حقیقی ثابت ہوتا ہے تو اس کا استعمال شناخت کی چوری، مالی دھوکہ دہی، صارفین کو نشانہ بنا کر کیے جانے والے فشنگ حملوں اور جعلی قرض کی درخواستیں تیار کرنے کے لیے کیا جا سکتا ہے۔
یہ معاملہ ہندوستان کے مالیاتی شعبے کو درپیش سائبر سکیورٹی کے خطرات کے حوالے سے اہمیت رکھتا ہے۔ بینکوں کے صارفین کی ذاتی اور مالی معلومات افشا ہونے کی صورت میں ان کے غلط استعمال کا خدشہ بڑھ جاتا ہے۔ دریں اثنا، ہندوستانی ریزرو بینک (آر بی آئی) نے رواں سال کے آغاز میں ڈیجیٹل خطرات سے نمٹنے اور بینکاری نظام کو مزید محفوظ بنانے کی کوششوں کے تحت تجارتی بینکوں کے لیے سائبر سکیورٹی سے متعلق تقاضوں کو سخت کیا ہے۔
نئی دہلی: ایک نامعلوم ہیکر گروپ نے ملک کے سب سے بڑے سرکاری بینک، اسٹیٹ بینک آف انڈیا (ایس بی آئی) سے متعلق خفیہ صارفین کی معلومات حاصل کرنے کا دعویٰ کیا ہے۔ مبینہ طور پر حاصل کیے گ...
Source: Admin
Comment
Your View
We'd love to hear your perspective on this article. Join the conversation and share your thoughts below!
Post your comment
0 CommentsNo comments