Meta Pixel
Logo

Akhbar-e-Mashriq

PUBLISHED FROM Kolkata ♦ Delhi ♦ Ranchi ♦ Lucknow ♦ Bhopal ♦ Srinagar ♦ Siliguri ♦ Asansol
Akhbar-e-Mashriq Akhbar-e-Mashriq
ALERTS
National

دہلی کی 150 سالہ قدیم ریس کورس مسجد کو بچانے کے لئے اے پی سی آر کا بڑا قدم، لیفٹیننٹ گورنرسے فوری مداخلت کا مطالبہ

Admin
By Admin
Oct 21, 2026

Your Reaction

{{ voteMessage }}

{{ currentVoteCount }} Responses

Trending Video

BIHAR KE VAISHALI MEIN UNDER CONSTRUCTION BRIDGE KA HISSA GIRA, KAI MAZDOOR ZAKHMI

دہلی کی 150 سالہ قدیم ریس کورس مسجد کو بچانے کے لئے اے پی سی آر کا بڑا قدم، لیفٹیننٹ گورنرسے فوری مداخلت کا مطالبہ
دہلی کی 150 سالہ قدیم ریس کورس مسجد کو بچانے کے لئے اے پی سی آر کا بڑا قدم، لیفٹیننٹ گورنرسے فوری مداخلت کا مطالبہ — October 21, 2026
نئی دہلی: ایسوسی ایشن فارپروٹیکشن آف سول رائٹس (اے پی سی آر) نے دہلی کے لیفٹیننٹ گورنرترن جیت سنگھ سندھوکوایک تحریری عرضداشت پیش کرکے لودھی روڈ کے جے پورپولوگراؤنڈ میں واقع 150 سال سے زائد قدیم ریس کورس مسجد کومنہدم ہونے سے بچانے کے لیے فوری مداخلت کی اپیل کی ہے۔ تنظیم کے مطابق یہ مسجد ایک باقاعدہ نوٹیفائیڈ وقف جائیداد ہے اوراسے دہلی حکومت کے نوٹیفکیشن میں گریڈ دوم کے تاریخی ورثے کی حیثیت بھی حاصل ہے۔

اے پی سی آرکے نیشنل سکریٹری ندیم خان کی جانب سے پیش کردہ عرضداشت میں کہا گیا ہے کہ مذکورہ مسجد کا اندراج دہلی انتظامیہ کے سرکاری گزٹ میں 8 ستمبر1977 کوسلسلہ نمبر18 کے تحت کیا گیا تھا۔ اس اندراج میں مسجد، حجرہ، کنواں اورقبرستان کا ذکرہے، جوتقریباً دوبیگھہ اراضی پرواقع ہے۔ عرضداشت کے مطابق یکم اکتوبر2026 کودہلی حکومت کے محکمہ شہری ترقیات کی جانب سے جاری نوٹیفکیشن میں بھی اس مقام کو’مسجد اور احاطہ‘ کے طورپرگریڈ دوم کے تاریخی ورثے کی فہرست میں شامل کیا گیا ہے۔


اے پی سی آرنے عرضداشت میں بتایا ہے کہ 17 اکتوبرکولینڈ اینڈ ڈیولپمنٹ آفس (ایل اینڈ ڈی او)، نئی دہلی ریجن کے ڈپٹی افسرکنال بھاسکردیگرحکام کے ساتھ مسجد کے احاطے میں پہنچے تھے، جہاں مبینہ طورپرمسجد کومنہدم کرنے کے ارادے سے آگاہ کیا گیا۔ تنظیم کا کہنا ہے کہ مسجد کومنہدم کرنے کا کوئی حکم جاری نہیں کیا گیا ہے اورنہ ہی اسے کبھی غیرقانونی تعمیریا ناجائزتجاوزات قراردیا گیا ہے۔ ایسے میں مسجد کومنہدم کرنے کی کوئی بھی کوشش غیرقانونی اورمن مانا اقدام ہوگی۔ عرضداشت میں اس بات پرخصوصی زوردیا گیا ہے کہ مسجد اوراس کے آس پاس آباد جھگی بستیوں کی قانونی حیثیت کوالگ الگ دیکھا جانا چاہئے۔ تنظیم کے مطابق اگران بستیوں کوہٹانے کا معاملہ زیرغورہے تواس کا اطلاق تاریخی مسجد پرنہیں کیا جا سکتا، کیونکہ مسجد ان بستیوں سے کہیں قدیم ہے اوراس کی اپنی مستقل قانونی حیثیت ہے۔ جھگیوں کوہٹانے سے متعلق عدالتی احکامات کی آڑمیں مسجد کو خالی کرانے یا منہدم کرنے کی کارروائی ان احکامات کے دائرے سے تجاوزہوگی۔


اے پی سی آرنے کہا کہ معاملے کی سنگینی کے پیش نظروقف جائیدادوں کے تحفظ میں دلچسپی رکھنے والے شہریوں کوبراہ راست لیفٹیننٹ گورنرسے رجوع کرنا پڑا ہے۔ تنظیم نے مطالبہ کیا ہے کہ لیفٹیننٹ گورنرفوری ہدایات جاری کرکے لینڈ اینڈ ڈیولپمنٹ آفس کوریس کورس مسجد منہدم کرنے سے روکیں اوراس تاریخی عبادت گاہ کے تحفظ کے لیے ضروری اقدامات کریں۔ تنظیم کا کہنا ہے کہ مسجد کی نوٹیفائیڈ وقف جائیداد اورگریڈ دوم کے تاریخی ورثے کی حیثیت کا احترام کیا جانا چاہیے اورملحقہ بستیوں کے خلاف کسی بھی کارروائی کے نتیجے میں اس قدیم عبادت گاہ کونقصان نہیں پہنچنا چاہیے۔

نئی دہلی: ایسوسی ایشن فارپروٹیکشن آف سول رائٹس (اے پی سی آر) نے دہلی کے لیفٹیننٹ گورنرترن جیت سنگھ سندھوکوایک تحریری عرضداشت پیش کرکے لودھی روڈ کے جے پورپولوگراؤنڈ میں واقع 150 سال...

Source: Admin
Discussion

Comment
Your View

We'd love to hear your perspective on this article. Join the conversation and share your thoughts below!

Post your comment

0 Comments

No comments

Trending Videos
Instagram
X (Twitter)
LinkedIn