کلکتہ ہائی کورٹ نے مفادِ عامہ کی عرضی کا سہارا لے کر مبینہ طور پر بھتہ خوری کرنے والے وکلائے کرام کے ایک گروہ کے خلاف سخت قدم اٹھاتے ہوئے جمعرات کو از خود نوٹس درج کر لیا ہے۔
الزام ہے کہ وکلائے کرام کا ایک گروپ "عوام کے فائدے" کے نام پر کیس درج کراتا تھا اور بعد میں عمارت کے مالکان کو ”غیر قانونی تعمیرات مسمار کرانے“ کا ڈر دکھا کر رقم وصول کرتا تھا۔
اقبال پور کیس سے ہوا انکشاف: یہ معاملہ اقبال پور کی دو ”غیر قانونی عمارتوں“ کو گرانے کے لیے دائر کی گئی عرضی کے دوران سامنے آیا۔ عدالتی ریکارڈ کی تفتیش سے معلوم ہوا کہ اس عرضی میں شامل بعض وکلاء نے گزشتہ دو سالوں کے دوران ایسی ہی 8 سے 10 عرضیاں دائر کیں اور بعد میں پراسرار طور پر انہیں واپس بھی لے لیا۔
عدالت کا سخت اقدام: معاملے کی سنجیدگی کو دیکھتے ہوئے چیف جسٹس روندرا وی گھوگے کی ڈویژن بینچ نے اس پورے طریقہ کار کی تفتیش کے لیے سینئر وکیل جئےدیپ کر کو ناظر/ایمی کس کیوری مقرر کیا ہے۔
ریاستی حکومت اور کے ایم سی سے رپورٹ طلب: ہائی کورٹ نے ریاستی حکومت کو ہدایت دی ہے کہ وہ کلکتہ سمیت پوری ریاست میں نشان زدہ تمام غیر قانونی تعمیرات کی ایک جامع اور تفصیلی رپورٹ عدالت میں پیش کرے۔
اگلی سماعت: عدالت نے ریاست اور کلکتہ میونسپل کارپوریشن (KMC) کو ہدایت دی ہے کہ وہ ایک بال پور کی عمارتوں سے متعلق اپنا موقف ۲۵ نومبر تک عدالت کے سامنے واضح کریں۔
کلکتہ ہائی کورٹ نے مفادِ عامہ کی عرضی کا سہارا لے کر مبینہ طور پر بھتہ خوری کرنے والے وکلائے کرام کے ایک گروہ کے خلاف سخت قدم اٹھاتے ہوئے جمعرات کو از خود نوٹس درج کر لیا ہے۔...
Source: Admin
Comment
Your View
We'd love to hear your perspective on this article. Join the conversation and share your thoughts below!
Post your comment
0 CommentsNo comments